جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران میں احتجاجی مظاہرے، فوج کا ’’دشمن کی سازشیں ناکام بنانے‘‘ پر زور
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران میں احتجاجی مظاہرے، فوج کا ’’دشمن کی سازشیں ناکام بنانے‘‘ پر زور

Awaz E Bihar•10 جنوری، 2026 کو 01:56 PM•0 ویوز•7 منٹ پڑھیں

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے جمعہ کو وعدہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ برسوں کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک کے سامنے نہیں جھکے گا، جب کہ حکام نے انٹرنیٹ بند کرنے کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ اس کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ احتجاج تیز ہوتی ہوئی مہنگائی کے خلاف رد عمل کے باعث 13 روز سے مختلف شہروں میں جاری ہیں اور اب اس میں وہ مطالبات بھی شامل ہوگئے ہیں کہ اس روحانی نظام کا خاتمہ کیا جائے جس نے 1979 کے انقلاب کے بعد ملک پر حکومت کی اور جس نے اس کے پہلے مغرب نواز شاہ کو برطرف کیا تھا۔
انٹرنیٹ مانیٹر نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ حکام نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران "قومی سطح پر انٹرنیٹ بندش" نافذ کر دی ہے جو ایرانیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور "منتظم تشدد کو چھپانے" کا کام کر رہی ہے۔ ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس نے اس سےقبل اطلاع دی تھی کہ اب کم از کم 51 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 18 سال سے کم عمر کے 9 بچے بھی شامل ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
یہ مظاہرے اسلامی جمہوریہ کے موجودہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے میں سامنے آنے والے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہیں۔
جمعرات کی شب کے مظاہرے 2022-2023 میں مبینہ طور پر ایران کے سخت ملبوساتی ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد ملک گیر ریلیوں کے بعد ایران میں سب سے بڑے مظاہرے تھے۔ تاہم خامنہ ای نے یکم جنوری کے بعد سے بڑھتے ہوئے مظاہروں پر سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی اپنی پہلی آراء میں سخت لہجہ اپنایا اور مظاہرین کو "غنڈے" اور "تباہ کار" قرار دیا۔
خامنہ ای نے کہا کہ گزشتہ جون میں اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف جنگ میں امریکہ نے حمایت اور بذاتِ خود حملوں کے ساتھ شمولیت کی تھی، لہذا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ "ہزاروں ایرانیوں کے خون سے داغدار ہیں"۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ یہ "متکبر" امریکی رہنما اسی شاہی خاندان کی طرح "برطرف" ہو جائے گا جو 1979 کے انقلاب تک ایران پر حکومت کرتا رہا تھا۔
انہوں نے حامیوں سے خطاب میں کہا، "گزشتہ شب تہران میں کچھ غنڈے آئے اور ایک عمارت جو انہی کی ملکیت ہے اسے تباہ کرکے امریکی صدر کو خوش کرنے کی کوشش کی۔" ناظرین میں موجود مرد و خواتین نے "امریکہ مردہ باد" کے نعرے بلند کیے۔
"ہر کوئی جانتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ لاکھوں معزز لوگوں کے خون سے اقتدار میں آیا؛ یہ تباہ کاروں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔"
ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ "اس نظام کو پلٹنے کے لیے جو جوش ہے وہ ناقابلِ یقین ہے" اور خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو قتل کر کے جواب دیا تو "ہم انہیں بہت سخت نقصان پہنچائیں گے۔ ہم اس کے لیے تیار ہیں۔"
فوکس نیوز کے انٹرویو میں، ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ 86 سالہ خامنہ ای شاید ایران چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا "وہ کہیں جانے کا سوچ رہے ہیں۔"
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جو لبنان کے دورے پر ہیں، نے جمعہ کو واشنگٹن اور اسرائیل پر براہِ راست مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ "پرامن مظاہروں کو انتشار اور تشدد میں تبدیل کرنے" کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے سابق شاہ کے جلا وطن بیٹے نے جمعہ کو جاری احتجاجات کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر لکھا، "جنابِ صدر، یہ آپ کی توجہ، حمایت اور کارروائی کے لیے ایک ہنگامی اور فوری اپیل ہے۔ براہِ کرم ایران کے عوام کی مدد کے لیے مداخلت کی تیاری رکھیں۔"
واشنگٹن کے علاقے میں مقیم پہلوی نے واضح نہیں کیا کہ وہ کس قسم کی مداخلت کی درخواست کر رہے ہیں، مگر انہوں نے انٹرنیٹ بندش اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے خطرے کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے لکھا کہ "میں نے لوگوں کو آزادی کے لیے سڑکوں پر آنے اور محض تعداد کے زور سے سیکیورٹی فورسز کو مغلوب کرنے کی اپیل کی ہے۔"
عدالتی سربراہ غلام حسین محسنی نے خبردار کیا کہ "ہنگامہ آرائی کرنے والوں" کی سزا "فیصلہ کن، سخت ترین اور کسی قانونی نرمی کے بغیر" ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرقی ایران کے شہر اصفاریان کے ایک ضلعی پراسیکیوٹر اور سیکیورٹی فورسز کے کئی ارکان جمعرات کو مظاہروں میں ہلاک ہوئے ہیں۔
نظام کی حفاظت کی ذمہ دار سیکیورٹی فورس، پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس شاخ نے کہا کہ "اس کیفیت کا جاری رہنا ناقابلِ قبول ہے" اور انقلاب کی حفاظت اس کی "سرخ لکیر" ہے۔
ایرانی فوج نے کہا ہے کہ وہ "قومی مفادات، تزویراتی بنیادی ڈھانچے اور عوامی فنڈز" کے تحفظ کے ساتھ علاقے میں دشمن کی حرکت پر نظر رکھے گی۔ اس بیان کا پس منظر ایران کے متعدد شہروں میں احتجاجات اور بد امنی کے 14 ویں روز سے متعلق ہے۔
فوج نے دعویٰ کیا کہ دشمن "نئی سازش" کے تحت اسرائیل اور ایران کے نزدیک دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کی مدد سے، شہری نظام اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہی دشمن جو "12 روزہ جنگ" میں ایرانی عوام کا خون بہا چکا، اب جھوٹے الزامات کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فوج نے عوام سے "قومی ہوشیاری" اور "یکجہتی" کی اپیل کی، اور کہا کہ وہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی قیادت میں اور دیگر مسلح افواج کے تعاون سے علاقے کی نگرانی اور اہم اثاثوں کی حفاظت جاری رکھے گی۔
اسی دوران، مشرقی آذربائیجان کے پراسیکیوٹر موسى خلیل اللہی نے تبریز میں 220 ہتھیار ضبط کرنے اور 3 اسمگلروں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ ضبط شدہ ہتھیاروں میں 100 پستول اور 120 رائفلیں شامل تھیں، جو سرحدی راستوں سے چھپ کر داخل کی گئی تھیں۔ یہ افراد یہ ہتھیار دوسرے صوبوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے۔
یہ اقدامات اس وقت ہوئے جب ایران میں 28 دسمبر سے اقتصادی مشکلات کے خلاف احتجاجات جاری ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 4 سکیورٹی اہل کار شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 24 صوبوں کے 37 شہروں مین 2311 سے زیادہ افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
پچھلے روز تہران میں نئے مظاہرے ہوئے، جہاں احتجاجی شمال مغربی تہران کے سعدت آباد علاقے میں برتن بجا کر اور نعرے لگا کر سڑکوں پر نکلے۔ سوشل میڈیا اور فرانسیسی نیوز ایجنسی کے تصدیق شدہ مناظر میں تہران، مشہد، تبریز اور قم میں مظاہروں کی جھلکیاں دکھائی گئیں۔
نوبیل انعام یافتہ شیرین عبادی نے سیکیورٹی فورسز کی ممکنہ "قتل عام کی تیاری" سے خبردار کیا جبکہ NetBlocks نے کہا کہ حکومت پورے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کر کے اپنے مظالم چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایران ہیومن رائٹس تنظیم کے مطابق احتجاجات میں کم از کم 51 افراد، جن میں 9 بچے شامل ہیں، ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
تہران کے میئر کے مطابق 42 بسیں، کئی گاڑیاں، ایمبولینسز اور 10 سرکاری عمارتیں جلائی گئیں۔ ایران کے اعلیٰ رہنما علی خامنئی نے کہا کہ حکومت "تخریبی عناصر" کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کو احتجاجات میں مداخلت کا الزام دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو "بڑی مصیبت میں" قرار دیا اور کہا کہ بعض شہر اب عوام کے کنٹرول میں ہیں۔
سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی فوری امریکی مداخلت کی اپیل کی۔ یہ احتجاجات مہسا امینی کے 2022 میں انتقال کے بعد سب سے بڑے ہیں اور ایران کی 12 روزہ اسرائیل جنگ اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے پس منظر میں سامنے آئے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں، بشمول ایمنسٹی اور ہیومن رائٹس واچ نے مظاہرین کے خلاف تشدد اور طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ ادھر فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے سربراہان نے ہلاکتوں کی سخت مذمت کی۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026