نریندرمودی نے برکس میں کھینچی نئی لکیر، خودمختار دنیا و باہمی تعاون پر زور
Awaz E Bihar••21 ویوز•9 منٹ پڑھیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو برکس سے اپیل کی کہ وہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی اور اسٹریٹجک رقابتوں سے دوچار دنیا کا مقابلہ زیادہ تعاون، جامع ترقی اور انسانیت کے لیے نئے عزم کے ساتھ کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کی سپلائی چینز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان عالمی مشترکہ ترقی کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے اختتامی خطاب میں مودی نے کہا کہ برکس کی ذمہ داری ہے کہ اس کے بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ کو گلوبل ساؤتھ اور دیگر خطوں کے عوام کے لیے ٹھوس فوائد میں تبدیل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تنازعات اور جغرافیائی سیاسی رقابتیں معیشتوں، سپلائی چینز اور عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہوں تو برکس محض ایک خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا۔ وزیر اعظم کا خطاب دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر ہوا، جس کی میزبانی ہندوستان نے اپنی 2026 کی برکس صدارت کے تحت کی۔ اس دوران نئی دہلی نے تیزی سے تبدیل ہوتی عالمی صورتحال میں برکس کے وژن کے مرکز میں لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کو رکھنے کی کوشش کی۔ مودی نے زور دیا کہ ایسے وقت میں جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات جنگ زدہ علاقوں سے کہیں آگے تک پہنچ رہے ہیں، تعاون کو برکس کا رہنما اصول برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر عام لوگوں کو معاشی غیر یقینی، سپلائی چین میں خلل، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مواقع میں کمی کی صورت میں اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اس پس منظر میں انہوں نے مضبوط تعاون اور زیادہ جامع ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے مفادات برکس کے ایجنڈے کا مرکز ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کے بڑھتے ہوئے ’’ہتھیار سازی‘‘ کے رجحان پر بھی سخت انتباہ دیا۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، جدید ٹیکنالوجی، توانائی کی منتقلی کے لیے ضروری وسائل اور عالمی سپلائی چینز پر بڑھتی ہوئی مسابقت کے درمیان یہ دونوں امور بڑے اسٹریٹجک مسائل بن کر ابھرے ہیں۔مودی نے خبردار کیا کہ اہم ٹیکنالوجیز اور معدنی وسائل کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے یا ان میں جوڑ توڑ کرنے سے ایسی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں جو ترقی اور خوشحالی تک مساوی رسائی کو نقصان پہنچائیں۔ دنیا کی ایک بڑی آبادی، معاشی سرگرمیوں اور قدرتی وسائل کی نمائندگی کرنے والے توسیع شدہ برکس گروپ کے لیے یہ انتباہ خاصی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔مودی کے خیالات ہندوستان کے اس وسیع تر مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمگیریت کا اگلا مرحلہ کمزور یا سیاسی طور پر قابو میں رکھی گئی سپلائی چینز پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے انہوں نے ایسے مضبوط نظام کی وکالت کی جن میں ٹیکنالوجی، وسائل اور معاشی مواقع وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے استعمال ہوں، نہ کہ انہیں جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا جائے۔ بین الاقوامی تنازعات کے حوالے سے ہندوستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے مودی نے کہا کہ بھارت جنگ کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ان کا پُرامن حل پر زور متعدد تنازعات اور بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک رقابتوں کے پس منظر میں سامنے آیا اور اس سے نئی دہلی کی برکس کو تصادم کے بجائے تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش مزید نمایاں ہوئی۔انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کا نقطۂ نظر اس یقین پر مبنی ہے کہ ممالک کے درمیان اختلافات کو طاقت کے استعمال کے بجائے رابطے، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ مودی نے عالمی نظام کو سہارا دینے والے اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ بھی دہرایا اور کہا کہ عالمی طرز حکمرانی کے ڈھانچے کو موجودہ جغرافیائی سیاسی اور معاشی حقائق کی عکاسی کرنی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی تجارتی تنظیم اور کثیرجہتی ترقیاتی بینکوں سمیت اداروں میں بروقت اصلاحات پر زور دیا۔ یہ مطالبہ ہندوستان کے دیرینہ سفارتی مؤقف کا ایک اہم حصہ ہے کہ عالمی طرز حکمرانی کا موجودہ ڈھانچہ ایک سابق دور کی بنیادوں پر قائم ہے اور ترقی پذیر ممالک کی امنگوں یا عالمی معاشی و سیاسی طاقت کی بدلتی تقسیم کی مناسب عکاسی نہیں کرتا۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ برکس کو گلوبل ساؤتھ کے خدشات اور مسائل کو مسلسل اجاگر کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی تجارت، مالیات، ترقی، ٹیکنالوجی اور سلامتی سے متعلق فیصلوں میں مؤثر آواز حاصل ہو۔گلوبل ساؤتھ ہندوستان کی برکس صدارت کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ نئی دہلی نے کوشش کی ہے کہ توسیع شدہ برکس کو محض ایک معاشی اتحاد کے طور پر نہیں بلکہ ایسے ممالک کے لیے ایک بااثر پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جائے جو زیادہ متوازن، نمائندہ اور جامع بین الاقوامی نظام کے خواہاں ہیں۔ مودی نے برکس کی مسلسل توسیع کا بھی خیرمقدم کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ نئے شراکت دار ممالک کی شمولیت اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نئے ممالک کو برکس شراکت دار کے طور پر خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس حوالے سے فیصلے متفقہ طور پر کیے جائیں۔ اتفاقِ رائے پر یہ زور ہندوستان کی اس ترجیح کی عکاسی کرتا ہے کہ توسیع کا ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جو برکس کے اتحاد اور مؤثریت کو مضبوط کرے، نہ کہ تیزی سے رکنیت بڑھانے کے عمل سے اجتماعی اقدامات کی صلاحیت متاثر ہو۔ یہ سربراہی اجلاس برکس کے ارتقا میں ایک اور اہم مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدائی بنیادی ارکان سے آگے بڑھ کر اب اس گروپ میں ایسے ممالک شامل ہیں جن کے سیاسی نظام، معاشی ڈھانچے، اسٹریٹجک مفادات اور علاقائی ترجیحات ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ لہٰذا بحیثیت صدر ہندوستان کے سامنے چیلنج صرف برکس کے بڑھتے ہوئے وزن کو اجاگر کرنا نہیں تھا بلکہ تیزی سے متنوع ہوتی رکنیت کے درمیان ایک قابلِ عمل مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینا بھی تھا۔ مودی کے اختتامی خطاب نے اس ایجنڈے کو چار وسیع ستونوں کی شکل دینے کی کوشش کی: عالمی بحرانوں کے مقابلے میں لچک، ترقی کے انجن کے طور پر اختراع، تقسیم کے متبادل کے طور پر تعاون اور طویل مدتی خوشحالی کے لیے لازمی عنصر کے طور پر پائیداری۔ یہ تصور برکس کو مثبت اور مستقبل پر مرکوز انداز میں پیش کرنے کی ہندوستان کی کوشش کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ نئی دہلی نے برکس کو صرف مغربی قیادت والے اداروں کے مقابلے میں ایک متبادل طاقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے عملی تعاون اور تیزی سے تبدیل ہوتے عالمی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی مضبوط آواز کے لیے ایک ذریعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ مودی کے اختتامی پیغام کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ برکس کا بڑھتا ہوا عالمی اثر و رسوخ اسی وقت حقیقی معنی حاصل کرے گا جب وہ عالمگیریت کو زیادہ جامع، ترقی کو زیادہ منصفانہ اور بین الاقوامی تعاون کو زیادہ مضبوط بنانے میں مدد دے سکے۔ جب ہندوستان نے 2026 کی اپنی برکس صدارت کا اختتام کیا تو مودی نے برکس کے مستقبل کو جغرافیائی سیاسی تقسیم، تکنیکی تبدیلی اور اسٹریٹجک وسائل پر بڑھتی ہوئی مسابقت کے پس منظر میں پیش کیا۔ ان کی اپیل یہ تھی کہ گروپ مزید تقسیم کے بجائے ایسے تعاون کے ذریعے جواب دے جو ابھرتے ہوئے عالمی نظام کے مرکز میں انسانیت، جامع ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو جگہ دے۔ ہندوستان کے لیے یہ وژن اس کے وسیع تر سفارتی مؤقف کو بھی تقویت دیتا ہے، جس میں اسٹریٹجک خودمختاری، گلوبل ساؤتھ کی مضبوط آواز اور کثیرالجہتی نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔ ایسا نظام جس میں عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کو تشکیل دینے والے ادارے 21ویں صدی کی حقیقتوں کی زیادہ درست عکاسی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پائیداری صرف ماحولیات کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے تئیں ایک عہد بھی ہے۔ مودی کے مطابق ڈیجیٹل ایکسی لینس سینٹر کے ذریعے اسمارٹ گرڈز اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں برکس کا تعاون صاف توانائی کے نظام کو زیادہ قابل اعتماد، مؤثر اور قابل رسائی بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔برکس زرعی ماحولیات اور دوبارہ تخلیقی زراعت کے شعبوں میں مراکزِ امتیاز کو بھی آگے بڑھا رہا ہے، جن کا مقصد روایتی علم کو جدید سائنسی طریقوں کے ساتھ جوڑنا ہے۔ برادری پر مبنی موسمیاتی موافقت کے لیے وضع کیے گئے اصولوں میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے مؤثر طریقے تیار کرنے میں مقامی اور روایتی علم کو زیادہ اہمیت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مودی نے کہا کہ برکس تعاون کا حتمی امتحان یہ ہوگا کہ آیا تنظیم کے اندر تیار کیے جانے والے اقدامات رکن ممالک سے باہر کے ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’’برکس میں تیار کیے گئے حل صرف برکس تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ ان حلوں کو گلوبل ساؤتھ کی ضروریات کے مطابق قابلِ اطلاق اور قابلِ رسائی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں برکس کے بارے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی وجہ یہ ہے کہ یہ گروپ انہیں اپنی آواز پیش کرنے کا موقع دیتا ہے اور ان کے تجربات کو تسلیم کرتا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں محض حل حاصل کرنے والے ممالک کے طور پر دیکھا جائے۔ مودی نے کہاکہ’’میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ برکس میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کا اعتماد بڑھا ہے، کیونکہ برکس میں ان کی آواز سنی جاتی ہے، ان کے تجربات کا احترام کیا جاتا ہے اور حل ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر تیار کیے جاتے ہیں۔