قدرتی کھیتی کا سکم ماڈل ملک کے لیے مشعلِ راہ: وزیر اعظم مودی
Awaz E Bihar••6 ویوز•4 منٹ پڑھیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ قدرتی کھیتی کا سکم ماڈل پورے ملک کے لیے ایک تحریک ہے اور سکم کا طرزِ زندگی اور یہاں کے لوگوں کا عزم ملک کے مستقبل کے خوابوں کا حصہ بن چکا ہے۔ وزیر اعظم مودی منگل کی صبح ریاست کے 50 ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کے اختتام کے موقع پر ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سکم میں بہت زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں اور ان میں سے ایک اہم شعبہ کھیل ہے، جہاں نوجوانوں نے اپنی قابلیت اور ٹیلنٹ کو ثابت کیا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ان کی حکومت 'کھیلو انڈیا' جیسے پروگراموں کے ذریعے ملک بھر میں کھیلوں کی حوصلہ افزائی اور سہولیات میں اضافے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکم نے اپنے ترقیاتی سفر میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن ہمیں سکم کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھانے اور 'وکست بھارت' کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے سخت محنت کرنی ہے تاکہ ریاست کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ سکم میں صفائی ستھرائی، خوبصورتی اور یہاں کے لوگوں کی نرم مزاجی کی تعریف کرتے ہوئے ٍوزیر اعظم مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست میں انفراسٹرکچر کی ترقی کو مکمل ترجیح دے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ''ایک سب سے اچھی بات جو مجھے پورے راستے نظر آئی، وہ سکم کی سڑکوں کی صفائی تھی۔ دور دور تک کوئی گندگی نہیں، ہوا میں بھی پاکیزگی اور سڑکوں پر بھی صفائی، سکم کے لوگ فطرت کے حقیقی محافظ اور سچے سفیر ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم سکم میں کنیکٹیوٹی اور انفراسٹرکچر پر سب سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں یہاں سینکڑوں کلومیٹر ہائی ویز تعمیر کی گئی ہیں اور گاؤں گاؤں تک سڑکیں پہنچانے کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست کے لوگوں کو سستا علاج فراہم کرنے کے لیے صحت کی سہولیات پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 'آیوشمان یوجنا (جس کے تحت 70 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو مفت علاج کی سہولت ملتی ہے) اور 'جن اوشدھی مراکز کا ذکر کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ سکم کی سیاحت پر مبنی معیشت ریاست کی ایک بڑی طاقت ہے۔ یہ ریاست ملک کے کل رقبے کا صرف ایک فیصد ہے، لیکن یہ ہندوستان کے نباتیاتی تنوع کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں پرندوں کی 500 انواع، 700 اقسام کی تتلیاں اور کنچن جنگا کی شاندار چوٹیاں موجود ہیں۔ ریاست کی قدرتی خوبصورتی سیاحوں کو مسحور کر دیتی ہے اور انہیں یہاں بار بار آنے کی ترغیب دیتی ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ سکم اور شمال مشرقی ریاستیں ہمارے لیے صرف ملک کا ایک اہم حصہ ہی نہیں ہیں، بلکہ یہ ہندوستان کی 'اشٹ لکشمی' ہیں۔ اسی لیے حکومت نے 'ایکٹ ایسٹ' کی پالیسی پر کام شروع کیا ہے اور شمال مشرق میں 'ایکٹ فاسٹ' یعنی مزید تیزی سے کام کرنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب زبان، خطے اور سیاست کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تو ایسے وقت میں سکم 'ایک بھارت، سریشٹھ بھارت' کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ریاست کو اتحاد اور ہم آہنگی کی ایک مثالی مثال قرار دیا۔ وزیر اعظم نے اس خطے پر مرکزی حکومت کی خصوصی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی ترقی ان کی اولین ترجیح بنی ہوئی ہے۔ اس کے تحت کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے اور سیاحوں کی آمد بڑھانے کے لیے باگڈوگرہ سے ایک ایکسپریس وے اور گنگٹوک میں ایک رنگ روڈ بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''سیاحت سکم کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور رابطوں کو مضبوط کرنے سے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔" انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے روزگار کو مزید فروغ دینے کے لیے تقریباً 1,000 ہوم اسٹے تیار کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے ترقی کی موجودہ رفتار کا موازنہ گزشتہ کانگریس حکومتوں کے دور کی 'لاپرواہی' سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک کانگریس حکومتوں نے سکم کے ترقیاتی منصوبوں کو سرد خانے میں ڈال رکھا تھا۔ سکم سمیت پورے شمال مشرقی خطے کو نظر انداز کیا گیا اور مرکزی حکومت کی اسکیمیں لوگوں تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ سکیں۔" انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ماضی میں صحت کی سہولیات کا بنیادی ڈھانچہ بھی ناکافی تھا، جب کہ ان کی حکومت نے بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو ترجیح دی ہے۔