’نتیش کمار نے کہا تھا کہ یو سی سی بہار میں نافذ نہیں ہوگا‘ شیام رجک
••3 views•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ :(اے بی این ) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے لوک سبھا انتخابات 2029 سے قبل ملک کی 21 بی جے پی-این ڈی اے اقتدار والی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے والے بیان کے بعد سیاسی رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی کی اتحادی جماعت جے ڈی یو کے لیڈر شیام رجک نے کہا ہے کہ یہ بل پارلیمنٹ میں آیا تھا، تو ہمارے لیڈر (نتیش کمار) نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ بل کی حمایت تو کرتے ہیں، لیکن اسے اپنی ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم آج بھی اپنی اسی بات پر قائم ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امت شاہ کا بیان صرف ووٹ بینک کے لیے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یو سی سی نافذ ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، یہ روایات سے وابستہ ملک ہے اور لوگ اپنی روایات پر عمل کریں گے۔ آپ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر بات نہیں کریں گے، بلکہ ان مسائل پر گفتگو کریں گے، جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ دوسری طرف کانگریس لیڈر راشد علوی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں سے بی جے پی مسلمانوں کے خلاف ہر کام کر رہی ہے۔ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا یو سی سی سے اقتصادی حالات بہتر ہوں گے؟ کیا یو سی سی سے بے روزگاری ختم ہو جائے گی؟ کیا یو سی سی سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہوں گی؟ آپ کیوں اسے 21 ریاستوں میں نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ راشد علوی نے مزید کہا کہ یکساں سول کوڈ کا مطلب ہے سول قانون میں یکسانیت۔ ابھی ہندوؤں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ پرسنل لاء ہے۔ آپ اس قانون کو 21 ریاستوں میں نافذ کرنے جا رہے ہیں، یہ بس مسلمانوں کو پریشان کرنے کی ضد ہے۔ بے روزگاری یا معاشی صورتحال بی جے پی لیڈران کی توجہ کا مرکز نہیں ہے۔ طلاق ثلاثہ، یکساں سول کوڈ، مسجد-مندر اور ہندو-مسلمان ہی آپ کے ایجنڈے ہیں۔ بی جے پی نے اس ملک کو برباد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ واضح رہے کہ امت شاہ نے ممبئی میں منعقدہ ایک پروگرام میں کہا تھا کہ کئی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مرحلہ آگے بڑھ چکا ہے اور 2029 تک سبھی 21 بی جے پی اور این ڈی اے حکمراں ریاستوں میں یو سی سی نافذ ہو جائے گا۔