رام مندر میں چڑھاوا چوری پر دونوں ایوانوں میں ہنگامہ
Awaz E Bihar••35 ویوز•4 منٹ پڑھیں
راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے جمعہ کو رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے معاملے پر زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی اور عوامی اہمیت کے امور سے متعلق وقفہ صفر کی کارروائی نہیں چل سکی۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کی جانب سے قانون سازی کے دستاویزات ایوان میں پیش کئے جانے کے بعد جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع کرنی چاہی اپوزیشن کے ارکان نے زور زور سے بولنا شروع کر دیا۔ حزب اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ انہوں نے رول 267 کے تحت کارروائی ملتوی کرنے کی تجویز کا نوٹس دیا ہے۔ چیئرمین نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ رول 267 کا کوئی نوٹس قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے ارکان سے کہا کہ آپ کو دوسروں کی بات بھی سننی چاہیے۔ آپ ہمیشہ اپنی بات کہہ کر باہر چلے جاتے ہیں۔ ارکان کی جانب سے پوائنٹ آف آرڈر اٹھائے جانے پر انہوں نے کہا کہ یہ وقفہ صفر ہے اس میں پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھایا جا سکتا۔ چیئرمین نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان وقفہ صفر کی کارروائی شروع کر دی۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایک دو ارکان نے اپنے معاملات اٹھائے لیکن شور شرابے کی وجہ سے ان کی بات سنی نہیں جا سکی۔ زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر شیو راج سنگھ چوہان نے اپوزیشن پر پارلیمنٹ میں سڑک چھاپ سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن آئین اور ایوان کی وقار کو مجروح کر کے انتشار پھیلانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ملک کے عوام انہیں معاف نہیں کریں گے۔ اپوزیشن ارکان چیئرمین کی نشست کے قریب آ کر مسلسل حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ چیئرمین نے ارکان سے پرامن رہنے اور ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوتے دیکھ کر انہوں نے کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے درمیان جمعہ کو وقفہ صفر نہیں ہو سکا اور ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھنے نیز پیدائش اور موت کی رجسٹریشن (ترمیمی) بل بغیر کسی بحث کے منظور کرانے کے بعد کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اس سے پہلے، ایوان میں وقفہ سوالات بھی نہیں ہو سکا تھا۔ صبح 11 بجے کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان طلباء پر 20 جولائی کو دہلی میں کی گئی پولیس کارروائی کی جواب دہی طے کرنے اور اس کے لیے حکم دینے والے کا نام ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کرنے لگے۔ سماج وادی پارٹی کے ارکان ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے خلاف شور شرابہ کر رہے تھے۔ اس سے اسپیکر اوم برلا نے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر کانگریس اور ایس پی کے ارکان اپنے اپنے مطالبات پر پھر ہنگامہ کرنے لگے۔ کئی ارکان پلے کارڈز بھی لیے ہوئے تھے اور کچھ ارکان ایوان کے وسط میں آ کر شور شرابہ کر رہے تھے۔ ہنگامے کے درمیان ہی امور داخلہ کے وزیر مملکت نتیا نند رائے نے پیدائش اور موت کی رجسٹریشن (ترمیمی) بل، 2026 پیش کیا۔ پریزائیڈنگ افسر دلیپ سائکیا نے ہنگامہ کر رہے ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر جانے اور کارروائی چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی، لیکن شور شرابہ جاری رہا۔ اسی دوران، مسٹر سائکیا نے بل پر مسٹر رائے کو بل منظور کرنے کی تجویز پیش کرنے کو کہا۔ اس کے بعد مسٹر سائکیا نے بل پر ترمیمی تجویز دینے والے اور بل پر اپنی بات کہنے کے لیے اپنا نام دینے والے ارکان کا نام پکارا، لیکن کسی رکن نے ترمیم پیش نہیں کی۔ اس پر مسٹر سائکیا نے مسٹر رائے کو بل منظور کرنے کی تجویز پیش کرنے کی اجازت دی اور بل زبانی ووٹوں سے منظور ہو گیا۔ اس کے بعد مسٹر سائکیا نے دوبارہ ہنگامہ کر رہے ارکان سے شور شرابہ نہ کرنے اور کارروائی چلانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔