لاڈکی بہن’ اسکیم پر اقتدار میں بیٹھے سوتیلے بھائیوں کا 3,500 کروڑ روپے کا ڈاکہ: کانگریس
Awaz E Bihar••7 ویوز•3 منٹ پڑھیں
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ایسا کوئی محکمہ یا شعبہ نہیں چھوڑا جہاں بدعنوانی نہ کی ہو۔ 'جہاں موقع ملے، وہاں لوٹ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے صرف بدعنوانی کی گئی ہے۔ رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دی گئی چندہ رقم پر ڈاکہ ڈالنے کے باوجود بی جے پی اور آر ایس ایس کا پیٹ نہیں بھرا، اس لیے اب انہوں نے ’’لاڈکی بہن‘‘ اسکیم پر بھی ڈاکہ ڈال دیا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے ان سوتیلے بھائیوں نے بہنوں کو بھی نہیں بخشا۔ یہ حکومت ہے یا ڈاکوؤں کا ٹولہ؟ یہ سخت حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا۔ اس سلسلے میں مزید گفتگو کرتے ہوئے پردیش کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی۔مہایوتی حکومت نے ’’لاڈکی بہن‘‘ اسکیم کے تحت کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں کی ہیں۔ اس اسکیم کے مالیاتی انتظام میں کئی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔ اس منصوبے کے لیے 29 ہزار 693 کروڑ روپے کی گنجائش رکھی گئی تھی، لیکن حکومت نے منظور شدہ بجٹ سے 3 ہزار 541 کروڑ روپے زیادہ خرچ کیے۔ اس اضافی رقم کے خرچ کا حکومت کے پاس کوئی ریکارڈ یا حساب موجود نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں، اسکیم کے لیے حقیقی ضرورت نہ ہونے کے باوجود بھی رقم نکالی گئی۔ مختلف اسکیموں کے نام پر کروڑوں روپے کی بدعنوانی کرنا بی جے پی حکومت کی عادت بن چکی ہے۔ نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘‘کا دعویٰ کرنے والے اب جہاں موقع ملتا ہے، عوام کا پیسہ ہڑپ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کے پروگراموں پر ہونے والا خرچ 261.78 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 33 ہزار 554 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ خواتین کی اسکیموں پر اخراجات بڑھاتے ہوئے محکمہ ہاؤسنگ کی اسکیموں کے بجٹ میں 54 فی صد کمی کی گئی، جبکہ آبی فراہمی اور صفائی ستھرائی پر ہونے والے اخراجات میں 31.81 فیصد کی کمی آئی۔ بنیادی ڈھانچے پر خرچ کم کرکے ’’لاڈکی بہن‘‘ اسکیم پر بڑھایا گیا خرچ عوامی خدمات کے طویل مدتی استحکام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ کیگ (CAG) نے بھی اپنی رپورٹ میں یہی تبصرہ کیا ہے۔ معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی بیٹیوں کے لیے چلائی جانے والی ’’لیک لاڈکی‘‘ اسکیم سے 3 ہزار 490 کروڑ روپے ’’لاڈکی بہن‘‘ اسکیم میں منتقل کیے گئے۔ اس سے پہلے محکمہ سماجی انصاف کے فنڈ کو بھی ’’لاڈکی بہن‘ اسکیم کی طرف منتقل کیے جانے کا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ یہ پوری کارروائی مالیاتی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران خواتین کے ووٹ حاصل کرنے کے مقصد سے بغیر کسی ٹھوس مطالعے کے ’’لاڈکی بہن‘‘ اسکیم شروع کی گئی۔ خواتین کو ماہانہ 1,500 روپے دیے گئے اور دوبارہ اقتدار میں آنے پر 2,100 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن 2,100 روپے دینا تو دور، حکومت نے کے وائی سی کے نام پر 92 لاکھ ’’لاڈکی بہنوں‘‘ کو ہی اسکیم سے خارج کر دیا۔ یہ ’’لاڈکی بہنوں‘‘ کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ بی جے پی۔مہایوتی حکومت نے ’’لاڈکی بہن‘‘ اسکیم کے نام پر اپنے ہی خزانے بھرنے کا کام کیا۔ ’’لاڈکی بہنوں‘‘‘ کے ساتھ دھوکہ دہی کرنا اور لاکھوں خواتین کو اسکیم سے باہر کر دینا، کیا اس سے مہاراشٹر کی بدنامی نہیں ہوتی؟ حکومت کو عوام کے ہر ایک روپے کا حساب دینا ہی ہوگا۔