تہران :امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امیدوں میں کمی کے دوران ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ملک کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انہوں نے آج منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا: ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، تاہم ہماری توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی حکام ملکی اور عوامی مفادات پر مبنی سفارتی راستے اور حل کے لیے پرعزم ہیں، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا نے رپورٹ کیا۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا کہ غلط حکمت عملی اور غلط فیصلے ہمیشہ غلط نتائج تک لے جاتے ہیں، یہ بات دنیا بھر نے سمجھ لی ہے۔انہوں نے مزید کہا: ہم تمام آپشنز کے لیے کھلے ہیں… اور وہ حیران رہ جائیں گے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی تجویز پر دیا گیا جواب بہت منفی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی معاہدہ ’’انتہائی نازک صورتحال‘‘ میں ہے، جس سے دوبارہ جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔دوسری طرف امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اب فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زیادہ سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا۔حکام نے مزید بتایا کہ ٹرمپ اس بات پر بھی برہم ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش جاری رکھے ہوئے ہے، انہیں ایران کی قیادت میں اندرونی اختلافات بھی نظر آ رہے ہیں جو جوہری مذاکرات میں پیش رفت کو روک رہے ہیں۔اسی دوران پاکستان جو ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، دونوں فریقین کو قریب لانے اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اس وقت سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام کا ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرے اور اندرونی سطح پر افزودگی مکمل طور پر بند کرے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ ان معاملات پر بات چیت بعد کے مرحلے میں ہونی چاہیے۔