دوسری ریاستوں سے نقل مکانی کرنےوالے مزدوروں کو زیادہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے : جسٹس رام سبرامنین
Awaz E Bihar••16 ویوز•3 منٹ پڑھیں
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے چیئرمین جسٹس وی رام سبرامنین نے کہا ہے کہ دوسری ریاستوں سے نقل مکانی کرنےوالے یا مائیگرینٹ مزدوروں کو زیادہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر کا تعلق غیر منظم شعبے سے ہے۔جسٹس رام سبرامنین نے بدھ کو ' مائیگرینٹ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ: حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ ذمہ داری' کے موضوع پر اپنے کور گروپ کے اجلاس میں کہا کہ مائیگرینٹ مزدور غیر منظم شعبے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔ زبان کی رکاوٹیں، مسلسل جگہ کی تبدیلی اور مستقل رہائش کا فقدان انہیں اپنے حقوق کا تحفظ کرنے سے روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مزدوروں کے تحفظ کے لیے مضبوط قوانین موجود ہیں، لیکن ان کا مؤثر نفاذ سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پالیسیاں بنانا کافی نہیں ہے، بلکہ بین ریاستی ہم آہنگی، پورٹیبل سوشل سکیورٹی اور لیبر قوانین کی سخت پابندی جیسی نظام سےمتعلق اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تعمیرات، ہوٹل، تجارت اور گھریلو کاموں میں لگے مائیگرینٹ مزدوروں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ این ایچ آر سی کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیت رنجن سارنگی نے کہا کہ مائیگرینٹ مزدوروں کو نہ تو مناسب احترام ملتا ہے اور نہ ہی وقت پر اجرت۔ انہوں نے کہا کہ اجرت کی بروقت عدم ادائیگی ان کے گھر چھوڑ کر کام کرنے کے مقصد کو ہی ناکام بنا دیتی ہے۔ انہوں نے مزدوروں کے لیے مناسب تنخواہ، رہائش، صحت کی سہولیات اور بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل بھرت لال نے کہا کہ دنیا بھر میں پردیسی مزدور معیشت کو رفتار دے رہے ہیں اور ہندوستان کی تقریباً 28.9 فیصد آبادی مائیگرینٹ مزدوروں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران مائیگرینٹ مزدوروں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے آؤٹ سورس مزدوروں کو کم از کم اجرت تک نہیں ملتی۔ انہوں نے 'ون نیشن ون راشن کارڈ' اسکیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور اس کے نفاذ کے درمیان خلیج کو پاٹنا ضروری ہے۔ اجلاس میں مختلف وزارتوں، صنعتی تنظیموں، بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے مائیگرینٹ مزدوروں کی بہبود کے لیے کئی تجاویز دیں۔ ان میں نیشنل مائیگرنٹ ورکر ڈیش بورڈ بنانا، ای-شرم پورٹل کو دیگر سرکاری ڈیٹا بیس سے جوڑنا، مزدوروں کے لیے کثیر لسانی شکایات کے ازالے کا نظام تیار کرنا، وقت کے پابند شکایت کے حل کا نظام نافذ کرنا اور 'لیونگ ویج کے تصور کو فروغ دینا شامل ہے۔