جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران نے امریکہ کو صاف کہہ دیاامریکہ غلط فہمی کے شکار ‘ حملہ ہوا تو امریکہ تباہ ہو جائے گا
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران نے امریکہ کو صاف کہہ دیاامریکہ غلط فہمی کے شکار ‘ حملہ ہوا تو امریکہ تباہ ہو جائے گا

Awaz E Bihar•23 جنوری، 2026 کو 02:31 PM•0 ویوز•4 منٹ پڑھیں

واشنگٹن،23جنوری(ایجنسی)۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے گذشتہ روز جمعرات کو واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ عوامی احتجاجات کے بعد تہران کا "ہاتھ بندوق کے گھوڑے (Trigger) پر ہے"، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں دل چسپی رکھتا ہے۔جون میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 12 روزہ جنگ، جس میں واشنگٹن نے بھرپور تعاون اور شرکت کی تھی، کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا آپشن کھلا رکھا ہے۔ اس جنگ کا اعلان کردہ مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو کمزور کرنا تھا۔ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ایک "بڑا امریکی فوجی بیڑہ" خلیج کی جانب بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ "ہم ایران کی نگرانی کر رہے ہیں"۔دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے دو ہفتوں کے احتجاجات نے علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا، تاہم کریک ڈاؤن کے بعد یہ تحریک سرد پڑ گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ بلاک کر دیا گیا۔اگرچہ گذشتہ ہفتے کے دوران ایران کے خلاف فوری امریکی فوجی کارروائی کا امکان کم ہوتا نظر آیا کیونکہ دونوں فریقوں نے سفارت کاری کو موقع دینے کی بات کی، تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اب بھی مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے گذشتہ سال ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی تاکہ تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اپنے پروگرام کے سویلین ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ امریکی صدر نے کہا "ہم ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے"، انہوں نے مزید کہا کہ "ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور ہم بات کریں گے"۔ڈیووس سے واپسی پر اپنے صدارتی طیارے 'ایئر فورس ون' پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دوبارہ کہا کہ "ہم ایران پر نظر رکھے ہوئے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری ایک بڑی قوت ایران کی طرف بڑھ رہی ہے، میں کچھ برا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا لیکن ہم ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں"۔ انہوں نے اس قوت کو ایک "جنگی بیڑہ" اور "بہت بڑا بیڑہ" قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ "شاید ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے"۔ایران کے حوالے سے اپنے بدلتے ہوئے بیانات کے سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے، ٹرمپ نے منگل کے روز ایرانی رہنماؤں کو متنبہ کیا تھا کہ اگر خامنہ ای کو نشانہ بنانے والی ممکنہ ضرب کے جواب میں ان کی اپنی ذات پر کوئی حملہ ہوا تو امریکہ انہیں "روئے زمین سے مٹا دے گا"۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو اپنے خطاب میں امریکہ اور اسرائیل پر احتجاجات بھڑکانے کا الزام لگایا اور اسے "12 روزہ جنگ میں شکست کا بزدلانہ انتقام" قرار دیا۔اس تناظر میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور نے اسرائیل اور امریکہ کو "غلط فہمی" کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ کے تجربات اور 12 روزہ جنگ سے سبق حاصل کریں تاکہ مزید دردناک انجام سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا "پاسدارانِ انقلاب اور عزیز ایران کا ہاتھ ٹرگر پر ہے اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ الرٹ اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں"۔پاکپور کا یہ بیان سرکاری ٹیلی ویڑن پر ایران کے قومی دن کے موقع پر ایک تحریری پیغام کی صورت میں سامنے آیا۔ پاکپور نے گذشتہ سال حسین سلامی کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی کمان سنبھالی تھی، جو اسرائیلی حملوں میں کئی دیگر فوجی کمانڈروں کے ساتھ مارے گئے تھے۔
ادھر "خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر" کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی عبداللہ علی آبادی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو تمام امریکی مفادات، اڈے اور مراکز ایرانی مسلح افواج کے لیے "جائز ہدف" ہوں گے۔بدھ کے روز ایرانی حکام نے احتجاجات میں ہونے والی ہلاکتوں کے پہلے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے۔ سرکاری ٹیلی ویڑن کے مطابق احتجاج کی اس لہر میں مجموعی طور پر 3117 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 2427 افراد کو "شہید" قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ "بے گناہ" تھے، جن میں بڑی تعداد راہگیروں کی تھی جو فائرنگ کی زد میں آئے۔صدر پزشکیان نے جمعرات کو کہا کہ احتجاج شہریوں کا "فطری حق" ہے، لیکن مظاہرین اور ان لوگوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے "جن کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں"۔

شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026