جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران نے قاسم بصیر میزائل کی رونمائی کردی
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران نے قاسم بصیر میزائل کی رونمائی کردی

Awaz E Bihar•8 ستمبر، 2026 کو 03:34 PM•17 ویوز•6 منٹ پڑھیں

ایران کی جانب سے قاسم بصیر بیلسٹک میزائل کی رونمائی تہران کی دفاعی بازداریت کی حکمت عملی میں ممکنہ طور پر ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں ملک نے درست نشانہ سازی، حملے سے بچاؤ کی صلاحیت اور تنازع بڑھنے سے قبل دشمنوں کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت پر زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والا یہ میزائل الیکٹرو آپٹیکل رہنمائی کے نظام سے لیس ہے اور نصف ٹن وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے ایران کے بڑھتے ہوئے میزائل ذخیرے میں محض ایک اور میزائل کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کی تیاری اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جسے ایرانی حکام تیزی سے ایک بنیادی طور پر ردعمل پر مبنی مؤقف سے زیادہ فعال نوعیت کی بازداریت کی جانب پیش قدمی قرار دے رہے ہیں۔
اس ابھرتی ہوئی حکمت عملی کے تحت ایران کا مقصد صرف حملے کے بعد جوابی کارروائی کرنا نہیں بلکہ اس وقت بھی ردعمل دینا ہوگا جب وہ یہ طے کرے کہ ایک سنگین اور فوری خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس سوچ کے مطابق مقصد ممکنہ حملے کے مکمل پیمانے پر پہنچنے سے پہلے ہی دشمن پر اس کی قیمت عائد کرنا ہے۔
یہ تبدیلی ایران کی میزائل، ڈرون، بحری اور جاسوسی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے اور اعلیٰ سطح کے ایرانی سکیورٹی حکام کے زیادہ جارحانہ بیانات کے درمیان سامنے آئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایسی فوجی پوزیشن تشکیل دینے کی کوشش کی نشاندہی کرتی ہے جو حملہ شروع ہونے سے پہلے دشمن کے منصوبوں کا پتا لگانے، اسے نشانہ بنانے کی دھمکی دینے اور ممکنہ طور پر اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
یہ نظریہ بازداریت کے روایتی فارمولے ’’وہ حملہ کریں، ہم جواب دیں‘‘ سے مختلف ہے۔ اس کے بجائے تہران ایسی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ یہ طے کر سکے کہ کسی خطرے کے اس کی نظر میں اہم حد عبور کرنے کے بعد کب اور کہاں جواب دینا ضروری ہے۔
قاسم بصیر کو اس حکمت عملی میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کی اہمیت صرف اس کی مبینہ مار یا وار ہیڈ تک محدود نہیں بلکہ ایران جس قدر درست رہنمائی اور جدید میزائل دفاعی نظاموں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت پر زور دے رہا ہے، وہ بھی اہم ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے یہ اطلاع دی۔
جدید جنگ میں بیلسٹک میزائل کی بازدار صلاحیت کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کتنی دور تک جا سکتا ہے یا اس کا وار ہیڈ کتنا بڑا ہے، بلکہ اس کی یہ صلاحیت بھی اہم ہے کہ وہ اہم اہداف کو درست نشانہ بنا سکے، دفاعی اقدامات سے بچ سکے اور تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کر سکے۔لہٰذا ایران کی جانب سے قاسم بصیر کی پیشکش اس کے میزائل پروگرام میں وسیع تر ارتقا کی عکاسی کرتی ہے، جس میں بنیادی توجہ صرف مار اور تباہ کن طاقت پر رکھنے کے بجائے زیادہ درستگی، حملے سے بچاؤ کی صلاحیت اور مختلف اہداف میں امتیاز کرنے کی صلاحیت پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
اس ارتقا کے ساتھ جاسوسی اور ہدف بندی کے نظام، ڈرونز، جہاز شکن ہتھیاروں اور زیادہ فاصلے سے حملے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں میں سرمایہ کاری بھی جاری ہے۔ مجموعی طور پر یہ نظام ایران کو دشمن کے فوجی ڈھانچے اور دیگر تزویراتی اہداف کو خطرے میں رکھنے کے لیے زیادہ وسیع اختیارات فراہم کر سکتے ہیں۔
لہٰذا ایران کی ابھرتی ہوئی فوجی پوزیشن کا سب سے اہم پہلو ٹیکنالوجی کے بجائے اس کی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی ہے۔ایران نے قاسم بصیر میزائل کی رونمائی کردی، فعال بازداریت کی جانب پیش قدمی کا اشارہاب معاملہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو ایک فوری خطرہ قرار دیتے ہوئے تہران کے خلاف فوجی کارروائی کو جائز سمجھا ہے، اس لیے بازداریت اور پیشگی کارروائی کے درمیان فرق مزید دھندلا سکتا ہے۔ ایسی پوزیشن ایران کو یہ مؤقف اختیار کرنے کی گنجائش دے سکتی ہے کہ حملے کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائی خود بازداریت کا ایک عمل ہے۔چنانچہ قاسم بصیر کو محض ایک اور بیلسٹک میزائل کے طور پر نہیں بلکہ ایران کی فوجی حکمت عملی کو ازسرنو تشکیل دینے کی وسیع تر کوشش کے ایک حصے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد حملہ برداشت کرنے اور بعد میں جوابی کارروائی کرنے سے آگے بڑھ کر ایسی صلاحیت اور اعتبار پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے ایران دشمن کے حملے سے پہلے کارروائی کر سکے۔
ایرانی نائب اسپیکر علی نیک زاد کے بیان سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی جنگی جہازوں پر حملے اور ان کے کمانڈروں کے ہیڈکوارٹرز کی تباہی ایران کی مکمل فوجی صلاحیت کا صرف ایک معمولی حصہ ہے۔
نیک زاد نے منگل کو پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گمراہ امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پہلے ہی داغدار بین الاقوامی ساکھ کو مزید نقصان پہنچانے سے گریز کرے اور مغربی ایشیا اور خلیج فارس سے فوری طور پر انخلا کرے۔
انہوں نے کہا کہ شادی کی تقریب پر حملہ کسی صورت تکنیکی غلطی نہیں تھا، انہوں نے مزید کہا کہ استعمال کیے گئے میزائل کی نوعیت اور شادی کی تقریب کا ٹیلی مواصلاتی ٹاور سے فاصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگی جرم تھا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران یہ تنازع ''انتہائی احتیاط سے طے کیے گئے اور تزویراتی طور پر وضع کردہ منصوبوں'' کے مطابق لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے اس خطے میں اڈے قائم کیے تھے اور آج ایران کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے ان کی تباہی کے بعد وہ ہوٹلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے نو منتخب سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ تہران کے مطابق ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کے خلاف ذمہ دارانہ ردعمل کا اظہار کریں۔ انہوں نے طاقت کے استعمال اور جارحیت کی کارروائیوں کی مخالفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
عراقچی نے طہٰ کو ان کی تقرری پر مبارک باد دی اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں او آئی سی اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز اور حالات سے نمٹنے کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور رابطہ کاری مضبوط بنانے کی خاطر اپنی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرے گی۔
گفتگو کے دوران عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے بعد خطے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اسلامی ممالک کی جانب سے ذمہ دارانہ ردعمل کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے قومی خودمختاری کے دفاع، علاقائی سالمیت کے تحفظ اور طاقت کے استعمال و جارحیت کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026