جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کاکروچ جنتا پارٹی کے سامنے جھکی سرکار‘ نڈا سے ہوئی ملاقات‘ طلبا پر لاٹھی چارج
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

کاکروچ جنتا پارٹی کے سامنے جھکی سرکار‘ نڈا سے ہوئی ملاقات‘ طلبا پر لاٹھی چارج

Awaz E Bihar•20 جولائی، 2026 کو 07:40 PM•25 ویوز•8 منٹ پڑھیں

مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کے حق میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی کال پر ہزاروں مظاہرین نے پیر کو راجدھانی میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا لیکن پولیس نے جگہ جگہ انہیں روک دیا۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن راجدھانی میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے درمیان مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی مقامات پر ہلکی جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا اور مظاہرین کو حراست میں لینے جیسی کارروائی کی، جبکہ مظاہرے کے درمیان مرکزی سرکار نے سی جے پی کے ساتھ باضابطہ بات چیت بھی شروع کر دی۔ سی جے پی نے اپنے مطالبات کی حمایت میں لوگوں سے جنتر منتر پر جمع ہونے اور پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کی اپیل کی تھی۔ صبح سے ہی جنتر منتر کی طرف مختلف سمتوں سے بڑی تعداد میں لوگ پہنچنے لگے۔ ہاتھوں میں ترنگا اور وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے پوسٹرز لیے مظاہرین جنتر منتر سے جے سنگھ مارگ ہوتے ہوئے پارلیمنٹ مارگ کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس نے پارلیمنٹ مارگ پر بیریکیڈ لگا کر انہیں روک دیا اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مطلع کیا کہ آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجود مظاہرین آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور دہلی پولیس نے بھیڑ پر قابو پانے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا۔
اس درمیان، دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس‘ پر جاری بیان میں میڈیا کے کچھ حصوں میں نشر ہونے والی تشدد اور حراست سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی مظاہرے کو پیشہ ورانہ طریقے سے سنبھالا جا رہا ہے اور کسی بھی طرح کی افواہ پر دھیان نہ دیا جائے۔ پولیس نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی۔
دوسری طرف، مظاہرین نے دیگر سمتوں سے بھی پارلیمنٹ کی طرف بڑھنا جاری رکھا۔ کچھ مظاہرین بیریکیڈ پار کر کے پارلیمنٹ کے نزدیک ریل بھون چوراہے تک پہنچ گئے، جہاں سکیورٹی فورسز نے ان پر آنسو گیس کے کئی گولے چھوڑے۔ کئی مظاہرین سڑک پر بیٹھ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ پولیس افسران کی طرف سے سمجھانے کے باوجود ان کے نہ ہٹنے پر ہلکی طاقت کا استعمال کر کے انہیں پیچھے دھکیلا گیا اور بعد میں سڑک خالی کرا لی گئی۔ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں کئی مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔ پٹیل چوک پر بھی مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔
تحریک کے درمیان مرکزی سرکار نے سی جے پی سے بات چیت کی پہل کی۔ پارٹی کے ترجمان سوربھ داس اور لیڈر آشتوش رانکا نے مرکزی وزیرِ صحت جے پی نڈّا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ مسٹر داس نے بتایا کہ دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کے بعد تقریباً دس منٹ تک ہوئی میٹنگ میں انہوں نے پارٹی کے مطالبات کا تحریری میمورنڈم سونپا۔ ان کے مطابق، مسٹر نڈّا نے بھروسہ دلایا کہ سرکار اس مسئلے پر داخلی سطح پر غور و خوض کرے گی اور بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔ اس سے پہلے مسٹر داس نے کہا تھا کہ سرکار نے پیر کی صبح بات چیت کے لیے رابطہ کیا تھا اور سی جے پی اپنے مطالبات پر واضح طور پر قائم ہے۔
ادھر، پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن مجوزہ مارچ کو دیکھتے ہوئے قومی راجدھانی میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہیں، جس کے تحت پیشگی اجازت کے بغیر جلوس، مظاہرے اور پانچ یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر روک ہے۔ پولیس نے کہا کہ منتظمین نے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی اجازت بھی نہیں مانگی تھی۔ پولیس نے لوگوں سے قانون پر عمل کرنے کی اپیل کی تھی۔
پارلیمنٹ ہاؤس، سینٹرل وسٹا، کنوٹ پلیس اور آس پاس کے حساس علاقوں میں اضافی پولیس فورس، ریزرو دستے اور کوئک ریسپانس ٹیمیں (کیو آر ٹی) تعینات کی گئیں۔ اہم راستوں پر کئی سطحوں کی بیریکیڈنگ، گاڑیوں کی سخت جانچ اور سی سی ٹی وی سے نگرانی کے انتظامات کیے گئے۔ جنتر منتر کے آس پاس بھی تین سطحی سکیورٹی گھیرا بنایا گیا۔ جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں بھیڑ بڑھنے کی وجہ سے پٹیل چوک میٹرو اسٹیشن کے داخلی دروازے بند کر دیے گئے اور سینٹرل سیکریٹریٹ اور دیگر قریبی میٹرو اسٹیشنوں پر بھی بھیڑ پر قابو پانے کے خصوصی اقدامات کیے گئے۔
قابلِ ذکر ہے کہ سی جے پی نے مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے احتجاج، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر 20 جون سے جنتر منتر پر دھرنا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے انہی مطالبات کو لے کر 28 جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جنہیں ہفتہ کو دہلی پولیس نے وہاں سے ہٹا کر ہسپتال میں داخل کرایا۔ اس کے بعد سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔ مسٹر وانگچک کے ساتھ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے چھ طالب علم بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، حالانکہ ان میں سے تین الگ الگ وقت پر صحت بگڑنے پر ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ بچے ہوئے تین طلبہ نے بھی آج بھوک ہڑتال ختم کی۔ اداکار پرکاش راج، اداکارہ اور سابق رکنِ پارلیمنٹ محترمہ شبانہ اعظمی اور راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ منوج جھا نے جوس پلا کر ان کی بھوک ہڑتال ختم کروائی۔مسٹر دیپکے نے بھی بعد میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ مسٹر وانگچک کی اہلیہ محترمہ گیتانجلی آنگمو نے بتایا کہ مسٹر وانگچک نے دیپکے سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ انہیں احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کے لیے توانائی کی ضرورت ہے۔
بھوک ہڑتال واپس لینے کے لیے وانگچک نے رکھیں تین شرطیں، نیٹ لیک پر کارروائی کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، 20 جولائی (یو این آئی) سماجی کارکن اور تعلیمی اصلاحات کے لیئے مہم چلانے والے سونم وانگچک نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اگر تعلیمی اصلاحات اور نیٹ پیپر لیک کے سلسلے میں ان کے مطالبات کے حوالے سے سرکار اور سیاسی قیادت کی طرف سے تین اہم یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، تو وہ اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔صفدر جنگ ہسپتال سے جاری ایک ہاتھ سے لکھے گئے نوٹ میں مسٹر وانگچک نے کہا کہ وہ اپنی شرطیں پوری ہونے کے بعد ہی بھوک ہڑتال ختم کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں 'غیر قانونی حراست' میں رکھا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ ان کی نقل و حرکت، بولنے اور بات چیت کرنے کی آزادی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ ان کے 'ایکس' اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے خط کے مطابق، مسٹر وانگچک کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ سرکار تعلیمی نظام میں آئی سنگین خامیوں کی ذمہ داری قبول کرے، جس میں نیٹ امتحان کا پیپر لیک ہونا بھی شامل ہے۔ان کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں یہ یقینی بنائیں کہ پارلیمنٹ کے جاری مانسون سیشن کے دوران اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی صحت سے متعلق صورتحال انہیں پارلیمنٹ کے مجوزہ مارچ میں شامل ہونے سے روکتی ہے، تو سینئر سیاسی لیڈروں کو ہسپتال میں ان سے ملنا چاہیے اور ذاتی طور پر انہیں یقین دلانا چاہیے کہ پہلے دو مطالبات پر کارروائی کی جائے گی۔مسٹر وانگچک 28 جون کو دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئے تھے۔
اور انہوں نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ دہلی پولیس نے بھوک ہڑتال کے 21 ویں دن صحت بگڑنے کے بعد 18 جولائی کو انہیں صفدر جنگ ہسپتال پہنچایا تھا۔ پولیس نے یہ کارروائی ڈاکٹروں کی اس وارننگ کے بعد کی کہ ان کا طویل عرصے سے جاری بھوک ہڑتال ان کی زندگی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے، جس سے اعضاء کے کام بند کرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔دہلی ہائی کورٹ نے بھی حکام کو ان کی زندگی کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دی تھیں، جس کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ مسلسل طبی نگرانی میں ہیں۔

شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026