مودی کا ایس سی او سے تعاون کو ٹھوس فوائد میں بدلنے و امن سلامتی لوگوں کو اگلے 25 سال کے مرکز میں رکھنے پر زور
Awaz E Bihar••23 ویوز•5 منٹ پڑھیں
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کےسربراہ اجلاس میں ہندوستان کی سوچ کو سلامتی، رابطہ کاری اور موقع کے تین اہم ستونوں پر مبنی بتایا اور کہا کہ اس کے لیے دہشت گردی کے پورے نظام کو تباہ کرنا ضروری ہے۔مسٹر مودی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں پیر کے روز ایس سی او سربراہ اجلاس میں تفصیل سے ہندوستان کا نقطہء نظر رکھا۔ انہوں نے ایس سی او کے اگلے 25 سال کے لیے ہندوستان کی سوچ کے تین ستونوں سلامتی، رابطہ کاری اور موقع کو آگے بڑھا کر ٹھوس نتائج میں بدلنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی پہلی ضرورت امن اور سلامتی ہے نیز دہشت گردی کی مالی امداد، بھرتیاں، انتہا پسندی اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے ایکو سسٹم کو تباہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، "اس کی پہلی ضرورت ہے - امن اور سلامتی۔ دہشت گردی آج بھی پوری انسانیت کے لیے شدید چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اس کے خلاف لڑائی میں ہم ایکشن-ری ایکشن کی سوچ تک محدود نہیں رہ سکتے۔ ہمیں دہشت گردی کی مالی اعانت ، بھرتیاں، انتہا پسندی اور محفوظ ٹھکانوں کے پورے ایکو سسٹم کو تباہ کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک آواز میں بولنا ہوگا کہ اس حساس موضوع پر دوہرے معیار کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔" انہوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم اور چین کے صدر کی موجودگی میں زور دے کر کہا کہ دہشت گردی پر دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی اور جو ممالک دہشت گردی کو اپنی پالیسی کا ذریعہ بناتے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ اور حمایت دیتے ہیں، انہیں واضح پیغام دینا ہوگا کہ دہشت گردی کسی کے لیے حکمتِ عملی کا اثاثہ نہیں ہو سکتی۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ 25 سال میں ایس سی او نے یوریشیا کے وسیع رقبے میں بات چیت اور تعاون کی مضبوط روایت وضع کی ہے۔ اب اگلے 25 سال میں تعاون کو واضح نتائج میں بدلنا ہدف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے اور مشترکہ جغرافیہ کو مشترکہ مواقع میں بدل کر لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی صرف کارروائی اور ردِعمل کی سوچ تک محدود نہیں رہ سکتی۔ پرامن اور محفوظ یوریشیا کی مشترکہ خواہش افغانستان میں امن اور استحکام سے بھی جڑی ہے۔ ہندوستان افغانستان کے لوگوں کی ترقی اور انسانی امداد میں تعاون دیتا رہا ہے اور آگے بھی دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی باہم منسلک دنیا میں کسی ایک خطے کا تنازع وہیں تک محدود نہیں رہتا۔ مغربی ایشیا کے بحران کا اثر پوری دنیا کی توانائی کی سلامتی، سمندری تجارت اور سپلائی چینز پر پڑتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لیے تمام تناؤ اور جنگوں کا حل میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ بات چیت اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔ وزیرِ اعظم نے منشیات کی اسمگلنگ کو صرف جرم نہیں، بلکہ نوجوان نسل اور علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے تحت سکیورٹی خطرات، منظم جرائم، اطلاعات کے تحفظ اور منشیات جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جا رہے مراکز کو عملی ہم آہنگی اور وقت کے پابند اقدامات کا موثر ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ رابطہ کاری کو مشترکہ ترقی کی دوسری بنیاد بتاتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہندوستان ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو منڈیوں کو جوڑتی ہیں، تجارت کو آسان بناتی ہیں اور ترقی کے نئے راستے کھولتی ہیں۔ تاہم، ان کوششوں میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے، جو ایس سی او کے منشور کی بنیادی روح بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں سڑکوں، ریلوے اور ہوائی راہداریوں کے ساتھ کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانا، ڈیجیٹل دستاویزات کو فروغ دینا اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو زیادہ کارآمد بنانا ہوگا۔ موقع کو تیسرا ستون بتاتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایس سی او کے تعاون کا فائدہ براہِ راست لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ ہندوستان کے لیے ایس سی او عظیم تہذیبوں، ثقافتوں اور خیالات کا سنگم ہے اور اگلے 25 سال میں لوگوں کے درمیان تعلقات کو تعاون کے مرکز میں رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کی حقیقی کسوٹی یہ ہوگی کہ نوجوانوں کو کتنے نئے مواقع ملے، صنعت کاروں کے لیے کتنی نئی منڈیاں کھلیں، کسانوں کو ٹیکنالوجی کا کتنا فائدہ ملا اور شہریوں کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایس سی او میں تعاون صرف حکومت کی قیادت والا نہیں، بلکہ لوگوں کی قیادت والا ہونا چاہیے۔ کرغزستان کی صدارت میں ایس سی او میں نوجوانوں کی شرکت پر خصوصی زور دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ایس سی او میں اسٹارٹ اپ فورم، ینگ رائٹرز کانفرنس اور ینگ سائنٹسٹ فورم جیسے اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ سال ہندوستان نے ایس سی او تہذیبی مکالمہ فورم کی تجویز رکھی تھی اور اس کا پہلا سیشن اس سال ہندوستان میں منعقد ہوگا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ایس سی او کا تنوع اس کی شناخت اور مشترکہ مقصد اس کی طاقت ہے۔ بشکیک سے مشترکہ جغرافیہ سے مشترکہ مواقع کی طرف، وژن سے نتائج کی طرف اور حکومت کی قیادت والے تعاون سے لوگوں کی قیادت والی شراکت داری کی طرف بڑھنے کا عزم لینا چاہیے۔ ہندوستان اسی اعتماد اور عزم کے ساتھ ایس سی او کے مشترکہ سفر میں اپنا تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔