جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن

Awaz E Bihar•22 ستمبر، 2026 کو 04:11 PM•23 ویوز•7 منٹ پڑھیں

وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے منگل کے روز کہا کہ معیشت میں اس وقت نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے اور سرکاری کام کاج کی آج کی رفتار نے اس پرانے تصور کو بدل دیا ہے کہ انتظامی کام ہے تو تاخیر ہوگی ہی۔
مسز سیتا رمن یہاں مینجمنٹ کے شعبے کے اعلیٰ ادارے - آل انڈیا مینجمنٹ ایسوسی ایشن (اے آئی ایم اے) کی 53ویں آل انڈیا مینجمنٹ کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے اندازاً سرمائے کے اخراجات کو 2026-27 میں بڑھا کر 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ مؤثر سرمائے کا خرچ، جس میں ریاستوں کو سرمائے کے اثاثے بنانے کے لیے مرکز کی طرف سے دی جانے والی گرانٹس بھی شامل ہیں، 17 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا، "حکومت نے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اسے راغب کرنے کے مقصد سے عوام کے سرمائے کے اخراجات کا حکمت عملی کے تحت استعمال کیا ہے اور اس کے نتیجے میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔" انہوں نے کہا کہ مالیاتی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی مستحکم سرمائے کی تشکیل مجموعی گھریلو پیداوار کے 34 فی صد سے زیادہ ہو گئی۔ اس میں حقیقی طور پر تقریباً 12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں صلاحیت کا استعمال بڑھ کر 75 فی صد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کو اس آپریشنل رفتار سے دوہری (بینکوں اور کمپنیوں کی) بیلنس شیٹ کے مسئلے (بینک کا قرض نہ چکا پانے والی کمپنیوں کو بینکوں سے قرض پر قرض ملنے کا مسئلہ) کے حل سے طاقت ملی ہے۔ انہوں نے کہا، "آج ہندوستان دوہری بیلنس شیٹ کے فائدے کی صورتحال میں ہے-تجارتی بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے کافی سیالیت ہے اور کمپنیوں کی مالی حالت سرمایہ کاری کرنے کے لیے کافی مضبوط ہے۔"
وزیر مالیات نے کہا کہ صنعت کے شعبے کے لیے بینک قرض کی نمو میں بھی تیزی آئی ہے۔ اس سال جون میں بینکوں کے قرض کے کاروبار میں سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ قرض ان لوگوں اور شعبوں تک پہنچ رہا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ مسز سیتا رمن نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے آزادانہ تجارتی معاہدے (مختلف ایف ٹی ایز) ہندوستان کی محنت طلب اشیاء اور خدمات کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھول رہے ہیں۔ انہوں نے تجارتی شعبے کو اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔
محترمہ سیتا رمن نے اس کانفرنس کے موضوع - 'مستقبل کے لیے تبدیلی: ثبات کے ساتھ نمو' پر اپنے خطاب میں حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کی رفتار میں تیزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہم بندرگاہوں پر جہازوں میں اینٹری اور ایگزٹ کا وقت ایک دہائی میں تقریباً آدھا ہو گیا ہے، ریل نیٹ ورک اب تقریباً پوری طرح سے برقی ہو چکا ہے اور مال برداری بڑھ کر ریکارڈ 1.67 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے نیز ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے اگست 2026 میں روزانہ اوسطاً تقریباً 79 کروڑ لین دین ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں اور اس مقابلے کے نتیجے میں اعلیٰ قدر والی سرگرمیاں کوئمبٹور، وڈودرا، وشاکھاپٹنم، اندور، بھوبنیشور اور جے پور جیسے ٹائر-2 اور ٹائر-3 مراکز تک پھیل رہی ہیں۔ سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 بھی اسی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں مرکز کے تیار کردہ فریم ورک کے ساتھ ریاستوں کے ذریعے مؤثر عمل آوری کو جوڑا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2024 میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اصلاحات اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا، جس سے بالآخر روزگار اور روزی روٹی کے مواقع بڑھتے ہیں۔ اس سے ہمیں ترقی اور مضبوطی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار نوکری دینے پر انسیٹو دیا، آلات کار کے ریٹائرمنٹ کنٹری بیوشن کا کچھ حصہ بھرا اور کارپوریٹ انٹرنشپ شروع کی - یہ تمام 'روزگار سے جڑے انسیٹو' (ای ایل آئی) اسکیموں کے تحت کیے گئے۔
وزیر مالیات نے کہا کہ مالیاتی سال 2025-26 کے بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرحوں میں کٹوتی کی گئی اور سلیب کا دائرہ بڑھایا گیا، جس سے خرچ کرنے کے قابل آمدنی اور کل مانگ میں اضافہ ہوا۔ ہمارا مقصد صرف اپنانا نہیں، بلکہ قیادت کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مینجمنٹ کی دنیا کو نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، "دہائیوں سے ہم نے 'کائیزن' سے لے کر 'لین مینوفیکچرنگ' تک دوسری جگہوں پر تیار کردہ مینجمنٹ کے طریقوں سے سیکھا ہے۔ اگلا قدم اپنے یہاں مینجمنٹ کے ایسے طریقے بنانا ہے جن کا دنیا مطالعہ کرے اور ایسے معیارات قائم کرنے ہیں جو عالمی اصول بن جائیں۔"
وزیر مالیات نے کہا، "اس کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ ایک ملک کے طور پر ہم مکمل طور پر اہل ہیں؛ ہمیں خود پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔" انہوں نے کہا کہ آج کے منیجرز کو جیو پولیٹیکل اسباب سے سپلائی چینز کے خطرات، موسمیاتی خطرات، بیہیویئرل سائنس، ڈیٹا اور ریگولیٹری و ٹیکنالوجی پر مبنی پروجیکٹ مینجمنٹ کے بارے میں گہری سمجھ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر اے آئی ایم اے کو پوری انڈسٹری میں نصاب کی اصلاح کا اقدام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں ایسے لیڈرز تیار کرنے ہوں گے جو الگ الگ شعبوں کو آپس میں جوڑ سکیں۔ جب ہم 2047 تک 'ترقی یافتہ ہندوستان' کی سمت میں کام کر رہے ہیں، تو ہندوستانی مینجمنٹ کے طریقوں کا تعاون آج ہمارے ذریعے بنائے گئے اداروں کی کوالٹی سے ناپا جائے گا۔" انہوں نے کہا کہ ضرورت نہ صرف بڑی کمپنیاں بنانے کی ہے، بلکہ کمپنیوں کو بہتر بھی بنانا ہے تاکہ وہ مسابقتی، جدت کی راہ میں آگے چلنے والی، قابل اعتماد اور مضبوط ہوں اور آنے والی دہائیوں میں ہندوستان کی قیادت کر سکیں۔
مسز سیتا رمن نے جی ایس ٹی میں ستمبر 2025 میں کی گئی اصلاحات کا ذکر کیا اور اس بار کے بجٹ میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس نظام میں مزید یقین دہانی لانے کے اقدامات کا ذکر کیا۔ وزیر مالیات نے ریاستوں کو 'ریاستوں کو سرمائے کی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امداد' اسکیم کے ذریعے 50 سال کے لیے بغیر سود والے قرض کی اسکیم کا ذکر بھی کیا جس کا کچھ حصہ اصلاحات سے جڑا ہے۔ مرکز نے کئی نئی اسکیمیں ریاستوں کے درمیان مقابلے ('چیلنج') کی بنیاد پر شروع کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ ریاستیں اپنی خوبیوں کا استعمال کریں اور اپنے بہترین تجاویز سامنے لائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا، "اگلے 20 برس میں چیلنج صرف اور زیادہ اسٹارٹ اپس بنانا نہیں ہے۔ چیلنج یہ دیکھنا ہے کہ آج کے کتنے اسٹارٹ اپس بڑی، پیشہ ورانہ طریقے سے چلنے والی اور طویل عرصے تک ٹکنے والی کمپنیاں بن سکتی ہیں۔" انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم اے کے لوگ اور کارپوریٹ دنیا کی شخصیات ان اسٹارٹ اپس کو بانی کی قیادت والے ادارے سے ادارہ جاتی قیادت والی کمپنیوں میں بدلنے کے مشکل مرحلے میں مدد کر سکتے ہیں اور ایسا کرتے وقت وہ اس کاروباری توانائی کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں شروع ہوئی تھیں۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026