جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

Awaz E Bihar•26 اگست، 2026 کو 03:00 PM•13 ویوز•6 منٹ پڑھیں

ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ دونوں ممالک اس اہم آبی گزرگاہ میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے ایک ’’مرحلہ وار فریم ورک‘‘ پر بات چیت کر رہے ہیں۔
اس تجویز کے ذریعے مستقل بحری راستے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق مذاکرات کی بنیاد بھی تیار کی جائے گی۔تہران نے امریکہ کے سامنے ایک شرط رکھی ہے اور اصرار کیا ہے کہ جہاز رانی کی بحالی سے قبل واشنگٹن کو ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ بھی ختم کرنا ہوگی۔عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی عارضی بحری راہداری اور محفوظ جہاز رانی کی بحالی کے انتظامات کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے کے مستقبل کے انتظام اور مستقل حل پر بعد میں بات کی جائے گی، جبکہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات امن و تعاون، استحکام اور آزادیٔ جہاز رانی کے فروغ میں معاون ہوں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ عارضی انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا انحصار تہران کے مطالبات پورے ہونے پر ہے۔
غریب آبادی نے بدھ کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو اپنی ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
انہوں نے ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کو عارضی قرار دیا اور کہا کہ مستقل راستہ قائم کرنے کے لیے مزید مذاکرات ہوں گے، جن میں 30 سے 60 دن لگنے کی توقع ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق غریب آبادی نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے امریکہ کو ان تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا جن کی اس نے خلاف ورزی کی ہے۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ناکہ بندی ختم کرنا کافی نہیں ہوگا۔غریب آبادی نے کہا، آبنائے ہرمز کے بدلے میں صرف ناکہ بندی ختم کرنا ہی واحد شرط نہیں ہے۔ ایک اور مسئلہ جنگ کا خاتمہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کا تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر مستقل اور پائیدار انداز میں خاتمہ ضروری ہے۔غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے مجوزہ انتظام میں عمانی ساحل کے ساتھ موجود جنوب کی جانب اقوام متحدہ سے مجاز بحری راستے کو بند کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے، جس کی تہران مخالفت کرتا ہے۔ تاہم عمان کے ابتدائی بیان میں ایسے کسی راستے کو بند کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ملک کے خلاف تازہ جارحیت شروع کیے جانے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے جون میں پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت آبنائے کو 60 دن کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم تہران کے مطابق امریکی خلاف ورزیوں کے باعث اسے دوبارہ بند کرنا پڑا۔تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے متعدد شرائط رکھی ہیں، جن میں علاقائی بحری آمدورفت میں امریکی مداخلت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ بند کر دیا جائے گا۔ ایران کا الزام ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں کے تحت امریکہ عمانی ساحل کے ساتھ واقع جنوبی راستے سے بحری جہازوں کو غیر قانونی طور پر لے جانے کی کوشش کرے گا۔
ایران سے وابستہ پریس ٹی وی کے مطابق متبادل انتظام کے تحت بحری جہاز دونوں سمتوں میں ایرانی پانیوں سے گزریں گے۔
یہ تجویز تہران اور مسقط کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کا معاملہ تعطل کا شکار امریکہ-ایران مذاکرات میں ایک اہم سودے بازی کا نقطہ بن گیا ہے۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانیوں پر مشتمل ہے اور اس نے علاقے میں بحری کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ انہوں نے نئی بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ٹرمپ نے کہا، ہم آبنائے کے ایک ایک انچ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، واشنگٹن نے تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ہوا بازی، جہاز رانی، ٹیکنالوجی، سونے اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت مختلف شعبوں کو نشانہ بناتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس حکمت عملی کو اقتصادی دم گھونٹنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مقصد ایران کی حکومت کو سہارا دینے والی ہر اقتصادی زندگی کی لکیر کاٹنا ہے۔نئی پابندیوں نے پہلے ہی کئی برسوں سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے والے بعض ایرانیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
تہران کے ایک شہری نے کہا کہ یہ پابندیاں 47 سال سے نافذ ہیں اور الزام لگایا کہ واشنگٹن اضافی اقتصادی دباؤ کے ذریعے ملک کے کسی حصے یا پورے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکی پابندیوں کے تازہ اعلان کے بعد تہران کے پٹرول پمپس پر طویل قطاریں بھی دیکھنے میں آئیں۔
قطر نے بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے منگل کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے فون پر مجوزہ عارضی بحری راہداری کے بارے میں بات کی۔
عراقچی نے کہا کہ مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن اور استحکام کے لیے ایران کے عزم کے ساتھ اپنے ہمسایوں کے ساتھ مستقل سفارت کاری بھی جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوششیں بھی تیز کر رہا ہے۔
ایرانی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا کہ ملک نے تنازعے سے سبق سیکھا ہے اور وہ نئے نظام اور سازوسامان تیار کر رہا ہے، جو مکمل طور پر ایرانی علم اور مہارت پر مبنی ہوں گے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026