کوسی ہائی ڈیم، کملا ڈیم اور باگمتی ڈیم جیسے نیپال سے متعلق زیر التوا پروجیکٹ کے سروے اور ڈی پی آر کے کام میں تیزی لانے کی درخواست
Awaz E Bihar••41 ویوز•6 منٹ پڑھیں
وزیراعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر برائے جل شکتی جناب سی۔ آر۔ پاٹل سے ملاقات کی اور بہار سے متعلق اہم آبی وسائل، آبپاشی اور سیلاب انتظامی منصوبوں کی پیش رفت اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعلیٰ و آبی وسائل کے وزیر جناب وجے کمار چودھری کی موجودگی میں مرکزی بجٹ 2024-25 اور 2025-26 میں بہار کے لیے اعلان کردہ منصوبوں کی موجودہ صورتحال، زیرِ التوا منظوریوں اور آئندہ کے منصوبوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعلیٰ نے مرکزی وزیر برائے جل شکتی کو بتایا کہ مرکزی بجٹ 2024-25 میں بہار کے لیے 11,500 کروڑ روپے کی لاگت والے کوسی-میچی بین ریاستی ریور لنک پروجیکٹ سمیت آبپاشی اور آبی وسائل کے شعبے کی کئی اہم اسکیموں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے تحت بہار حکومت نے 16,339.18 کروڑ روپے کے منصوبوں کی ڈی پی آر مرکزی حکومت کو مہیا کرایا ہے، لیکن اب تک صرف دو منصوبوں کو منظوری ملی ہے۔ میٹنگ میں کوسی-میچی بین ریاستی ریور لنک پروجیکٹ پر خصوصی طور پر گفتگو ہوئی۔ تقریباً 3,652.56 کروڑ روپے کے اس اہم منصوبے کا مقصد کوسی بیسن کے اضافی پانی کا بہتر استعمال کرتے ہوئے شمالی بہار میں آبپاشی کی سہولیات کو وسعت دینا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے مالی سال 2025-26 میں 395.41 کروڑ روپے اور 2026-27 میں 570 کروڑ روپے، یعنی مجموعی طور پر 965.41 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ اب تک 156.745 کروڑ روپے ہی موصول ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پہلے مرحلے کی باقی رقم جلد فراہم کرنے اور دوسرے مرحلے کی ڈی پی آر کو منظوری دینے کی گزارش کی۔ وزیراعلیٰ نے سکرہنا دائیں کنارے کے پشتے کی تعمیر کے منصوبے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ 125.08 کروڑ روپے کی مرکزی حصے والی اس اسکیم کی متعلقہ مرکزی کمیٹی کی جانب سے سفارش کی جا چکی ہے۔ میٹنگ میں اس کے لیے مرکزی امداد جلد فراہم کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے علاوہ مرکزی بجٹ 2024-25 کے تحت مجوزہ دیگر اسکیموں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ ان میں آبپاشی کے شعبے کے تین منصوبے شامل ہیں، جن کی تخمینی لاگت 5,951.45 کروڑ روپے ہے، جبکہ سیلاب مینجمنٹ کے شعبے کی 15 پروجیکٹوں کی تخمینی لاگت 3,896.14 کروڑ روپے ہے۔ یہ تمام منصوبے فی الحال وزارتِ جل شکتی کی مختلف سطحوں پر زیرِ غور ہیں۔ میٹنگ میں مرکزی بجٹ 2025-26 میں اعلان کردہ مغربی کوسی نہر منصوبے کی توسیع، تجدید اور جدید کاری کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے کے لیے بہار حکومت نے 8,338.89 کروڑ روپے کا ڈی پی آر مرکزی آبی کمیشن کو بھیجا ہے۔ مرکز سے امداد ملنے کی توقع میں ریاستی حکومت نے اپنے وسائل سے 3,484.24 کروڑ روپے کی لاگت والے پہلے مرحلے کا کام شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کی جلد منظوری اور مرکزی مالی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعلیٰ نے سیلاب پر قابو پانے کے لیے جاری فلڈ مینجمنٹ اینڈ بارڈر ایریا پروگرام (FMBAP) کے تحت بہار کے لیے بجٹ میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار ملک کی سب سے زیادہ سیلاب سے متاثرہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ ریاست کا تقریباً 73 فیصد جغرافیائی علاقہ سیلاب کی زد میں آتا ہے اور گنگا، کوسی، گنڈک اور باگمتی جیسی ندیوں کی وجہ سے ہر سال بڑی آبادی متاثر ہوتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بہار کی ضروریات کے مطابق زیادہ مرکزی امداد ضروری ہے۔ میٹنگ میں آئندہ مرکزی بجٹ 2026-27 میں بہار کے تین بڑے منصوبوں کو شامل کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔ پہلا اندرپوری آبی ذخائر منصوبہ ہے، جو سون نہری نظام کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔ بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان پانی کی تقسیم کے سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ دوسرا سون-پھلگو ریور لنک منصوبہ ہے، جس کے تحت سون ندی کے پانی کو پائپ لائن اور نہروں کے ذریعے پھلگو ندی تک پہنچانے کی تجویز ہے۔ اس سے گیا جی اور اورنگ آباد اضلاع کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں آبپاشی، پینے کے پانی اور صنعتی استعمال کے لیے وافر پانی دستیاب ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی شہرت یافتہ پھلگو ندی میں سال بھر پانی کی دستیابی یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ تیسرا سارن ضلع کا سیلاب کنٹرول اور نکاسی آب منصوبہ (فیز 1) ہے، جس کی تخمینی لاگت 1,350.95 کروڑ روپے ہے۔ اس کے تحت اہم پانی کی نکاسی چینلز کی مرمت و بحالی، نئے ریگولیٹرز کی تعمیر اور دیگر بنیادی تعمیراتی کام کیے جائیں گے۔ اس سے سارن علاقے میں سیلاب کے اثرات کم ہوں گے، زرعی زمینوں کا تحفظ ہوگا اور مجوزہ سون پور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایرو سٹی اور آس پاس کے شہری علاقوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ نے میٹنگ میں گنگا فلڈ کنٹرول کمیشن (GFCC) کے چیئرمین کا ہیڈکوارٹر پٹنہ میں برقرار رکھنے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار گنگا بیسن کا سب سے زیادہ سیلا ب متاثرہ ریاست ہے اور کمیشن موثر نگرانی اور فوری فیصلہ کے لیے اس کا پٹنہ میں رہنا ضروری ہے ۔ ہندوستان-بنگلہ دیش گنگا پانی کے معاہدے کی تجدید اور بہار کے مفادات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کو طویل عرصے سے گاد اور پانی کی دستیابی سے متعلق چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایک قومی سلٹ مینجمنٹ پالیسی بنانے اور بہار کی آبپاشی، پینے کے پانی اور صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ میٹنگ میں نیپال سے متعلق زیر التوا منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کوسی ہائی ڈیم، کملا ملٹی پرپز پروجیکٹ، اور باگمتی ڈیم پروجیکٹ کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جوائنٹ پروجیکٹ آفس (جے پی او) میں بہار کے نمائندوں کی شرکت اور ڈی پی آر کی تیز رفتار تیاری کی درخواست کی۔ ان پروجیکٹوں کی تکمیل سے سیلاب سے راحت ملے گی، آبپاشی کی سہولتیں اور شمالی بہار میں پن بجلی پیدا کرنے کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت بہار کی ترقی کو ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مربوط کوششوں سے بہار کے تمام اہم آبپاشی اور سیلاب پر قابو پانے کے منصوبے جلد ہی رفتار پکڑیں گے، جس سے کسانوں، دیہی علاقوں اور ریاست کی معیشت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا۔