اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی مسجد کو نذرِ آتش کر دیا :فلسطینی حکام
Awaz E Bihar••3 ویوز•2 منٹ پڑھیں
مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں نے رات کے وقت ایک مسجد کو آگ لگا دی، جبکہ دو گھروں اور ایک ڈیری فیکٹری کو بھی نقصان پہنچایا۔ فلسطینی حکام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے منظم حملہ قرار دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گاؤں التوانی کی کونسل کے سربراہ محمد ربیع نے بتایا کہ دو درجن سے زائد، جن میں بعض نقاب پوش آبادکار بھی شامل تھے، رات کے وقت التقویٰ مسجد میں داخل ہوئے اور اسے نذرِ آتش کر دیا۔ حملہ آوروں نے دو رہائشی مکانات اور خواتین کے زیرِ انتظام چلنے والی ایک ڈیری فیکٹری کو بھی آگ لگا دی، جبکہ مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے۔انہوں نے کہا کہ گاؤں کے مکین گھروں سے باہر نکل آئے، جس پر آبادکار فرار ہو گئے، جبکہ مقامی رضاکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے پہلے بجھا دیا۔عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے داخلی دروازے، کھڑکیاں اور نماز کی صفوں کا ایک حصہ آگ سے متاثر ہوا، جبکہ ڈیری فیکٹری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ محمد ربیع نے کہا کہ خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ گاؤں میں ایک گاڑی، عبادت گاہ کے دروازے اور دیگر املاک کو نقصان پہنچانے اور دیواروں پر گرافٹی بنانے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔فلسطینی کارکن اسامہ المخامرہ نے الزام لگایا کہ حملہ اسرائیلی فوج کی موجودگی میں ہوا، جبکہ محمد ربیع کے مطابق اسرائیلی فوج، پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکار تقریباً آدھے گھنٹے بعد گاؤں پہنچے اور نقصان کا جائزہ لیا۔فلسطینی وزارتِ مذہبی امور نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "مکمل دہشت گرد کارروائی" قرار دیا اور الزام لگایا کہ اسرائیل کی انتہا پسند قابض حکومت آبادکاروں کے تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ فلسطینیوں کو مسافر یطا کے علاقے سے بے دخل کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اوسطاً روزانہ چھ حملے ایسے ہوتے ہیں جن سے جانی یا مالی نقصان پہنچتا ہے۔