ویلڈ شناختی کارڈ دکھا کر ملے گا 5 کلو کا سلنڈر، ملک میں خام تیل کے کافی ذخائر موجود: حکومت
Awaz E Bihar••12 ویوز•6 منٹ پڑھیں
حکومت نے دیگر ریاستوں کے مزدوروں اور طلبہ کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کی رسوئی گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کی سمت میں اہم قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب کوئی بھی شخص اپنا ویلڈ شناختی کارڈ دکھا کر ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر سے سلنڈر حاصل کر سکتا ہے، اس کے لیے رہائشی پتے کا ثبوت ہونا لازمی نہیں ہے۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ہفتہ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے پیشِ نظر حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کی گھبراہٹ میں خریداری اور ایل پی جی کی غیر ضروری بکنگ سے گریز کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پی این جی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے اور گزشتہ ماہ سے اب تک 3.5 لاکھ سے زائد نئے کنکشنز میں گیس کی فراہمی شروع کی جا چکی ہے۔ پیر سے کھاد کے کارخانوں کو گیس کی سپلائی بڑھا کر اوسط کھپت کے 90 فیصد تک کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاستوں کے تعاون سے ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری کے خلاف کارروائی جاری ہے اور جمعہ کو 3700 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ بحری جہاز "گرین سانوی" 46,650 ٹن ایل پی جی کارگو لے کر آبنائے ہرمز کو پار کر چکا ہے۔ مغربی ایشیا کے خطے میں پھنسے ہوئے 1,320 سے زائد ہندوستانی ملاحوں کی وطن واپسی کو یقینی بنایا گیا ہے اور وہاں موجود ہندوستانی مشنز دن رات ہیلپ لائن کے ذریعے شہریوں کی مدد کر رہے ہیں۔ حکومت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو پی این جی، انڈکشن اور الیکٹرک کک ٹاپ جیسے متبادل ایندھن کا استعمال کریں۔ ایل پی جی پر دباؤ کم کرنے کے لیے کوئلے اور مٹی کے تیل جیسے متبادل آپشنز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ کول انڈیا اور سنگرینی کولیریز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاستوں کو کوئلے کی زیادہ مقدار فراہم کریں تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صارفین کو ایندھن مل سکے۔ سرکاری تیل کمپنیوں کو ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے اچانک معائنہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور اب تک قوانین کی خلاف ورزی پر 1000 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کو 'وجہ بتاؤ' نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 27 ڈسٹری بیوٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے اور جمعہ کو تقریباً 51 لاکھ گھریلو سلنڈر تقسیم کیے گئے۔ 5 کلو گرام کے ایف ٹی ایل سلنڈرز اب قریبی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس دستیاب ہیں جو کسی بھی جائز شناختی کارڈ پر خریدے جا سکتے ہیں۔ 14 مارچ سے اب تک کل 72,047 ٹن کمرشل ایل پی جی فروخت کی جا چکی ہے، جبکہ گھریلو پی این جی اور سی این جی کی 100 فیصد سپلائی کو ترجیحی بنیادوں پر برقرار رکھا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کام کررہے یوریا پلانٹس کو گیس کی سپلائی اب گزشتہ 6 ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 75-70 فیصد پر مستحکم ہے۔ دستیاب ذخائر اور ایل این جی کارگو کی آمد کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے پیر سے کھاد کے کارخانوں کو گیس کی سپلائی بڑھا کر تقریباً 90 فیصد کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ دیگر صنعتی اور تجارتی شعبوں، بشمول سی جی ڈی نیٹ ورک، کی سپلائی میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ کھاد کے کارخانوں سمیت تمام صنعتی صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی اضافی ضروریات سے فوری طور پر آگاہ کریں تاکہ گیس مارکیٹنگ کمپنیاں اس کا بندوبست کر سکیں۔ کمرشل ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے ریستورانوں، ہوٹلوں اور کینٹینوں جیسے تجارتی اداروں میں پی این جی کنکشنز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مارچ 2026 سے اب تک 3.5 لاکھ سے زیادہ پی این جی کنکشنز میں گیس کی سپلائی شروع ہو چکی ہے اور 3.8 لاکھ سے زیادہ نئے صارفین کا اندراج کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تمام ریفائنریاں اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کے بھی کافی ذخائر دستیاب ہیں۔ گھریلو کھپت کو دیکھتے ہوئے ریفائنریوں سے ایل پی جی کی پیداوار بڑھا دی گئی ہے۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو باقاعدہ کوٹے کے علاوہ 48000 کلو لیٹر مٹی کے تیل کا اضافی الاٹمنٹ کیا گیا ہے۔وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں بحری جہازوں کی نقل و حمل ، بندرگاہوں کے آپریشنز اور ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ سمندری تجارت کا تسلسل برقرار رہے۔ وزارت نے بتایا ہے کہ مغربی ایشیا کے خطے میں تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہندوستانی جھنڈے والے جہازوں سے متعلق کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ایل پی جی سے لدا جہاز "گرین سانوی" 46,650 ٹن کارگو اور 25 ملاحوں کے ساتھ بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے۔ خلیج فارس کے مغربی خطے میں اس وقت ہندوستانی جھنڈے والے کل 17 جہاز موجود ہیں جن پر 460 ہندوستانی ملاح سوار ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ ان جہازوں کے مالکان، ایجنسیوں اور ہندوستانی مشنز کے ساتھ مل کر صورتحال کی فعال نگرانی کر رہا ہے۔مغربی ایشیا کے خطے میں ہندوستانی مشنز کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ضروری ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایران میں پھنسے ہوئے ہندوستانی ماہی گیروں کا ایک گروپ ہفتہ کے روز آرمینیا کے راستے وطن واپس آ رہا ہے، جن کی پرواز کی شام تک یہاں پہنچنے کی امید ہے۔ وزارت خلیج اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جہاں ہندوستانیوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ پروازوں کے آپریشنز میں بہتری آ رہی ہے اور 28 فروری سے اب تک تقریباً 6,75,000 ہندوستانی شہری وطن واپس آ چکے ہیں۔ ادھر ابوظہبی میں ایک حملے میں پانچ ہندوستانی شہری زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایک کا علاج جاری ہے۔ سفارتی مشن اس معاملے میں مکمل مدد فراہم کر رہا ہے اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔