ایران کا جوہری بم حاصل کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول : ٹرمپ
Awaz E Bihar••3 ویوز•5 منٹ پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پوپ لیو کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دینا چاہیے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کوئی پوپ لیو کو بتائے کہ ایران نے گزشتہ 2 ماہ میں کم از کم 42 ہزار نہتے اور معصوم مظاہرین کو قتل کیا ہے اور ایران کا جوہری بم حاصل کرنا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2 روز قبل ٹرمپ نے پوپ لیو کو جرائم پر کمزور اور خارجہ پالیسی میں ناکام قرار دیا تھا۔ امریکی صدر کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں آئے ہیں جب پوپ لیو جو پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں، انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی ایران پر تھوپی گئی جنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ پوپ کا ٹرمپ کے ریمارکس کے جواب میں کہنا تھا کہ مجھے ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی خوف نہیں اور میں جنگ کی ہولناکیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہوں گا۔ امریکی سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے چک شومر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جسے 'آپریشن ایپک فیوری' کہہ رہے ہیں، وہ حقیقت میں ایک 'ایپک فیلئر' (بہت بڑی ناکامی) ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہوئے 45 دن گزر جانے کے باوجود صورتحال قابو میں آنے کے بجائے مزید بگڑ چکی ہے۔ چک شومر نے صورتحال کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج آبنائے ہرمز کی بندش برقرار ہے، عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ایران کا جوہری پروگرام مزید فعال ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ کانگریس کو چاہیے کہ وہ حکومت کا سخت احتساب کرے اور اس معاملے پر باقاعدگی سے قراردادیں پیش کی جائیں تاکہ انتظامیہ کی جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کی شخصیت پر حملہ کرتے ہوئے چک شومر نے مزید کہا کہ پوپ کی توہین کر کے ٹرمپ اخلاقیات کی ایک نئی نچلی سطح پر گر گئے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ خود کو بائبل کا مداح بتانے والا اور اسے اپنی پسندیدہ کتاب قرار دینے والا شخص بائبل کی ایک آیت تک سنانے سے قاصر ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی کی مدت میں توسیع نہیں کرے گا۔ اس نرمی کا مقصد جنگ کی وجہ سے تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل کو کم کرنا تھا۔ محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ سمندر میں موجود ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والی قلیل مدتی رعایت چند دنوں میں ختم ہو جائے گی اور اس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ تہران پر 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ابتدائی طور پر دی گئی اس رعایت کے تحت 20 مارچ سے قبل بحری جہازوں پر لدے ہوئے ایرانی خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی تھی، جس کی مدت 19 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا حصہ تھا، جس میں روسی تیل پر عائد پابندیوں میں بھی ایسی ہی نرمی دی گئی تھی۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو روک دیا ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اس کے حمایت یافتہ گروپوں کی وجہ سے اس پر سخت ترین دباؤ ڈال رہی ہے، تاہم پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی چین کو فروخت جاری رہی۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران پر یورینیئم افزودگی سے متعلق عائد کی جانے والی کوئی بھی پابندی ایک سیاسی فیصلہ ہو گا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران پر عائد کی جانے والی یورینیئم افزودگی سے متعلق پابندی کی مدت کا تعین کرنا تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا فیصلہ تصور کیا جائے گا۔ گروسی نے کہا کہ یہ طے کرنا کہ ایران کتنے عرصے تک افزودگی سے باز رہے گا، متعلقہ فریقین کی سیاسی حکمتِ عملی اور مذاکرات پر منحصر ہوگا۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے، اہم اختلافات پر کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا۔