ڈاکٹر نور السلام ندوی استاذ الاساتذہ پروفیسر اعجاز علی ارشد کی کتاب ’’یادوں کے درمیاں‘‘ ان علمی و ادبی شخصیتوں کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جن سے ان کو قربت و نزدیکی رہی ہے۔ ان میں کچھ اساتذہ ہیں اور کچھ ہم عصر۔ انہوں نے ان شخصیتوں کو جیسا دیکھا اور پرکھا اس کی تصویر اسی طرح پیش کر دی ہے۔ البتہ مضامین قلم بند کرنے میں اس بات کی رعایت برتی گئی ہے کہ وہ واقعات اور حالات زیر قلم لائے جائیں جو براہ راست مضمون نگار کے تجربے میں آئے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں جن شخصیتوں پر مضامین ہیں ان میں احمد جمال پاشا، ناصر زیدی، ہوش عظیم آبادی، نقی احمد ارشاد، بہزاد فاطمی، ڈاکٹر شکیب ایاز، سید تراب حسین فردوسی، سید عاشور کاظمی، پروفیسر ممتاز احمد، شاہ مشتاق احمد، علامہ اسرار جامعی، منظور عثمانی، شاہد علی خان،محمد ابو الخیام(اے خیام)پروین شیر، قاضی عبدالودود، مولانا شاہ ہلال احمد قادری، علیم صبا نویدی اور ثریاجمال مظہری شامل ہیں۔ یہ مضامین متعلقہ شخصیت کی زندگی کی کسی نہ کسی جہت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان میں کئی کردار ایسے ہیں جو ہم سے جاننے، سیکھنے اور برتنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ مصنف کے نزدیک یہی جذبہ کتاب کی اشاعت کا سبب بنا، یہ کتاب ان شخصیتوں کے تعلیمی،ادبی، فکری اور تہذیبی کارناموں کا ایک جامع اور وقیع تعارف پیش کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہماری تہذیبی وسماجی روایت کی شناخت اور پہچان تھے۔ یہ محض ایک فرد نہیںبلکہ ایک عہد تھے،انہوں نے اخلاقی، تہذیبی،سماجی اور روایتی ورثہ کو عزیز سمجھا، اس کی حفاظت کی۔ تمام مضامین کا الگ الگ جائزہ لینا یہاں ضرروری نہیں ہے اور یہ مختصر مضمون میں ممکن بھی نہیں ہے، مضامین طویل بھی ہیں اور مختصر بھی، مگر مقصد ایک ہے اور وہ یہ کہ شخصیتیں بڑی مشکل سے بنتی ہیں،جن لوگوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ لوگ بڑے اہم تھے۔کسی نہ کسی تہذیبی اور سماجی روایت کے امین تھے۔ ان کی یادوں کے چراغ کو روشن رکھا جائے اور ان سے روشنی حاصل کی جائے۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد علم و ادب کے اس مقام پر فائز ہیں کہ ان کا نام مستند حوالہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی علمی، ادبی اور صحافتی خدمات تقریباً نصف صدی پر محیط ہیں۔ یہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اور ہر جہت روشن اور تابناک، علم میں گہرائی، فکر میں وسعت اور نظر میں آفاقیت ہے۔ ان کی تحریریں اپنے عہد کی تہذیبی، سماجی، ادبی اور فکری شعور کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ بلاشبہ ایسی ہشت پہلوشخصیت نہ صرف اپنے عہد کے لیے بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی شمع رہگزر ثابت ہوتی ہے۔ان کا اپنا منفرد طرز و اسلوب ہے۔تحریر میں سنجیدگی، شائستگی، انشاء پردازی اور ظرافت کی رنگ آمیزی سے ایک خاص قسم کا تاثر ابھرتا ہے۔ مثال کے طور پر ناصر زیدی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’مبالغے سے کام لوں تو کہہ سکتا ہوں کہ میرے ادبی ذوق کی ابتدائی تشکیل و تعمیر میں سوفیصد ان ہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ،بخالت کو راہ دوں تو بس یہ کہہ کر گزر سکتا ہوں کہ ادب سے میری دلچسپی میں ایک درجن دوسرے ادبی و غیر ادبی لوگوں کے ساتھ ساتھ ناصر زیدی کا بھی ہاتھ رہا ہے۔‘‘ ’’وہ ایک نام جو اپنے ہی شہر میں گمنام‘‘کے عنوان سے اے خیام کا تذکرہ کیا ہے۔ ساڑھے پانچ صفحے کے اس مضمون میں صاحب تذکرہ کا نام آخر میں آیا ہے۔مضمون پڑھتے ہوئے قاری کو یہ تجسس ہوتا ہے کہ آخر کس کا بیان ہو رہا ہے؟اس مضمون میں انشائیہ کا رنگ گہرا ہے۔ تین سطری پہلا پیرا گراف ملاحظہ کیجئے: ’’یہ کوئی صدی دو صدی پرانی کہانی نہیں، ساٹھ ستر سال پہلے کا قصہ ہے، جب میرے آبائی شہر پٹنہ سے لگ بھگ چالیس میل دور ایک چھوٹے سے گاؤں میں اس نے رات کے قہر سے ڈرے بغیر سر برہنہ اس دنیا میں قدم رکھا تھا، لیکن تب اس سے میرا دور دور کا کوئی رشتہ یا تعارف نہیں تھا۔‘‘ مصنف نے بھولی بسری یادوں کو پرلطف بنا کر پیش کیا ہے۔ غالباً یہی وجہ رہی ہوگی کہ انہوں نے ابتدائیہ میں تحریر کیا ہے کہ میرے لیے یاد ماضی کبھی عذاب نہیں رہی۔اسلوب بیان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر مضمون پڑھنے کے بعد یہ خواہش باقی رہتی ہے کہ کاش قلم اور چلتا اور مضمون کچھ اور طویل ہوتا ۔سب سے آخری مضمون ’’محفلے دیدم‘‘ کے عنوان سے ہے جو پٹنہ یونیورسٹی سے وابستہ یادوں پر مبنی ہے۔ اس میں مضمون نگار نے پٹنہ یونیورسٹی میں بیتے ہوئے لمحات جو طالب علمی کے دور سے شروع ہو کر استاذ بننے اور پھر سبکدوش ہونے تک محیط ہے پر مشتمل ہے۔بہت ہی موثر اور دلکش پیرایہ اسلوب میں بیان کیا ہے، جس میں اخلاص و محبت، درد و تاثیر اور جذبہ و فکر سبھی شامل ہیں۔ مضمون کا حرف حرف مادر درسگاہ سے محبت کی گواہی دے رہا ہے۔اس میں بعض اساتذہ کا ذکر ہے۔ دوسری تعلیم گاہوں کی طرح پٹنہ یونیورسٹی کے معیار پر بھی اظہار خیال کیا گیا ہے اور شعبہ اردو کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شعبہ اردو میں بھی ’’اردو بیمار‘‘ کا حال بہت اچھا نہیں ہے۔ شخصیات کا تعارف کرانے میں محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے،جہاں فکر وفن پر تبصرہ کیا ہے وہاں بھی احتیاط برتا گیا ہے اوراعتدال وتوازن کو راہ دی گئی ہے۔زبان شستہ،شگفتہ، رواں اور ادبی ذوق سے ہم آہنگ ہے۔ اسلوب میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ انشائیہ نگاری اور ظرافت کی جھلک ملتی ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب نہ صرف اسلاف کے علمی وادبی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ مصنف کے اخلاقی اور تہذیبی روایت سے وابستگی کا ثبوت ہے اورنئی نسل کو اسلاف سے روشناس کرانے کا بھی ذریعہ ہے۔ اہل علم وقلم کے ساتھ اساتذہ، طلبہ اور نسل نو کیلئے مفید اور قابل مطالعہ ہے۔144 صفحات پر مشتمل یہ کتاب عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔قیمت 250 روپے ہے۔ اسے مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، جامع مسجد دہلی، ایجو کیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بک امپوریم ،سبزی باغ، پٹنہ کے علاوہ حیدر آباد، ممبئی، اورنگ آباد، جموں کشمیر، گجرات وغیرہ کے مکتبے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔