جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
انصاف کے فقدان سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر:امینہ ایردوان
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

انصاف کے فقدان سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر:امینہ ایردوان

Awaz E Bihar•13 دسمبر، 2025 کو 03:15 PM•0 ویوز•4 منٹ پڑھیں

سیرالیون میں ایک بین الاقوامی اجتماع سے ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کر نے والی ترک خاتونِ اول امینہ ایردوان نے خبردار کیا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم لاکھوں خواتین اور بچے دنیا میں بڑھتے ہوئے انصاف کے خسارے کی تلخ یاد دہانی ہیں۔
امینہ ایردوان نے "موسمیاتی تبدیلی اور تنازعات کے خلاف خواتین اور لڑکیوں میں قوتِ مدافعت " کے موضوع پر اپنے پیغام میں سیرالیون کی خاتون اول فاطمہ مادا بائو کو خواتین اور بچوں کی نمائندگی میں ان کی 'مضبوط قیادت' پر سراہا۔
انہوں نے بائو کے افریقی خواتین برائے ترقی کی تنظیم کی پہلی چیئر پرسن کے طور پر کام اور 'ہماری بچیوں سے اپنے ہاتھ دور رکھیں' اقدام کی بانی کے طور پر ان کے کردار کی بھی تعریف کی، جو اب اپنے قیام کی ساتویں سالگرہ منا رہا ہے۔
خاتون اول نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے زیرو ویسٹ ایڈوائزری بورڈ کی سربراہی کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کی شکر گزار ہیں اور عالمی مشترکہ چیلنجز کے حل میں بائو کی 'نمایاں کوششیں' باعث ِستائش ہیں۔
اس سالانہ یاد کے موضوع - ماحولیات کی تبدیلی اور تنازع کے دوران خواتین اور لڑکیوں کی مزاحمت کو مضبوط بنانا - کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ دور کے ایک سب سے فوری مسائل کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دور کے سب سے اہم عالمی چیلنجز میں سے ایک ہے، جو ترقی کی سطح سے قطع نظر ممالک کو متاثر کر رہی ہے۔ قدرتی آفات کا شدت اختیار کرنا، قحط، صحرا کی وسعت اور سمندری سطح کا بڑھنا معاشروں کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں 120 سے زائد تنازعات انسانوں کے حوصلے پست کر رہے ہیں اور 'اسے ایک سنگ میل کی طرف دھکیل رہے ہیں'، جس کا سب سے بھاری بوجھ خواتین اور بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ "صرف 2024 میں، 676 ملین خواتین اور بچوں کو تنازعات کے درمیان رہنے پر مجبور ہونا پڑا،" اور یہ بھی کہا کہ پچھلے دو سالوں میں جنگوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والی خواتین کی تعداد سابقہ برسوں کے مقابلے میں دو گنی ہو گئی ہے۔
اردوان نے خبردار کیا کہ 2050 تک ماحولیاتی بحران کے اثرات کے نتیجے میں تقریباً 158 ملین خواتین کو شدید غربت میں دھکیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا، "بنیادی حقوق جیسے حقِ حیات، خوراک کی سکیورٹی، صاف پانی تک رسائی اور تعلیم کے بغیر زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرتی لاکھوں خواتین اور بچوں کا وجود دنیا کے انصاف کے ریکارڈ میں ناکامیوں کی بنیادی وجہ ہے۔" انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو ایک خوشحال اور منصفانہ دنیا کی تعمیر میں 'مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ "انہیں انسانی بحرانوں میں مدد کے منتظر نہیں بلکہ حل میں فعال شرکاء ہونا چاہیے۔" اس موضوع پر سرگرمیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارلیمانوں میں خواتین کی زیادہ نمائندگی بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں کی توثیق کے امکان کو بڑھاتی ہے، جبکہ ثالثی اور امن سازی میں خواتین کی شمولیت تشدد کے خاتمے کے امکانات کو تا 24 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں خواتین کو زیادہ سماجی اور سیاسی مقام حاصل ہوتا ہے وہاں کاربن کے اخراجات بھی 12 فیصد کم دیکھے جاتے ہیں۔ امینہ ایردوان کا کہنا تھا کہ خواتین زرعی افرادی قوت کا نصف ہیں اور وسائل تک مساوی رسائی ملنے کی صورت میں عالمی سطح پر فاقہ کشی کو تقریباً 17 فیصد تک کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مثالیں ایک اہم سچائی کو اجاگر کرتی ہیں: "عالمی بحرانوں کے خلاف خواتین اور بچوں کی مزاحمت کو بڑھانا صرف خواتین کی قیادت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔"
انہوں نے امید ظاہر کی کہ افریقہ سے اٹھنے والی یہ اپیل عالمی یکجہتی کو تحریک دے گی جو دنیا بھر کی خواتین اور بچوں کی زندگیوں کو بدل سکے۔ سال کے اختتام کے موقع پر انہوں نے "انسانیت پائیدار امن حاصل کرے اور ایک ساتھ مل کر پائیدار مستقبل کی تعمیر کرنے والے" سال نو کی نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026