جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران فضائی دفاع مضبوط بنانے کے لیے چینی پورٹیبل دفاعی نظام اپنانے کی تیاری میں ہے:ذرائع
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران فضائی دفاع مضبوط بنانے کے لیے چینی پورٹیبل دفاعی نظام اپنانے کی تیاری میں ہے:ذرائع

Awaz E Bihar•29 جولائی، 2026 کو 04:49 PM•23 ویوز•4 منٹ پڑھیں

تہران :تین باخبر ذرائع کے مطابق ایران آئندہ چند ہفتوں میں چین سے کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی نظاموں (MANPADS) کی پہلی کھیپ وصول کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔یہ معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والی فوجی جھڑپوں کے بعد ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت ایران 300 سے 400 تک چینی ساختہ QW-12 اور FN-16 ماڈل کے فضائی دفاعی نظام خریدے گا، جن کی مجموعی مالیت 60 سے 70 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
یہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران کی قلیل فاصلے کی فضائی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہونے والے بڑے معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ معاہدہ ہانگ کانگ میں قائم کمپنی Zhongqing Baoshang International Investment کے ذریعے طے پایا، جس نے ایرانی فریق اور چینی سپلائر کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔
کئی ماہ کی جنگ کے بعد دفاعی صلاحیت بڑھانے کی کوششیہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی ماہ تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد اپنی مسلح افواج کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان حملوں میں میزائل پروگرام، ڈرونز اور فضائی دفاع سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی متعدد لہریں داغیں۔رپورٹ کے مطابق اس جنگ نے واضح کر دیا کہ جدید جنگی طیاروں اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کے مقابلے میں ایران کو اپنی فوجی تنصیبات اور حساس اسٹریٹجک مقامات کے تحفظ کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
اگرچہ امریکہ نے چند روز قبل بمباری کی مہم روک دی تھی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانچ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہوئے تو فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
چین کی تردید، پاکستان نے بھی الزامات مسترد کر دیے۔دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ رپورٹس بے بنیاد ہیں۔
وزارت کے مطابق چین خطے میں امن کے قیام اور تنازع کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت میں اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔ادھر پاکستان نے بھی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی ہتھیار ایران منتقل کرنے کے لیے پاکستانی سرزمین کو راہداری کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان الزامات کو من گھڑت اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی منصوبے کے تحت اسلحے کی کھیپ چین کے مغربی شہر اورومتچی (Urumqi) سے فضائی راستے کے ذریعے روانہ کی جانی تھی، جسے بعد ازاں پاکستانی حدود سے گزر کر ایران پہنچایا جانا تھا، تاہم نقل و حمل کے حتمی انتظامات میں اب بھی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی اور ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق تہران نے فوجی سازوسامان اور دوہرے استعمال (Dual-use) والے آلات کی خفیہ ترسیل کے لیے زمینی راستوں کے استعمال پر بھی غور کیا، تاکہ سپلائی لائن میں رکاوٹ کے خطرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
نئے فضائی دفاعی نظاموں کی اہمیت
QW-12 اور FN-16 کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل (MANPADS) ہیں، جو انفرا ریڈ (Infrared) رہنمائی نظام سے کام کرتے ہیں۔ یہ کم بلندی پر پرواز کرنے والے جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ نظام QW-18 اور QW-19 جیسے جدید ماڈلز کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہیں، تاہم یہ فوجی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو ڈرون حملوں اور کم بلندی پر آنے والے اہداف سے بچانے کے لیے مؤثر دفاعی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ برسوں سے جاری پابندیوں اور دفاعی درآمدات پر عائد سخت پابندیوں کے باوجود ایران اب بھی اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی فوجی پیداوار اور بیرونِ ملک سے درآمدات، دونوں پر انحصار کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں رائٹرز نے یاد دلایا کہ اس نے پہلے بھی رپورٹ دی تھی کہ ایران چین کے ساتھ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے کروز میزائلوں کے حصول کے لیے ایک الگ معاہدے کے قریب پہنچ گیا تھا، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا وہ معاہدہ عملی طور پر نافذ بھی ہوا یا نہیں۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026