سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے بل کو پارلیمنٹ کی منظوری
Awaz E Bihar••48 ویوز•2 منٹ پڑھیں
راجیہ سبھا نے بدھ کے روز اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل 2026 صوتی ووٹ سے منظور کر لیا، جس کے تحت سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 33 سے بڑھا کر 37 کر دی گئی ہے۔
لوک سبھا سے پہلے ہی منظور ہونے کے بعد اس بل کو پارلیمنٹ کی حتمی منظوری مل گئی ہے۔ یہ قانون رواں سال 16 مئی کو جاری کیے گئے آرڈیننس کی جگہ لے گا۔
قانون و انصاف کے مرکزی وزیرمملکت ارجن رام میگھوال نے بل پر تقریباً دو گھنٹے جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھانا اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد تصفیے کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار نئے ججوں کی شمولیت کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 37 ہو جائے گی، جبکہ چیف جسٹس سمیت مجموعی تعداد 38 ہوگی۔ مسٹر میگھوال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بڑھتے ہوئے مقدمات کے پیش نظر ججوں کی تعداد میں اضافہ وقت کی ضرورت تھا۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر نئے مقدمات میں مسلسل اضافے اور آئینی بنچوں کی تشکیل کے باعث ججوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جنوری 2026 تک سپریم کورٹ میں 92,101 مقدمات زیر التوا تھے۔ اگرچہ 2019 سے عدالت تقریباً مکمل منظور شدہ تعداد کے ساتھ کام کر رہی ہے، لیکن 2025 میں 65,615 مقدمات نمٹائے جانے کے مقابلے میں 75,410 نئے مقدمات درج ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت زیر التوا مقدمات کی تعداد کم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسی مقصد سے ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ای کورٹ مشن کے تحت بھی مقدمات کے تیز تر تصفیے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے لیے سات ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مرکزی وزیر مملکت نے عدلیہ میں خواتین کی بڑھتی نمائندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی ہائی کورٹوں میں خواتین چیف جسٹس خدمات انجام دے رہی ہیں اور جلد ہی ملک کو پہلی خاتون چیف جسٹس آف انڈیا بھی ملنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کی آزادی کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔