جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
مہاتما جیوتی راؤ پھولے: ایک روشنی جو آج بھی ہندستان کے لئے مشعل راہ ہے: وزیرِ اعظم
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

مہاتما جیوتی راؤ پھولے: ایک روشنی جو آج بھی ہندستان کے لئے مشعل راہ ہے: وزیرِ اعظم

Awaz E Bihar•10 اپریل، 2026 کو 05:08 PM•17 ویوز•7 منٹ پڑھیں

مہاتما جیوتی راؤ پھولے کا یومِ پیدائش ہے، جو ہندستان کے عظیم ترین سماجی مصلحین میں سے ایک تھے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ ہیں۔ اس سال اس موقع کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیوں کہ آج سے ان کے200 ویں یومِ پیدائش کی تقریبات کا آغاز کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔انھوں نے کہا کہ مہاتما پھولے ایک عظیم مصلح تھے۔ اس کے علاوہ ان کی زندگی اخلاقی جرات، مسلسل جستجو اور سماجی بہبود کے لیے غیر متزلزل عزم کی مثال ہے۔ مہاتما پھولے کو ان کے قائم کردہ اداروں اور ان کی زیر قیادت تحریکوں کی وجہ سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔اسی کے ساتھ، ہماری تہذیبی ارتقاء کے سفر میں ان کی شراکت اس امید میں پنہاں ہے جو انہوں نے پیدا کی، اس اعتماد میں جو انہوں نے دلوں میں جگایا، اور اس قوت میں جو ان کے افکار آج بھی ملک بھر کے لاکھوں لوگوں کو تحریک عطا کر رہے ہیں۔ 1827 میں ریاست مہاراشٹر میں پیدا ہوئے مہاتما پھولے ایک سادہ پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن ان کی ابتدائی مشکلات کبھی بھی ان کی تعلیم، ان کی جرات یا معاشرے کے لیے ان کے عزم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں۔ یہ ان کا ایک مستقل خاصہ رہا کہ خواہ جتنی بھی مشکلات درپیش ہوں، انسان کو محنت کرنی چاہیے، علم حاصل کرنا چاہیے اور ان مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ کچھ نہ کیا جائے۔ اپنے اسکول کے دنوں سے ہی نوجوان جیوتی راؤ انتہائی متجسس ذہن کے مالک تھے اور بہت زیادہ مطالعہ کرتے تھے۔ اکثر اپنی عمر کے بچوں کے لیے مقررہ نصاب سے کہیں آگے کی کتابیں پڑھتے تھے۔ کئی سال بعد انہوں نے کہا: ''ہمارے ذہن میں جتنے زیادہ سوال پیدا ہوتے ہیں، اتنا ہی زیادہ علم ان سے جنم لیتا ہے۔'' واضح طور پر ان کے بچپن سے ہی ان میں موجود تجسس کا جذبہ زندگی بھر قائم رہا۔
اپنی پوری زندگی میں مہاتما پھولے کے مشن کا محور علم اور تعلیم رہا۔ انہوں نے غیر معمولی بصیرت کے ساتھ یہ حقیقت جان لی تھی کہ علم کوئی ایسی شے نہیں جو چند لوگوں کی جاگیر ہو، بلکہ یہ ایک ایسی قوت ہے جو سب کے ساتھ بانٹنے کے لیے ہوتی ہے۔ایک ایسے دور میں جب بہت سے لوگوں کو تعلیم کے فیض سے محروم رکھا گیا تھا، انہوں نے لڑکیوں اور رسمی تعلیم سے محروم افراد کے لیے جدید اور رہنما اسکول قائم کیے۔ وہ کہا کرتے تھے: "بچوں میں ماں کے ذریعے جو بہتری آتی ہے وہ بہت قیمتی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر اسکول کھولنے ہیں تو سب سے پہلے لڑکیوں کے لیے کھولے جائیں۔" انہوں نے ایک ایسے نئے سماجی تصور کو تشکیل دینے کی کوشش کی جس میں کلاس روم انصاف اور برابری کا ذریعہ بن جائے۔
تعلیم کے حوالے سے ان کا وژن انتہائی متاثر کن ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں ہم نے تحقیق اور جدت کو ہندستان کے نوجوانوں کے لیے ایک بنیادی ستون بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے نظام کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں جہاں نوجوان ذہنوں کو سوال کرنے، دریافت کرنے اور جدت طرازی کی ترغیب دی جائے۔ علم، مہارت اور مواقع میں سرمایہ کاری کے ذریعے ہندستان اپنے نوجوانوں کو مسائل حل کرنے اور قومی ترقی کو فروغ دینے کا عوامل بنا رہا ہے۔
اپنے علم اور دانش کی بدولت مہاتما پھولے نے زراعت، صحت اور دیہی ترقی جیسے شعبوں کے بارے میں گہری بصیرت پیدا کی۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ ناانصافی ہمارے معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ سماجی عدم مساوات روزمرہ کی زندگی کو کس طرح متاثر کرتی ہے، خواہ وہ کھیت ہوں یا دیہات۔ اسی لیے انہوں نے غریبوں، محروموں اور پسماندہ طبقات کو وقار دلانے کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
مہاتما پھولے نے کہا تھا:’’جب تک معاشرے میں سب کو برابر کے حقوق نہیں ملتے، تب تک حقیقی آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایسے ادارے قائم کیے جنہوں نے اس وژن کو عملی شکل دی اور ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل میں اہم رول ادا کیا۔ ان کے ذریعے قائم کیا گیا ستیہ شُودھک سماج جدید ہندستان کی سب سے اہم سماجی اصلاحی تحریکوں میں سے ایک تھا۔ یہ تحریک سماجی اصلاح، سماجی خدمت اور انسانی وقار کے فروغ میں پیش پیش رہی۔ یہ خواتین، نوجوانوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے ایک مؤثر آواز بنی۔ اس تحریک نے مہاتما پھولے کے اس بنیادی یقین کی عکاسی کی کہ انصاف، ہر فرد کیلئے احترام اور اجتماعی ترقی کے جذبے کو مرکز میں رکھ کر معاشرے کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
ان کی ذاتی زندگی بھی حوصلے کی مثالوں سے بھری ہوئی تھی۔ مسلسل کام کرنا اور عوام کے درمیان رہنا ان کی صحت پر اثر انداز ہوا، لیکن شدید ترین صحت کے مسائل بھی ان کے عزم کو کمزور نہ کر سکے۔ فالج کے حملے کے بعد بھی انہوں نے اپنی جدوجہد اور مشن کو جاری رکھا۔ جی ہاں، ان کا جسم آزمائشوں سے گزرا، لیکن معاشرے کے لیے ان کا عزم کمزور نہیں پڑا۔ آج لاکھوں لوگوں کے لیے، خاص طور پر وہ جو جدوجہد سے حوصلہ پاتے ہیں، ان کی زندگی کا یہ پہلو اہم تحریک کا حامل ہے۔
مہاتما پھولے کی یاد کا ذکر ساوتریبائی پھولے کے احترام کے بغیر ادھورا ہے، جو خود ہمارے ملک کی عظیم ترین مصلحین میں سے ایک تھیں۔ ہندستان کی ابتدائی خاتون معلمین میں شامل، انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ میں کلیدی رول ادا کیا اور انہیں اپنے خواب پورے کرنے کا موقع دیا۔ مہاتما پھولے کے انتقال کے بعد ساوتری بائی نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا اور 1897 میں طاعون کی وبا کے دوران انہوں نے متاثرین کی اس قدر خدمت کی کہ وہ خود بھی اس بیماری میں مبتلا ہو گئیں اور جاں بحق ہوگئیں۔ ہماری سرزمین بارہا ایسے عظیم مردوں اور خواتین سے نوازی گئی ہے جنہوں نے فکر، قربانی اور عمل کے ذریعے معاشرے کو تقویت بخشی۔ انہوں نے تبدیلی کے کسی بیرونی ذریعہ کا انتظار نہیں کیا، بلکہ خود تبدیلی کا سرچشمہ بن گئے۔ ہماری سرزمین پر صدیوں سے سماجی اصلاحات کی بلند آوازاکثر خود معاشرے کے اندر سے اٹھی ہیں، ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے تکلیف کو واضح طور پر دیکھا اور اسے تقدیر ماننے سے انکار کر دیا۔ مہاتما جیوتی راؤ پھولے بھی ایسی ہی ایک آواز تھے۔
مجھے آج بھی 2022 میں پونے کے اپنے دورے کی یاد ہے، جب میں نے شہر میں مہاتما پھولے کے عظیم مجسمے کے سامنے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔ جیسے جیسے ہم ان کے200ویں یومِ پیدائش کے سال کا آغاز کر رہے ہیں، مہاتما جیوتی راؤ پھولے کو سب سے موزوں خراجِ تحسین عزم کا اعادہ کرنا ہے۔ ان موضوعات کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرنا،جن سے ان کا دل قریب تھا، جیسے تعلیم، ناانصافی کے بارے میں اپنی حساسیت کا اعادہ کرنا،اس یقین کی تجدید کرنا کہ معاشرہ اپنے اندر سے ہی خود کو بہتر بنا سکتا ہے۔
ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ جب معاشرتی قوت کو اخلاقی وضاحت اور اجتماعی مقصد کے ساتھ جوڑا جائے تو ہندستان میں معجزات ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ آج بھی لاکھوں لوگوں کو حوصلہ دیتے ہیں۔ اسی لیے ان کے الفاظ اور کام آج بھی امید دلاتےہیں۔ اور اسی لیے اپنی پیدائش کے تقریباً دو سو سال بعد بھی مہاتما جیوتی راؤ پھولے محض ماضی کی کوئی شخصیت نہیں بلکہ ہندستان کے مستقبل کے رہنما ہیں۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026