صومالی لینڈ صوبہ ہمارا اٹوٹ انگ ہے: صومالیہ کا سخت ردعمل
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
صومالیہ : اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے صومالی لینڈ کے علاقے کو خود مختار تسلیم کرنے کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد صومالیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔جمعہ کے روز جاری ایک سرکاری بیان میں صومالی وزارتِ خارجہ نے تمام ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں، عدم مداخلت اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی پاسداری کریں اور قرن افریقہ میں امن ،استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صومالیہ اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کے غیر ملکی فوجی اڈوں یا انتظامات کی اجازت نہیں دے گا جو ملک کو پراکسی جنگوں میں دھکیلیں یا خطے میں علاقائی اور عالمی دشمنانہ سرگرمیوں کو منتقل کرنے کا باعث بنیں۔بیان میں کہا گیا کہ صومالیہ اپنی خودمختاری ،قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل اور ناقابلِ مذاکرات عزم کی تجدید کرتا ہے جیسا کہ وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے عبوری آئین اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور افریقی یونین کے تاسیسی قانون میں درج ہے۔ وزارت نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے شمالی حصے کو تسلیم کرنے کے دعوے کو دانستہ حملہ اور غیر قانونی قدم قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔وزارتِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ صومالی لینڈ کے نام سے معروف صومالی لینڈ سرزمن جمہوریہ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابلِ تقسیم اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے۔ صومالیہ ایک واحد خودمختار ریاست ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور کسی بیرونی فریق کو اس کی وحدت یا علاقائی ساخت تبدیل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس حقیقت کو کمزور کرنے والا کوئی بھی اعلان ،اعتراف یا انتظام کالعدم ،باطل اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی قانونی یا سیاسی حیثیت کا حامل نہیں۔ صومالیہ کے نظامِ حکومت اور آئینی ڈھانچے سے متعلق تمام معاملات صومالی عوام کا خالص داخلی اختیار ہیں جنہیں صرف قانونی آئینی اور پرامن ذرائع سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔صومالی حکومت نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے غیر قانونی اقدامات علاقائی امن اور استحکام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور افریقہ کے بحیرۂ احمر ،خلیجِ عدن مشرقِ وسطیٰ اور پورے خطے میں سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی کو بڑھا تے ہیں۔