مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی: خردوں کی حوصلہ افزائی کے علمبردار
Awaz E Bihar••54 ویوز•13 منٹ پڑھیں
ساجد حسن رحمانی ریسرچ اسکالر : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ علمی وادبی میدان سے لے کر تجارت و زراعت اور صنعت وحرفت حتی کہ دنیا کے مختلف چھوٹے بڑے ہر میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اس شخصیت کے ان کارہائے نمایاں انجام دینے کے پیچھے جن مختلف عناصر کا عمل دخل کارفرما رہاہے ، ان میں سے ایک اہم اور قابل ذکر عنصر اکابر و اصاغر کی حوصلہ افزائی اور ذرہ نوازی بھی شامل ہے اور اس طرح جب کوئی شخص علم وادب کی دنیا کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکنے لگتاہے اور لوگ اسے اپنے مختلف علمی وادبی ، ملی ، مسلکی اور سیاسی وسماجی میدان میں ضیاء پاشی کرنے والا سورج سمجھ کر اس کی تعریف و توصیف میں مبالغہ آرائی سے کام لینا شروع کردیتے ہیں اور اس کے گرویدہ و فریفتہ بن جاتے ہیں تو بالعموم ایسی صورتحال میں زیادہ تر شخصیات کے قول وفعل اور نقل وحرکت سے یہ ظاہر ہونے لگتاہے کہ وہ خود کو اس عالم حادث کی مخلوقات سے ماوراء کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھ رہے ہیں اور وہی ان تعریفی و توصیفی کلمات کے مستحق ہیں اور بس - اسی لیے عام طورپر کسی بڑے علمی وادبی یا سیاسی وسماجی شخص کو خردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے آپ نہیں دیکھیں گے ، لیکن ہاں ان میں سے چند لوگ فرض شناس بھی ہوتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اکابر و اصاغر کی حوصلہ افزائی نے ہمیں عزت و شہرت کی اس معراج تک پہنچایا ہے ، اسی طرح ہمارا بھی اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم بھی اپنے خردوں کی حوصلہ افزائی کرکے ان کے عزائم کو مہمیز کریں اور جہاں تک ہم پہنچے ہیں وہاں تک علمی وادبی ، سیاسی وسماجی اور اصلاحی میدان کا ہر نو وارد شہسوار بھی بآسانی پہنچ جائے ، اس لیے وہ اپنے خردوں کی حوصلہ افزائی کو اپنا شعار بنالیتے ہیں ، جس کی وجہ سے بسا اوقات انہیں خرد افروزی و ذرہ نوازی سے ناآشنا اشخاص کی طرف سے مطعون بھی کیا جاتاہے ، لیکن یہ مخلصین ان کی طعن وتشنیع کی ذرہ برابر بھی پروا کیے بغیر اپنا کام بحسن و خوبی انجام دیتے چلے جاتے ہیں - ان ہی میں سے ایک اہم اور نمایاں نام مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ ، پٹنہ کا بھی ہے - اس میں کوئی شک نہیں کہ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ہمہ گیر اور ہمہ جہت صلاحیت و لیاقت کے مالک ہیں - جہاں وہ ممتاز و شہرہ آفاق مصنف و فقیہ اور یگانۂ روزگار خطیب ہیں ، وہیں وہ یکتائے زمن ناقد و محقق ، وحید عصر منتظم اور نابغۂ دوراں صحافی و مؤرخ بھی ہیں - مذکورہ بالا میدانوں میں ان کے ممتاز رول کی ادائیگی کی دید و شنید کے بعد غائبانہ طورپر ان کی گوناگوں خصوصیات کی حامل شخصیت کا رعب و دبدبہ قارئین پر قائم ہوجاتا ہے ، لیکن جب کبھی ان سے ملنے یا ان کی محفل و مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملتاہے اور بے تکلفانہ انداز میں ان کی گل افشانی گفتار کو سننے اور ان کے حسن اخلاق اور پُرکشش رویے کو دیکھنے کا موقع ملتاہے تو ان کے تئیں اپنے دل ودماغ میں پہلے سے قائم شدہ تصورات کے خلاف مشاہدہ کی وجہ سے خوشی ومسرت کے ساتھ حیرت و استعجاب کی بھی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے - دوسال قبل یعنی 2024ء کے رمضان المبارک کے مہینے میں ایک رات تراویح کے بعد اپنے پی ایچ ڈی کے موضوع کے تعلق سے مشورہ طلب کرنے کے لیے مفتی صاحب کو میں نے نمبر ملایا ، انہوں نے کال ریسیو کیا، السلام علیکم ، وعلیکم السلام اور حال و احوال کی دریافت کے تبادلہ کے بعد میری سرگرمیاں پوچھی ، پھر رمضان المبارک کے تعلق سے اپنا نظام الاوقات بھی بتایا اور پھر گفتگو کے درمیان ہی بات لکھنے پڑھنے کی طرف چل پڑی تو انہوں نے کہا کہ اب تک میری تصنیف وترتیب کردہ 66 کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں - لیکن اس کے باوجود آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آج بھی مفتی صاحب کو لکھنے ، پڑھنے اور اپنی تحریروں کو مختلف اخبارات ورسائل میں چھپوانے کا اسی درجہ کا شوق ہے ، جس درجہ کا شوق ایک نو وارد قلمکار کو ہوتاہے اور جب ان کی کوئی تحریر کسی اخبار یا میگزین میں شائع ہوتی ہے تو انہیں اس وقت ایسی ہی خوشی ہوتی ہے ، جیسی خوشی کسی نئے مضمون نگار کو اپنی تحریر کی اشاعت کے وقت ہوتی ہے جبکہ ہر ہفتہ مفتی صاحب کے کم از کم دو/ تین مضامین کسی نہ کسی اخبار کی زینت ضرور بن جاتے ہیں - دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد جب بھی ان سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے اس دن کے اخبارات میں شائع شدہ اپنے مضمون کا اخباری عکس موبائل فون میں دکھایا یا اس بات کا تذکرہ ضرور کیا کہ آج میرا فلاں مضمون فلاں فلاں اخبار میں شائع ہواہے ، مجھے ان کی یہ انوکھی حرکت دیکھ کر ایسا لگتاہے کہ گویا وہ اس طرح مختلف اخبارات میں چھپوانے اور چھپ جانے پر دوسروں کے سامنے اس کاتذکرہ کرکے ان کے حوصلوں کو بر انگیختہ و بر افروختہ کرتے ہیں اور خود بھی ایک ناقابلِ بیان روحانی و نفسیاتی خوشی محسوس کرتے ہیں ، نیز آئندہ کل کے لیے اپنے حوصلہ کو مزید مہمیز بھی کرتے ہیں - یہی وجہ ہے کہ وہ سال کے اکثر ایام سفر اور مختلف قسموں کے علمی وادبی اور سماجی پروگراموں میں گزارنے کے باوجود بسیار نویسوں کی فہرست میں اپنا نام درج کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں - مفتی صاحب اپنی ہمہ گیر اور بے مثال خدمات کی وجہ سے جس طرح اپنے آپ میں ایک انجمن اور تنظیم کی حیثیت رکھتے ہیں ، اسی طرح وہ امت کے نونہالوں ، سماجی وسیاسی کارکنان اور علمی وادبی جماعتوں کے ایک ایک فرد کو اپنے اپنے میدانوں میں عظیم الشان خدمات کی انجام دہی میں مصروف رکھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی لیے وہ شاید کسی کی معمولی و ادنی سی کارکردگی پر بھی اس قدر حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ سامنے والے کو جہاں ایک طرف بے پناہ حوصلہ ملتاہے ، تو وہیں دوسری طرف اسے یہ یقین ہونے لگتاہے کہ اس نے کوئی کارہائے نمایاں انجام دیے دیاہے ، اسی سال رمضان المبارک سے قبل احقر کے دو تاثراتی مضامین اخبارات میں شائع ہوئے تھے - ایک "حضرت شمسی کی ضیاء پاشی اور ہماری محرومی" کے عنوان سے تھا جو مولانا مظاہر عالم قمر شمسی ، سابق پرنسپل مدرسہ احمدیہ ابابکر پور کے اوصاف حمیدہ کے حوالے سے تھا اور دوسرا " کامران غنی صبا : ایک مثالی استاد اور نایاب بہی خواہ " کے عنوان سے تھا ، جس میں نتیشور کالج کے صدر شعبۂ اردو کامران غنی صبا کے تعلق سے اپنی راہ ورسم اور ان کی شفقت و عنایت نیز افراد سازی کے حوالے سے میں نے ان کی نمایاں خدمات کا ذکر کیا تھا - جب یہ دونوں مضامین اخبارات میں شائع ہوئے تو میں نے ان کا فوٹو کھینچ کر مفتی صاحب کو واٹس ایپ پر ارسال کردیا ، مفتی صاحب نے پڑھنے کے بعد جو دو/ تین سطروں کا تبصرہ لکھا ، وہ واقعتاً میرے جیسے کم علم اور لکھنے کے سلیقہ سے عاری شخص کے لیے بے پناہ حوصلہ افزا کلمات کے ساتھ ایک مژدہ جاں فزا کی حیثیت رکھتاہے - انہوں نے لکھا : "میں نے ان مضامین کو غور سے پڑھا ہے اچھا لکھا ہے۔نقیب میں زندوں پر مضمون شایع نہیں ہوتا ورنہ اسے شایع کرتا" یہی ایک انتہائی مختصر سا پیراگراف آپ کو میری مذکورہ بالا باتوں کی صحت پر مبنی ہونے کی گواہی دینے پر مجبور کردے گا ، لیکن اسی پر انہوں نے اکتفاء نہیں کیا ، بلکہ اس کے چند ایام بعد مظفر پور میں جب مفتی صاحب کی میرے والد محترم سے ملاقات ہوئی تو ان سے بھی کہا کہ ساجد کو لکھنے کا سلیقہ آگیا ہے اور وہ شاندار تحریر لکھتا ہے - اسی طرح جب میں نے اپنے رفیق درس مفتی محمد موسی قاسمی سیتا مڑھی کے ساتھ مل کر مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد ان کی حیات وخدمات پر لکھے گیے مضامین کو اخبارات ورسائل اور آن لائن پورٹلوں اور ویب سائٹس سے حاصل کرکے " امیر شریعت سابع: علماء و دانشوران کی نظر میں" کے نام سے مرتب کیا اور مفتی صاحب سے تقریظ لکھنے کی درخواست کی تو انہوں نے میری اس درخواست کو بخوشی قبول کیا اور انتہائی جامع و وقیع تقریظ لکھی اور اس میں بھی انہوں نے میری لیاقت و صلاحیت سے بڑھ کر محض حوصلہ افزائی کے لیے تعریفی و توصیفی جملے لکھے اور اس تقریظ کو امارت شرعیہ پٹنہ سے نکلنے والا ہفتہ وار " نقیب" میں بھی شائع کیا - جب میں نے مفتی ظفیر الدین صاحب نوراللہ مرقدہ پر ایک مقالہ معنون ب " مفتی ظفیر الدین صاحب بحیثیت مدرس " لکھا اور انہیں دکھایا تو انہوں نے اسی وقت مختلف صفحات کے مختلف پیراگرافوں کو پڑھ کر کہا کہ آپ نے ماشاءاللہ ، اچھا لکھا ہے ، اس کے علاوہ اور بھی کئی موقعوں پر انہوں نے میری بے پناہ حوصلہ افزائی کی ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے ، مفتی صاحب اور ان جیسے چند مخلص اساتذہ واحباب کی حوصلہ افزائی نے ہی مجھے قلم پکڑنا سکھایا ہے - یہ تو میرے تعلق سے مفتی صاحب کی حوصلہ افزائی کا مختصر سا تذکرہ رہا ، میرے علاوہ سینکڑوں علماء ، فضلاء ، دانشوروں اور طلبہ کی مفتی صاحب نے اس سے کئی گنا بڑھ کر محض حوصلہ افزائی کی نیت سے تعریف و توصیف کی ، جس کے وہ مستحق نہیں تھے - اگر حوصلہ افزائی کے میدان میں ان کی انفرادیت کو دیکھنا ہو تو درجنوں کتابوں پر لکھے گیے ان کے تبصراتی ، تعارفی اور تاثراتی مضامین کو پڑھ لیجیے ، جو اب "حرف آگہی اور آوازۂ لفظ وبیان " کے نام سے کتابی شکل میں بھی منظر عام پر آگیے ہیں ، یقیناً ان دونوں کتابوں کے مطالعے کے بعد آپ کو میری باتوں کے مبالغہ آرائی سے خالی اور مبنی بر حقیقت ہونے کا مکمل یقین ہوجائے گا - مفتی صاحب جس طرح کسی کے علمی وادبی کاموں کی بے پناہ حوصلہ افزائی کرنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں ، ٹھیک اسی طرح اگر کوئی شخص ملی ، مسلکی ، سیاسی ، سماجی ، اصلاحی یا مختلف شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی بھی شعبہ میں معمولی کارنامہ بھی انجام دیتاہے اور مفتی صاحب کو معلوم ہوجاتاہے تو وہ اپنی فطرت و عادت کے مطابق ضرور اس کی ذرہ نوازی کرنے کو اپنا نصب العین گردانتے ہیں ، چناں چہ ہندوستان کے تقریباً تمام صوبوں خاص کر بہار میں چند ہی مدارس ایسے ہیں ، جو فی الواقع دین کی صحیح نشرو اشاعت کا کام انجام دے رہے ہیں اور نونہالان امت کو علم وادب کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرکے دین کی خدمت کے قابل بنارہے ہیں ، ورنہ زیادہ تر مدارس قائم کرنے والے حضرات خواہ وہ علماء ہوں یا عوام ، اخلاص و للہیت کی دولت سے عاری ہوتے ہیں ، قیام مدارس سے ان کا مقصد علوم دینیہ کی اشاعت کے بجائے اپنی روزی روٹی کا انتظام کرنا ہوتاہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بہار کے مختلف اضلاع کے کئی ایک گاؤں میں آپ کو پانچ / چھ مدارس مل جائیں گے ، جبکہ اس ایک گاؤں میں علوم دینیہ کی شمع روشن کرنے کے لیے ایک مدرسہ کافی ہے ، اخلاص و للہیت سے عاری شخص کو بھی مدرسہ قائم کرنے کے بعد کسی بڑی تنظیم سے تصدیق نامہ حاصل کرنے اور کسی بڑے عالم سے تاثراتی پیغام لکھوانے کی ضرورت پڑتی ہے ؛ تاکہ چندہ وصول کرنے کی راہ میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ یا پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑے ، اب اس قسم کے مدارس کے بانیان اور نظماء حضرات تصدیق نامہ کے حصول کے لیے مرکزی تنظیموں اور تاثراتی پیغام کی وصولی کے لیے کسی بڑے عالم کے آستانہ کا چکر کاٹتے ہیں ، عام طورپر بڑے علماء دنیوی اور ذاتی مفاد کی خاطر قائم کیے گیے مدارس کے لیے تاثراتی پیغام لکھنے سے گریز کرتے ہیں ، کیوں کہ ان کا یہ ماننا ہوتاہے کہ اس قسم کے لوگ اپنی عیاری و چالبازی سے زکات و فطرہ اور صدقات وخیرات کی رقم وصول کرلیتے ہیں اور مستحقین بے چارے محروم رہ جاتے ہیں ، لیکن اس کے برعکس مفتی صاحب حسن ظن قائم کرکے اس قسم کے مدارس کے مہتممین و نظماء کی دعوت پر ان کے مدارس میں تشریف بھی لے جاتے ہیں اور ان کے مدارس کے حسب حال محض حوصلہ افزائی کی نیت سے دو چار سطریں ہی سہی ، لیکن تاثراتی پیغام بھی لکھ دیتے ہیں ، شاید وہ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ منفی اثرات و تاثرات اور سلوک و رویوں سے کسی شئی کا انہدام تو ممکن ہے ، لیکن تعمیر بہت مشکل ہے ، جبکہ مثبت تاثرات و برتاؤ سے عام طور پر تعمیر و تشکیل ہی وجود پذیر ہوتی ہے -گویا یہاں بھی حوصلہ افزائی کی ان کی فطرت ان کے عقل پر غالب آجاتی ہے اور ان سے اپنا کام کروا لیتی ہے - ان کی حوصلہ افزائی کی راہ میں نہ تو ذات پات آڑے آتی ہے ، نہ ہی فکری و نظریاتی اختلاف حائل ہوتاہے اور نہ ہی مسلکی ومذہبی تفریق مانع بنتی ہے ، کسی بھی ذات ، کسی بھی فکری گروہ یا کسی بھی مسلک و مذھب کا کوئی بھی فرد قابل تعریف کام کرتاہے اور مفتی صاحب تک اس کی خبر پہنچتی ہے تو وہ اس کے کام سے بڑھ کر اس کی دل جوئی اور ذرہ نوازی کرتے ہیں اور اسی وجہ سے بہار ، اڑیسہ ، جھاڑکھنڈ اور مغربی بنگال کے مختلف مسالک کے چھوٹے چھوٹے مدارس و مکاتب سے لے کر مرکزی مذہبی و عصری اداروں اور مختلف مذاھب و مسالک اور مختلف افکار کے حاملین کی علاقائی تنظیموں سے لے کر مرکزی تنظیموں کے پروگراموں میں جتنی کثرت سے مفتی صاحب کی شرکت ہوتی ہے ، میرے خیال سے بہار کے کسی دوسرے عالم اور مذہبی قائد کے حصے میں یہ چیزیں نہیں آپا تی ہیں ، اب اسے علماء ، دانشوروں ، مدارس و مکاتب اور تنظیموں کے ذمہ داروں اور عوام الناس کے مابین ان کی مقبولیت و محبوبیت کا نتیجہ کہیے یاان کا اپنے معاصرین و اقران اور خردوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ - مفتی صاحب صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ، ان کی قابل رشک زندگی کے دسیوں قابل ذکر اور اہم پہلو ہیں اور ہر پہلو تابناک ، روشن اور مثالی ہے ؛ لہذا ان کی زندگی کے ہر پہلو پر ایک طویل مقالہ بآسانی لکھا جاسکتا ہے ، لیکن سردست اس مضمون میں راقم الحروف نے ان کی زندگی کے صرف ایک پہلو ، یعنی حوصلہ افزائی کے حوالے سے ان کے تئیں اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں اور کئی ایک پہلوؤں کی اس مختصر سے مضمون میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بقیہ دوسرے تمام پہلوؤں کو چھوڑ دیا ہے ، پھر کبھی موقع ملا تو ان کی زندگی کے کسی دوسرے روشن پہلو پر بھی خامہ فرسائی کی جرأت کرنے کی کوشش کی جائے گی -