جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایم ایم ڈی آر ترمیم کی مخالفت پر جھامومو-کانگریس کا رویہ محض سیاسی ڈرامہ: بابولال مرانڈی
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

ایم ایم ڈی آر ترمیم کی مخالفت پر جھامومو-کانگریس کا رویہ محض سیاسی ڈرامہ: بابولال مرانڈی

Awaz E Bihar•17 اگست، 2026 کو 05:50 PM•42 ویوز•4 منٹ پڑھیں

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے بیان سمیت انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے ایم ایم ڈی آر ترمیمی بل کی مخالفت پر اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جھامومو) اور کانگریس کا اس معاملے پر احتجاج محض سیاسی ڈرامہ ہے۔
پارٹی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مرانڈی نے کہا کہ ہیمنت حکومت اس بل کے بہانے گھٹیا سیاست کرتے ہوئے ریاست کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔مسٹر مرانڈی نے ہیمنت سورین، جھامومو اور کانگریس کو اس معاملے پر ابہام اور گمراہ کن سیاست سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو لے کر غیر ضروری سیاست کی جا رہی ہے اور صرف طلبہ کے مطالبات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایم ایم ڈی آر بل کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
مسٹر مرانڈی نے کہا کہ ایم ایم ڈی آر ترمیمی بل 2026 کے سلسلے میں جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے پھیلایا جا رہا ابہام حقائق کے برعکس ہے۔ بل کا مقصد ریاستوں کی کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی چھیننا نہیں ہے۔ رائلٹی، ڈی ایم ایف، این ایم ای ٹی، نیلامی پریمیم اور جی ایس ٹی میں ریاستوں کا حصہ بدستور برقرار رہے گا اور کان کنی کے شعبے سے ہونے والی ادائیگیوں کا تقریباً 90 فیصد حصہ ریاستوں کو ملتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ 2014-15 سے 2024-25 کے درمیان ریاستوں کی معدنی آمدنی تقریباً 354 فیصد بڑھ کر 25,206 کروڑ روپے سے 1,14,549 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ 2014-15 میں مجموعی معدنی آمدنی میں ریاستوں کا حصہ صرف 60 فیصد تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 88 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔ ایسے میں یہ کہنا کہ مرکز ریاستوں کی معدنی آمدنی چھین رہا ہے، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
مسٹر مرانڈی نے کہا کہ جھارکھنڈ کا اصل مسئلہ مرکز نہیں بلکہ ریاستی حکومت کی اپنی معدنی پالیسی ہے۔ حکومت نے لوہے کی دھات پر 600 روپے فی ٹن کا یکساں سیس عائد کر دیا ہے، جو چھتیس گڑھ میں عائد 22.50 روپے فی ٹن کے مقابلے میں تقریباً 27 گنا زیادہ ہے۔ اس سے خاص طور پر کم درجے کے لوہے کی دھات کی پیداوار اور مارکیٹ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے پر بھی ریاستی حکومت نے محض 16 ماہ میں سیس 100 روپے سے بڑھا کر 450 روپے فی ٹن کر دیا۔ اسی دوران بی سی سی ایل کی 2025-26 میں پیداوار 40.50 ملین ٹن سے گھٹ کر 35.52 ملین ٹن رہ گئی، یعنی 12.3 فیصد کی کمی ہوئی۔
مسٹر مرانڈی نے کہا کہ اگر حکومت معدنی آمدنی بڑھانا چاہتی ہے تو اسے پہلے اپنی کانوں کو فعال کرنا چاہیے۔ گزشتہ چھ برسوں میں جھارکھنڈ نے صرف چار کانوں کی نیلامی کی اور ان میں سے ایک بھی فعال نہیں ہو سکی۔ اس کے برعکس اڈیشہ نے 35 کانیں شروع کرکے تقریباً 87,000 کروڑ روپے کا نیلامی پریمیم حاصل کیا۔ جھارکھنڈ کو نیلامی پریمیم سے صفر آمدنی ہوئی۔مسٹر مرانڈی نے کہا کہ اس کا اثر پیداوار پر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان اڈیشہ کی لوہے کی دھات کی پیداوار تقریباً 120 ملین ٹن سے بڑھ کر 180 ملین ٹن ہو گئی، جبکہ جھارکھنڈ کی پیداوار تقریباً 23 ملین ٹن پر ہی برقرار رہی۔ ملک کے تقریباً 40 فیصد معدنی ذخائر رکھنے والا جھارکھنڈ اپنی معدنی دولت کا بھی مناسب استعمال نہیں کر پا رہا ہے۔
مسٹر مرانڈی نے کہا کہ ایم ایم ڈی آر ترمیم کا معمولی معدنیات، ریت اور پتھر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ان پر ریاستوں کا کنٹرول بدستور برقرار رہے گا۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں کی ذمہ داری مرکز پر ڈال رہی ہے۔ مغربی سنگھ بھوم میں لیز کی تجدید میں تاخیر سے کان کنی اور مقامی روزگار متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم ایف کے نام پر بھی مرکز کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔ جھارکھنڈ میں ڈی ایم ایف کے تحت تقریباً 19,000 کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں، جبکہ صرف مغربی سنگھ بھوم میں تقریباً 3,700 کروڑ روپے جمع ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کان کنی سے متاثرہ علاقوں اور دیہی باشندوں کی ترقی میں اس رقم کا مؤثر استعمال کیوں نہیں ہوا۔
مسٹر مرانڈی نے کہا کہ ایم ایم ڈی آر ترمیم کی مخالفت کے معاملے میں جھامومو-کانگریس کا رویہ بھی سیاسی ڈرامہ ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران جھامومو-کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کی غیر موجودگی ان کی مبینہ مخالفت کی سنجیدگی پر سوال کھڑے کرتی ہے۔ طلبہ مسلسل اپنے حقوق اور بھرتی کے امتحانات میں شفافیت کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان مسائل کا جواب دینے کے بجائے عوام کی توجہ بھٹکانے میں مصروف ہے۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026