طلباء نے کیا استقبال، تحریک جاری رکھنے کا کیا اعلان
Awaz E Bihar••26 ویوز•3 منٹ پڑھیں
تعلیمی نظام میں جواب دہی کے مطالبے کو لے کر 26 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگ چک نے کل دیر رات بھوک ہڑتال ختم کر دی لیکن تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر اتری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک اپنی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مسٹر وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے وزیر صحت جے پی نڈا، وزیراعظم کے دفتر میں وزریر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نیز لداخ ایپکس باڈی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں 26 دن بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے 65 ارکان پارلیمنٹ نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی التجا کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد امتحان کے نظام میں جواب دہی کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے، نیٹ امتحان پیپر لیک سے متاثرہ خودکشی کرنے والوں کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ دینے نیز پرامن مظاہرین کے خلاف درج مقدمات پر کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی اور کسی تشدد کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران سی جے پی کے بانی صدر ابھجیت ڈیپکے نے مسٹر وانگ چک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ 26 دنوں سے زیادہ عرصے تک چلی بھوک ہڑتال کے بعد ان کا یہ فیصلہ راحت دینے والا ہے کیونکہ ان کی زندگی ملک کے لئے انتہائی اہم ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر ان کا دھرنا مسٹر پردھان کے استعفے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت غیر جانبدار جگہ پر ہوگی اور مسٹر پردھان کے استعفے سے کم کچھ قبول نہیں ہوگا۔اس دوران سی جے پی کے اہم ترجمان سورو داس نے بتایا کہ حکومت نے غیر جانبدار جگہ پر بات چیت کرنے کے ان کے مطالبے کو مان لیا ہے اور اب کانسٹی ٹیوشن کلب میں بات چیت کے لئے میٹنگ بلائی ہے۔ انہوں نے اسے مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میٹنگ میں حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کو مضبوطی سے رکھے گی۔ پارٹی کی ترجمان ویشنوی گور نے کہا کہ میٹنگ میں پارٹی اپنے چار اہم مطالبات رکھے گی۔ ان میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، نیٹ پیپر لیک سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ، پرامن مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لینا نیز امتحان کے نظام میں جواب دہی یقینی بنانا شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان مطالبات پر پارٹی پہلے دن سے قائم ہے اور ان کے پورا ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔ طلباء کی تحریک سے جڑے مثبت پہلوؤں کے درمیان جمعہ کو پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن جماعتوں کا ہنگامہ جاری رہا۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔