جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
آپریشن سندور نے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی عہد بستگی کا پیغام دیا: راج ناتھ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

آپریشن سندور نے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی عہد بستگی کا پیغام دیا: راج ناتھ

Awaz E Bihar•30 اپریل، 2026 کو 04:37 PM•9 ویوز•7 منٹ پڑھیں

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہندوستان اپنی سرزمین پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد اب محض سفارتی بیانات جاری کرنے کی پرانی ذہنیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ آگے بڑھ کر فیصلہ کن کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو یہاں ایک قومی سلامتی سے متعلق ایک چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے واضح موقف اپنایا ہے کہ کسی بھی صورت حال میں دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف حکومت کے پختہ عزم کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "دہشت گردی ایک بگڑی ہوئی اور ذہنی خلل والی ذہنیت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسانیت پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف قومی سلامتی کا معاملہ نہیں ہے، یہ بنیادی طور پر انسانی اقدار کے تحفظ کی جنگ ہے۔ یہ ایک وحشیانہ نظریے کے خلاف جدوجہد ہے جو ہر انسانی قدر کے براہ راست مخالف کھڑی ہے۔ ہم نے اس ہندوستانی نقطہ نظر کو ملک کے اندر اور بیرون ملک واضح طور پر پیش کیا ہے۔"
وزیر دفاع نے کہا کہ جب تک دہشت گردی موجود رہے گی، یہ اجتماعی امن، ترقی اور خوشحالی کو چیلنج کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا، "دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر یا اسے نکسل ازم جیسے پرتشدد نظریات سے جوڑ کر جائز قرار دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک ہے اور ایک طرح سے دہشت گردوں کو ڈھال فراہم کرتا ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے مقصد کی طرف بڑھ سکیں۔ دہشت گردی صرف ملک دشمن فعل نہیں ہے، اس کے کئی پہلو ہیں-آپریشنل، نظریاتی اور سیاسی۔ اس سے اسی وقت نمٹا جا سکتا ہے جب ہم ان تمام پہلوؤں پر کام کریں۔"
پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت پر راج ناتھ سنگھ نے کہا، "ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی تھی۔ تاہم آج ہندوستان کو عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے لیے جانا جاتا ہے، جب کہ پاکستان کو ایک الگ قسم کے آئی ٹی یعنی 'بین الاقوامی دہشت گردی' کا مرکز مانا جاتا ہے۔"
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کو ہندوستانی مسلح افواج کے اتحاد اور ہم آہنگی کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بری فوج، ہندوستانی بحریہ اور ہندوستانی فضائیہ نے متحد ہو کر اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت کام کیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستان کی فوجی طاقت اب الگ الگ حصوں میں کام نہیں کرتی، بلکہ یہ ایک متحدہ، مربوط اور عالمی طاقت کے طور پر ابھری ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے آپریشن سندور کو اپنی شرائط اور اپنے منتخب کردہ وقت پر انجام دیا، اور اسے مکمل طور پر اپنی شرائط پر ہی روکا۔ انہوں نے کہا، "اس مہم کے دوران ہم نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف ان لوگوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے ہمارے خلاف حملہ کیا تھا۔ ہم نے مہم اس لیے نہیں روکی کہ ہماری صلاحیتیں ختم ہو گئی تھیں یا کم ہو گئی تھیں۔ ہم نے اسے مکمل طور پر اپنی شرائط پر ختم کیا۔ ہم طویل عرصے تک جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ ہمارے پاس ضروری اضافی صلاحیت اور اچانک بحران کے وقت اپنی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھانے کی اندرونی طاقت موجود ہے۔"
وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کا فوجی-صنعتی ڈھانچہ مسلسل یہ ثابت کرتا رہا ہے کہ وہ نہ صرف امن کے وقت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے، بلکہ جنگ کے وقت تیز سپلائی اور رسد کے مانگ کو بھی پورا کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مدت کے دوران ہندوستان نے ایٹمی حملے کی دھمکی یا دباؤ میں آئے بغیر اپنے مقررہ مقاصد کو پورا کیا۔ انہوں نے کہا، "یہ نیا عالمی نظام ہے، یہ نئے عالمی عہد کا نیا ہندوستان ہے۔ یہ وہ ہندوستان ہے جو دہشت گردی اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ یہ ہمارے وزیر اعظم کی واضح پالیسی ہے، جس نے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ہندوستان کو تبدیل کر دیا ہے۔"
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کو مزاحمتی صلاحیت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ مہم صرف 72 گھنٹوں کے اندر ختم ہو گئی، لیکن اس سے پہلے کی تیاری جامع اور طویل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی اضافی صلاحیت، وسائل کو تیزی سے جمع کرنے کی صلاحیت، اسٹریٹجک ذخائر اور مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں کی ثابت شدہ معتبریت اب مزاحمتی پالیسی کے لازمی حصے بن چکے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور کے نتیجے میں عالمی تاثر میں نمایاں تبدیلی اور مقامی ہتھیاروں و دفاعی مصنوعات کی معتبریت کے تئیں مثبت نقطہ نظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "کئی ممالک نے ہندوستان سے ہتھیار اور دفاعی ساز و سامان خریدنے میں گہری دلچسپی دکھائی ہے۔ اعداد و شمار خود اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ مالی سال 26-2025 میں دفاعی برآمدات 38,424 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 62.66 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔ ہم ان معیارات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔"
جرمنی کے اپنے حالیہ دورے پر وزیر دفاع نے کہا کہ یورپ کی بڑی کمپنیاں ہماری نجی دفاعی صنعت اور پبلک سیکٹر کے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بے تاب ہیں، جو ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معتبریت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہندوستان کی مضبوط پوزیشن نہ صرف اس کی فوجی طاقت سے، بلکہ مزاحمتی صلاحیت قائم کرنے کی قابلیت سے بھی مستحکم ہوئی ہے۔
مزاحمتی صلاحیت کی نوعیت میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ سائبر سیکٹر، خلائی جنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اس کے اہم اجزاء بن گئے ہیں، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس تبدیلی کے مرکز میں ہے۔ انہوں نے کہا، "آپریشن سندور کے دوران استعمال کیے گئے برہموس جیسے جدید میزائل نظام سے لے کر مختلف نگرانی کے پلیٹ فارمز تک، اے آئی کا وسیع اور مؤثر استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے ہماری درستگی اور حملے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں بڑی کارروائیوں کی معلومات اکثر عوامی ہو جاتی ہیں، وہیں ان گنت چھوٹی مہمات اور عمل پہلے سے فعال ہو کر خطرات کو پیدا ہونے سے پہلے ہی بے اثر کر دیتے ہیں۔ ایسے تمام معاملات میں اے آئی کا وسیع استعمال کیا جاتا ہے۔"
اے آئی کے عملی استعمال پر زور دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کا پتہ لگانے اور فیصلہ کن جواب دینے میں اہم ہے۔ انہوں نے کہا، "اے آئی کا ایک مطلب 'آگمنٹڈ انفنٹری' بھی ہے۔ یہ ہمارے فوجیوں کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کر رہا ہے۔ جدید جنگ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنی فوج کو ٹیکنالوجی پر مبنی، مربوط جنگی مشین میں بدلنے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے فوج نے 'رودر' بریگیڈ، 'بھیرو' بٹالین، 'شکتی بان' آرٹلری رجمنٹ اور 'دویاستر' بیٹریوں جیسے چست اور خود کفیل جنگی یونٹس قائم کیے ہیں، جو جدید مخلوط خطرات کا فوری اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔"
تاہم، جناب سنگھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کو صرف مثبت نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ ڈیپ فیک، سائبر جنگ اور خود مختار ہتھیاروں کے نظام نئے اور سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ، ڈی آر ڈی او کے سکیرٹری ڈاکٹر سمیر وی کامت اور چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ایئر مارشل آشوتوش دیکشت بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026