ایران کی نظریں بھارت پرمرکوز، بھارت کی نگاہ برکس پر
Awaz E Bihar••20 ویوز•2 منٹ پڑھیں
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی نئی دہلی آمد اور وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات نے بھارت-ایران تعلقات کو برکس اجلاس میں اہمیت دے دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال، باہمی تعلقات اور امن و استحکام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی صدر نے برکس کو تجارت اور مالی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے ادائیگی کے متبادل نظام اور مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے پر زور دیا ہے۔ تہران پر امریکی پابندیوں کے درمیان مقامی کرنسیوں اور متبادل ادائیگی نظام کی بحث ایران کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔بھارت کے لیے ایران کی اہمیت صرف دوطرفہ تجارت تک محدود نہیں ہے۔ چابہار بندرگاہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم راستہ فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے نئی دہلی ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور رابطہ کاری کے منصوبوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔موجودہ جنگ نے بھارت کے لیے سفارتی چیلنج بھی بڑھا دیا ہے۔ نئی دہلی ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ امریکہ، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات کا توازن بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت نے جنگ کے معاملے میں کسی ایک فریق کے ساتھ کھلی صف بندی کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور علاقائی استحکام پر زور دیا ہے۔برکس کے اندر بھی مغربی ایشیا کی جنگ پر تمام ممالک کا موقف یکساں نہیں ہے۔ ایران جہاں تنظیم کو اقتصادی تعاون کے ساتھ عالمی سطح پر یکطرفہ دباؤ کے مقابل ایک مؤثر پلیٹ فارم بنانا چاہتا ہے، وہیں بھارت سمیت بعض ممالک برکس کو کسی مخصوص طاقت کے خلاف اتحاد میں تبدیل کرنے سے گریزاں ہیں۔ایسے میں پزشکیان کا دورۂ ہند اور مودی سے ملاقات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنگ کے ماحول میں بھارت اور ایران اپنے تعلقات کو تجارت، توانائی، چابہار اور علاقائی رابطہ کاری کے نئے امکانات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔برکس اجلاس میں مقامی کرنسیوں، سرحد پار ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات پر بڑھتی توجہ نے بھارت اور ایران کے لیے تعاون کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، تاہم ان امکانات کو عملی شکل دینا دونوں ممالک کی سفارتی حکمت عملی کا اگلا امتحان ہوگا۔