ایران کے ساتھ معاہدے پر معمولی پیشرفت ہوئی ہے: امریکی وزیرخارجہ
Awaz E Bihar••11 ویوز•2 منٹ پڑھیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب کچھ معمولی پیشرفت ضرور ہوئی ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے، تاہم اس پیشرفت کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ سویڈن میں نیٹواِجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس معمولی پیشرفت کے باوجود امریکہ کا بنیادی مؤقف اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے اور ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کو ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے سنگین مسئلے پر ہر صورت بات کرنا ہوگی۔ مارکو روبیو نے مذاکرات کے ایک نئے اور اہم نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کا آبنائے ہرمز میں مجوزہ ٹول سسٹم کسی بھی ملک کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایک ٹول سسٹم بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ عمان کو بھی اس نظام میں شامل ہونے پر قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے ایرانی اقدام کو عالمی قوانین کے سراسر خلاف اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے ہمیشہ ایک کھلا اور آزاد سمندری راستہ ہونا چاہیے، اور اس پر کسی قسم کا ایرانی کنٹرول تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اہم سمندری گزرگاہ پر کنٹرول مضبوط کرلیا ہے جبکہ ایرانی اجازت کے بغیر بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رُک چکی ہے۔ جنگ سے پہلے جہاں روزانہ 120 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، جن میں تقریباً 20 ملین بیرل تیل لے جانے والے ٹینکرز بھی شامل تھے، اب وہاں صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جنہوں نے ایران سے خصوصی اجازت حاصل کی ہو۔