منی پور میں ناگا برادری کے 6 افراد کے اغوا اور قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج
Awaz E Bihar••17 ویوز•4 منٹ پڑھیں
منی پور میں لیانگ مئی ناگا برادری کے چھ افراد کے مبینہ اغوا اور بہیمانہ قتل کے خلاف عوامی غصہ پھٹ پڑا ہے۔ 'جسٹس فار دی سکس سنز آف کوبرو جوائنٹ کمیٹی' کی قیادت میں جمعہ کے روز ریاست کے پانچ مختلف علاقوں میں بیک وقت زبردست دھرنا اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ان ہلاکتوں کی شدید مذمت کرنے اور حکومت پر مجرمان کی گرفتاری کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے کوئرینگئی، لووانگ سانگ بام، لاملونگئی، نیلا کٹھی اور لائفم کھونو میں احتجاجی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ ان مظاہروں میں خواتین، نوجوانوں اور مقامی سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ ہاتھوں میں تختیاں اور بینرز تھامے مظاہرین نے سخت نعرے بازی کی اور اس ہولناک واقعے کے ذمہ دار تمام مجرموں کو جلد سے جلد گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی کا الزام ہے کہ یہ قتل مبینہ طور پر مسلح کوکی عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے ہیں۔تحریک کاروں نے حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں کوکی نیشنل فرنٹ کو فوری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔نیمچا کپگین کو منی پور کے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے سے فوری طور پر برطرف کیا جائے۔قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بسائے گئے تمام غیر قانونی دیہاتوں کو خالی کرایا جائے شامل ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ مجرموں کی گرفتاری میں ہونے والی تاخیر کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور مقتولین کو انصاف نہیں ملتا، یہ تحریک مکمل طور پر پرامن اور جمہوری طریقے سے جاری رہے گی اور اسے پوری ریاست میں پھیلایا جائے گا۔دریں اثنا، ہلاک ہونے والے چھ افراد کی لاشیں اب بھی امپھال کے جے این آئی ایم ایس ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی ہوئی ہیں۔ مظاہرین ان 6 لیانگمائی ناگا افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کی مسخ شدہ لاشیں تقریباً ایک ماہ تک یرغمال رکھے جانے کے بعد برآمد ہوئی تھیں۔ متاثرین کو مبینہ طور پر 13 مئی کو مسلح کوکی شدت پسندوں نے اغوا کیا تھا اور بعد میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ پولیس اس دعوے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مظاہرین مقتولین کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ کوکی برادری کے بعض افراد کی جانب سے ان قتل کے واقعات سے متعلق مبینہ اعترافی بیانات کی بھی مذمت کر رہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تقریباً 40 مقامی لیانگمائی ناگا رضاکار، میتیئی خواتین کے ساتھ مل کر نامدوئیلونگ کراسنگ پر گاڑیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھے ہوئے تھے اور امپھال سے کانگپوکپی ضلع جانے والے سامان اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل روک رہے تھے۔ تاہم سیکورٹی فورسز اور ہنگامی خدمات سے متعلق گاڑیوں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس دوران محدود تعداد میں کچھ بین الریاستی اور بین الاضلاعی مسافر گاڑیاں بھی اس راستے سے گزر رہی ہیں۔ ناگا تنظیموں کا یہ احتجاج گزشتہ ماہ 5 جون کو شروع ہوا تھا اور جمعرات، 2 جولائی کو اس کا 28واں دن تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کرنے والے رضاکار اور ان کے حامی جمع ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حکام شاہراہ کو خالی کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب کوکی-زو برادری کے افراد 30 جون سے کانگپوکپی ضلع میں جوابی احتجاج کر رہے ہیں اور اس انتہائی اہم بین الریاستی شاہراہ پر آمد و رفت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک دیگر واقعہ میں گزشتہ روز جمعرات کی علی الصبح تقریباً ڈیڑھ بجے امپھال مشرق میں مظاہرین نے ٹیلی کام آلات لے جانے والی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ گاڑی کو اس وقت نذرِ آتش کیا گیا جب یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ اس کے ذریعہ غیر قانونی سامان منتقل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق گاڑی کانگپوکپی ضلع کی جانب جا رہی تھی، لیکن امپھال مشرق میں سیکورٹی اہلکاروں نے اسے روک لیا اور وہاں کی موجودہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر اسے واپس امپھال جانے کی ہدایت دی۔ تاہم واپسی کے دوران امپھال مشرق میں مظاہرین کے ایک گروپ نے گاڑی کو روک لیا۔