پروفیسر فاروق احمد صدیقی اپنی تصنیف’’ افکار وتاثرات‘‘ کے حوالے سے
Awaz E Bihar••4 ویوز•9 منٹ پڑھیں
انوارالحسن وسطوی پروفیسر فاروق احمد صدیقی کا نام اردو دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔پروفیسر موصوف بی۔آر۔اے بہار یونیورسٹی، مظفر پور(بہار)میں صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف ہیو مینٹیز کے عہدے پر فائز رہے ہیں لیکن علمی وادبی دنیا میں ان کی شناخت ان عہدوں کے سبب نہیں بلکہ ان کی ادبی حیثیت ،علمیت،قابلیت اور صلاحیت کے سبب رہی ہے۔ معلمی(پروفیسری) کے پیشے سے گرچہ موصوف 15/ برس قبل سبکدوش ہو چکے ہیں لیکن بحیثیت ادیب،ناقد،محقق،مبصر،شاعر اور خطیب وہ آج بھی تازہ دم ہیں،بلکہ پہلے سے زیادہ انکا تخلیقی سفر تیز گام ہے۔ جس کابین ثبوت یہ ہے کہ دوران ملازمت ان کی صرف 2/کتابیں"دیوان ریاض حسن خاں خیال"(ترتیب وتدوین)اور "افہام وتفہیم"(تنقیدی مضامین کا مجموعہ)ہی منظر عام پر آسکیں،جبکہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد15/ برس کے عرصے میں ان کی9/کتابیں تواتر سے منظر عام پر آگئیں ۔قرینہ اغلب ہے کہ2026ء کا آغاز ہوتے ہی موصوف کی تصانیف کی تعداد ایک درجن کو پہنچ جائے گی۔ زیر تذکرہ کتاب" افکار وتاثرات"(مطبوعہ2025ء) پروفیسر فاروق احمد صدیقی کے تنقیدی وتحقیقی مضامین کا مجوعہ ہے۔اس سے قبل اس نوعیت کی ان کی پانچ کتابیں"افہام وتفہیم"(مطبوعہ 2005ء)،"تفہیم و تجزیہ"(مطبوعہ2015 ء)،"مقالات فاروقی"(مطبوعہ 2019ء)،"احساس و ادراک"(مطبوعہ 2020ء) اور"عرفان وآگہی"(مطبوعہ2023ء) منظر عام پر آکر شائقین ادب اور ناقدین ادب سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ زیر تذکرہ کتاب"افکارو تاثرات"میں شامل تقریباً تمام مضا مین گرچہ ملک کے مقتدر رسائل وجرائد میں شائع شدہ ہیں لیکن یہ مضامین اپنی اہمیت اور افادیت کے تعلق سے اتنے اہم ہیں کہ انہیں کتابی شکل دینا بہت ضروری تھا۔قابل مشکور ہیں پروفیسر فاروق احمد صدیقی جنہوں نے اپنے ان مضامین اور مقالوں کو کتابی شکل دے کر اردو ادب کی موجودہ اور آئندہ نسلوں تک اسے منتقل کر نے کا فریضہ انجام دیا۔ امید قوی ہے کہ اردو شعر وادب کے دلدادہ حضرات حسب ذوق ان مضامین سے مستفیض ہو کر اپنے علم و معلومات میں اضافہ کریں گے۔کتاب ہذا کل27/مضامین پر مشتمل ہے،جن میں چند مضامین خاصے طویل ہیں جبکہ چند مختصراور چند مختصر ترین ہیں۔ ان مضامین کے دیکھنےاور مطالعہ کرنے سے بخوبی یہ اندازہ ہو جاتاہے کہ پروفیسر فاروق احمد صدیقی جس ادیب اور جس تصنیف کو جس لائق سمجھتے ہیں،حسب حال اسی انداز اور انہی الفاظ میں ان پر اظہار خیال کرتے ہیں تاکہ کوئی انکی گرفت بھی نہ کر سکے اور صاحب تذکرہ کو کسی مایوسی اور سبکی کا احساس بھی نہ ہو۔پروفیسر صدیقی کایہ ایک ایسا وصف خاص ہے جس میں میرے علم کی حد تک کوئی ان کا شریک نہیں۔زیر تذکرہ کتاب کے تعلق سےایک خاص بات یہ ہے کہ مصنف نےاپنی اس کتاب کا "انتساب"اپنے ایک بیحد محترم استاذ پروفیسر نجم الہدیٰ علیہ الرحمہ سابق صدر شعبئہ اردو بی۔آر۔اے بہار یونیورسٹی ،مظفر پور کےنام کیا ہے جنہیں وہ عصر حاضر کا"بحرالعلوم"تصور کرتے رہے ہیں۔ پروفیسر فاروق احمد صدیقی نے ایسے در نایاب استاد گرامی کے نام کتاب کا انتساب کر کے جہاں حق شاگردی ادا کرنے کی سعادت حاصل کی ہے وہیں اپنے مرحوم ومغفور استاد کو سچا خراج عقیدت بھی پیش کیاہے۔ زیر تذکرہ کتاب"افکار وتاثرات"کا پہلا مضمون"غالب کے ایک مربی۔علامہ فضل حق خیرآبادی "ہے۔بقول مصنف علامہ پر یہ مضمون تحریر کرنے کا اصل مقصد نئی نسل کو یہ بتاناہے کہ غالب کی شخصیت اور شاعری کی تعمیر وتشکیل اور ان کو بہر طور غالب بنانے میں علامہ فضل حق خیرآبادی کاکیا کلیدی رول رہااور وہ کس حد تک غالب کے محسن ومر بی ثابت ہوئے ۔اپنے اس مضمون میں پروفیسر فاروق احمد صدیقی نے حضرت علامہ کا اتنا شاندار تعارف پیش کیا ہے کہ قاری کے استفادہ کے لیے یہ اقتباس یہاں نقل کرنا ضروری سمجھتاہوں: "علامہ فضل حق خیرآبادی ایک جید عالم دین ،معقولات کے امام،1857ءکی جنگ آزادی کے سالار کارواں،دلی کی علمی،ادبی وتہذیبی زندگی کے روح رواں،عربی کے قادرالکلام شاعر،اردو اور فارسی شعر وادب کے اداشناس،کثیرالتصانیف بزرگ اور پیکر زہد و ورع کی حیثیت سے برصغیر ہند وپاک کے مذہبی،سیاسی،ثقافتی اور علمی وادبی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ایسی جامع حیثیات اور محمودالصفات شخصیت کہیں صدیوں کے بعد مطلع عالم پر جلوہ گر ہوتی ہے اور اپنے افکار ونظریات کے انوار سے گم کردہ راہ انسانوں کو یقین واعتماد کے اجا لے میں جینے کا شعور عطا کرتی ہے۔" ("افکار وتاثرات"ـــ ص ،11) مذکورہ سطورعلامہ فضل حق خیرآبادی کے تعارف کے ساتھ پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی اعلیٰ انشا پردازی کاایک عمدہ نمونہ بھی ہے۔پروفیسر موصوف کےتنقیدی وتحقیقی مضامین ہوں یا ادبی ومذہبی مضامین یا ان کی تبصرہ نگاری ، ہر جگہ ان کی نثر شگفتہ،شستہ اور صحت زبان کی تمام خوبیوں سےمزین نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے موصوف کو لکھنے کی بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اسلامیات کے عالم ہونے کے سبب عربی اور فارسی زبان پر انہیں دسترس حاصل ہے۔اب اردو کے اساتذہ اور ادیبوں میں ایسے کم ہی لوگ ہوں گے جو پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی طرح فار سی اور عربی کا وقیع علمی پس منظر رکھتے ہوں۔ کتاب ہذا کا دوسرامضمون"اقبال شاعر یامفکر"ہے۔پروفیسر فاروق احمد صدیقی نے اپنی اس تحریر میں علامہ اقبال کا مقام بحیثیت شاعر یا مفکر کیا ہے،یہ بتانے کی کوشش کی ہے۔ علامہ کے تعلق سے ناقدین اقبال دو طبقوں میں بنٹے ہوئے ہیں ۔ایک طبقہ اقبال کو شاعر سے زیادہ فلسفی تصور کرتاہے ،جبکہ دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ اقبال کی پہلی حیثیت شاعر کی ہے اور فلسفی کی حیثیت ثانوی ہے۔دونوں طبقے کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔ پروفیسر صدیقی نےاس تعلق سے اپنے بےلاگ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے: "میرےخیال میں اقبال نہ تو محض شاعر ہیں اور نہ فقط مفکر،بلکہ بیک وقت دونوں۔لیکن ان کی اولین حیثیت شاعر کی ہے۔ اگر وہ بڑے شاعر نہیں ہوتے توشاید ان کے فکر وخیالات کی وہ قدر وقیمت نہیں ہوتی جو آج ہے۔ مجرد فلسفی توجدید ہندوستان میں ڈاکٹر رادھا کرشنن بھی ہوئے ہیں مگر ان کو طبقہ خاص کے علاوہ جانتا کون ہے؟ اور ان کے فکر وفلسفہ سے کتنے لوگوں نے اثرات قبول کئے ہیں اور اقبال کا عالم یہ ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جہاں ان کی شاعری کا بول بالا نہیں ہے۔ برصغیر کے علاوہ یورپ،امریکہ،روس اور بلاد اسلامیہ ہر جگہ ان کے فکر وفن کا تجزیاتی مطالعہ بڑے وسیع پیمانے پر ہوا ہے اور ان کو دنیا کے چند عظیم شاعروں میں شمار کیا گیا ہے۔ یہ شرف وامتیاز اقبال کے علاوہ برصغیر کے کسی شاعر کو حاصل نہیں ہو سکا۔" ("افکار وتاثرات ـــــ ص ،18 ،19) کتاب ہذا کا سب سے طویل مضمون ہے"نعت گوئی کافن"۔یہ تحریر18/ صفحات پر محیط ہے۔پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی فن نعت گوئی سے ان کی دلچسپی اور شغف مشہور زمانہ ہے۔یہ ودیعت خداوندی ہی ہےکہ بچپن میں ہی انہوں نے نعت خوانی کو اپنا محبوب مشغلہ بنایا۔پھر نعت گو شعراء کی صف میں نہ صرف اپنامقام متعین کرایا بلکہ نعت گوئی کے فن پرآتھریٹی(Authority)بھی حاصل کرلی۔ یہ سب کچھ انہوں نے محض نمائشی کے لیے نہیں کیا بلکہ بقول پروفیسر ابو ذر کمال الدین" عشق رسول ان کی شریانوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور یہ ان کا وظیفہ حیات ہے۔"عشق رسول کے اسی جذبہ کے تحت انہوں نے اپنے ایک عزیز شاگرد مولانا جوہر میاں شفیع آبادی کو"حضرت رضا بریلوی: بحیثیت شاعر نعت" کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھوا کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری دلوائی ۔ فن نعت گوئی سے موصوف کے شغف کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔پروفیسر موصوف نے اپنے مذکورہ مضمون "نعت گوئی کا فن" میں نعت گوئی کی تاریخ ،روایت،فن،نزاکت اور طہارت پر نہایت عالمانہ اور فاضلانہ تحریر رقم کی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہی۔ زیر تذکرہ کتاب میں جن مقتدر شخصیتوں کی علمی،ادبی اور مذہبی خدمات پر مختلف عناوین سے مضامین شامل ہیں۔ان کے اسمائے گرامی ہیں: پروفیسر عنوان چشتی،پروفیسر نجم الہدیٰ ،مولانا محمود رفاقتی، پروفیسر طلحہ رضوی برق ، سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی ، ڈاکٹر سید احمد قادری ،ماسٹر محمد عبیداللہ اور ڈاکٹر ریحان غنی۔ ان تمام شخصیات پر انکی حیثیت اور ان کے مقام ومرتبہ کے اعتبار سے انکی انفرادیت اور ان کی خدمات وکارناموں کو اجاگر کرنے کی پروفیسر صدیقی نے قابل تحسین سعی کی ہے۔ کتاب ہذا میں تقریباً ایک درجن کتابوں پر تبصراتی مضامین بھی شامل ہیں۔ تبصرہ نگاری کے میدان میں بھی پروفیسر فاروق احمد صدیقی کا نام نمایاں حیثیت کا حامل ہے ۔موصوف نےاپنے علمی وادبی سفر کی مدت میں کتنی کتابوں پر تبصرے لکھے ہیں،یہ شاید انہیں خود بھی یاد نہ ہو۔ موصوف کے تبصرے کتاب کی حیثیت واہمیت کے اعتبار سے ہی ہوتے ہیں۔وہ کسی مصنف کی نہ تو بیجا مدح سرائی کرتے ہیں اور نہ دل شکنی۔ان کے تبصرے نہایت جامع،متوازن اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ موصوف کے تبصروں کے تعلق سے راقم السطور کی یہ رائے ہے کہ"سر" کے تبصرے تین طرح کے ہوتے ہیں۔اول درجے کے،دوم درجے کے اورسوم درجے کے۔اب مصنف کی قسمت پر منحصر کرتا ہے کہ وہ پروفیسر صاحب کے قلم سے کس درجے کے مسافر قرار دیے جاتے ہیں۔ زیر تذکرہ کتاب میں بھی میرے اس خیال کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ جن خوش بختوں کی کتابوں پر لکھے تبصرے کو اس کتاب میں جگہ ملی ہے،ان کے اسمائے گرامی ہیں: مولانا شبنم کمالی، قیوم خضر،ڈاکٹرشکیل اعظمی،مولانا یاسین اختر مصباحی ، پروفیسر ابوذر کمال الدین،ڈاکٹر نسیم اختر،ڈاکٹر اسلم جاوداں،ڈاکٹرارشد مسعود ہاشمی،ڈاکٹر احمد بدر ،ڈاکٹر التفات امجدی،محمدشکیل خلد اور ناچیز(انوارالحسن وسطوی)۔ ان تبصروں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں نہ صرف کتابوں کاتعارف درج ہے بلکہ بعض کتابوں پر سیر حاصل گفتگو بھی کی گئی ہے جس کے سبب یہ کتابیں گراں قدر حیثیت کی حامل ثابت ہو گئی ہیں۔مزید یہ کہ پروفیسر موصوف کے یہ تبصرے جہاں صاحب تصنیف کے لیے حوصلہ افزا ہیں وہیں نءے لکھنے والوں کے لیے چراغ راہ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ دعا ہے کہ باری تعالیٰ پروفیسر موصوف کی عمر میں برکت عطا فرمائیں تاکہ مجھ جیسے ڈھیر سارے تشنگان علم تادیر ان کی ذات با برکت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ زیر تذکرہ کتاب"افکار وتاثرات"فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی ،حکومت اتر پردیش (لکھنؤ)کے مالی تعاون سے شایع ہوئی ہے۔163/صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت دوسو پچاس روپے(250/)ہے جسے بک امپوریم،سبزی باغ،پٹنہ۔4 سمیت ملک کے تقریباً ایک درجن بڑے شہروں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ مصنف سے براہ راست رابطہ کا نمبر ہے۔9835660835