اپوزیشن کا آرمڈ پولس فورس بل کو جے پی سی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ
Awaz E Bihar••12 ویوز•7 منٹ پڑھیں
لوک سبھا میں اپوزیشن نے کہا ہے کہ آرمڈ پولس فورس بل حکومت نے جلد بازی میں پیش کیا ہے اور اس پر گہرائی سے غور وخوض کرنے کی ضرورت ہے، اس لئے اس بل کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ کانگریس پارٹی کے ہریش چندر مینا نے جمعرات کے روز لوک سبھا میں "سینٹرل آرمڈ پولس فورسز (جنرل ایڈمنسٹریشن) بل 2026" پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے بل پیش کیا گیا ہے وہ جلد بازی ظاہر ہوتی ہے۔ بل میں بہت ساری خامیاں ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں بہت کچھ بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ قومی سلامتی سے متعلق ہے، اور اس میں غیر فعال ہوکر کام نہیں ہوسکتا ہے۔ بل میں بہت ساری خامیاں ہیں جن کو دور کرنے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اس لیے ان کوتاہیوں کو دور کرنے اور بل پر جامع غور و خوض کو یقینی بنانے کے لیے اسے جے پی سی کے پاس بھیجنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ احتساب کا ہے۔ ملازمین حکومت کے خلاف عدالت گئے اور حکومت ہار گئی لیکن حیران کن طور پر وزارت داخلہ کے حکام کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کے اپنے ملازمین حکومت کے خلاف عدالت میں لڑ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس معاملے میں اپنا حکم جاری کیا تھا۔ حکومت اس جنگ میں ہار گئی، اور نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت میں کوئی بھی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ مسٹر ہریش چندر مینا نے کہا کہ بل پر اتفاق رائے ضروری ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ اسے مشترکہ کمیٹی کے پاس بھیجنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کیس میں عدالت میں ہار گئی، اور یہ شکست صاف ظاہر کرتی ہے کہ حکومت نے حقائق کو مضبوطی کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بل میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے اسے فوری طور پر جے پی سی کے پاس بھیجنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے راؤ نے بل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بل کے ذریعے حکومت بنیادی تبدیلیاں کر رہی ہیں، جو موجودہ ماحول میں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے اندرونی امن و سلامتی بہت ضروری ہے، تاکہ داخلی نظم و ضبط کو مضبوط کیا جا سکے۔ کسی بھی معاشرے یا ملک کی ترقی کے لیے داخلی نظم و نسق کو مضبوط بنانا ضروری ہے اور اسی یقین کی روشنی میں اس بل کا متعارف کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلی سلامتی کے لیے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ بل داخلی سلامتی کی حکمرانی کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خدمات کے اداروں کو منظم اور شفاف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں سے اداروں کو خود انحصاری ملے گی اور مسلح افواج کا حوصلہ بلند ہوگا۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دھرمیندر یادو نے کہا کہ مسلح افواج کے جوان جو ڈیوٹی کے دوران اپنی جان گنواتے ہیں انہیں شہید کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل مکمل غور و خوض کے بعد پیش کیا جانا چاہئے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو اس پر وسیع بحث کا موقع دیا جائے۔ فوجیوں اور افسروں کے خیالات کو بھی زیر غور لایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فوج کی طرح پرانی پنشن اسکیم کو مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے نافذ کیا جائے۔ وہ اس بل کی مخالفت کرتے ہيں۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی مہوا موئترا نے کہا کہ مسلح افواج کے افسران بھی یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کا امتحان پاس کرکے تقرری حاصل کرتے ہیں، اور یہ بل انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع سے محروم کر دیتا ہے۔ مرکزی مسلح افواج کے افسران اور سپاہی سرحد پر مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔ اب ان کی ترقیوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ ان کے حق میں متعدد عدالتی احکامات صادر ہوئے ہیں اور اب یہ بل ان کی پروموشن میں رکاوٹ ثابت ہونے والی ہے۔ محترمہ موئترا نے مطالبہ کیا کہ بل کو وسیع غور و خوض کے لیے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ تیلگو دیشم پارٹی کے کرشنا پرساد ٹینیٹی نے کہا کہ یہ بل مسلح افواج کے کام کاج کو مربوط کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بل کی دفعات سے مسلح افواج میں نچلے درجے کے اہلکاروں کی ترقی کو بھی تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج میں 90,000 عہدے خالی ہیں جنہیں پُر کرنا ضروری ہے۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے سنجے اتمراؤ دیشمکھ نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ بل لا رہی ہے۔ حکومت کو عدالت کا حکم ماننا ہوگا۔ اس بل سے مسلح افواج کے جوانوں کے حوصلے پست ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج میں ہزاروں عہدے خالی ہیں جنہیں پُر کیا جانا چاہیے۔ بل کو تفصیلی غور وخوض کے لیے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) کے دھیریہ شیل پاٹل نے کہا کہ مسلح افواج افسران چاہے کتنے ہی سخت محنت کریں یا کتنے ہی زیادہ کام کریں، وہ اپنی یونٹ میں اعلیٰ عہدے تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ حکومت نے ایسی دفعات والا بل کیوں پیش کیا؟ حکومت عداات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ یہ بل فوجیوں کے حوصلے پست کرے گا۔ اس بل میں فوجی جوانوں کی سہولتوں کو بڑھانے کا کوئی التزام نہیں ہے۔ اسے جلد بازی میں لایا گیا ہے۔ اسٹیک ہولڈرز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ بل توہین عدالت کے مترادف ہے اور فوجیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جائے۔ شیو سینا کے سمبھاجی راؤ مانے نے کہا کہ اس بل کو پیش کرکے مودی حکومت نے سکیورٹی فورسز کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ حکومت فوجیوں کے لیے بہتر انتظامات کرے گی۔ وہ اس بل کی حمایت کرتے ہیں۔کانگریس کے دیپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ یہ بل سی اے پی ایف اہلکاروں کے مستقبل سے سروکار رکھتا ہے۔ اس سے تمام فوجیوں کے حوصلے پست ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کی سلامتی سے متعلق ہے۔ حکومت نے یہ بل سی اے پی ایف کے اہلکاروں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے لایا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ فوجی ہماری حفاظت کرتے ہیں لیکن وہ انہیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے سی اے پی ایف کے حق میں فیصلہ سنایا ہے، لیکن حکومت اس فیصلے کو پلٹنے کے لیے یہ بل لائی ہے۔ بی جے پی کے وشنو دیال رام نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پچھلی دہائی پر نظر ڈالیں تو سی اے پی ایف کے اندر مختلف قواعد و ضوابط اور کیڈر کی بدانتظامی کی تصویر سامنے آتی ہے، جس کی وجہ سے مختلف مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی بے یقینی سے سکیورٹی انتظامات مشکل ہوئے ہيں، اب اس میں بہتری لانے کے لیے بل پیش کیا گیا ہے۔ یہ نظام آئینی بنیادوں پر ہوگا۔ قانون پر مبنی نظام سے تنازعات کم ہوتے ہیں، حکمرانی آسان ہوتی ہے۔ یہ بل قومی سلامتی کو مضبوط کرتے ہوئے مسلح کمان کے ڈھانچے میں شفافیت لائے گا۔ یہ بل متوازن انتظامی فیصلوں کو یقینی بنائے گا۔ یہ کسی کے حقوق کو کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ انتظامی بہتریلانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ ہماری حکومت معاشرے کے تمام طبقات کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔