
سروے: برطانیہ میں مصنوعی ذہانت پر عوامی اعتماد میں کمی، رازداری اور ملازمتوں کے خدشات بڑھ گئے
Awaz E Bihar••11 ویوز•3 منٹ پڑھیں
برطانیہ میں کیے گئے ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ابتدائی جوش و خروش میں نمایاں کمی آئی ہے اور رازداری، سیکیورٹی، ملازمتوں کے خاتمے اور چیٹ بوٹس سے متعلق خدشات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اس ٹیکنالوجی کا استعمال محدود یا ترک کرنے لگے ہیں۔کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ فار دی فیوچر آف ڈیجیٹل سوسائٹی اور اے آئی اِن دی یو کے کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 42 فیصد شرکا نے بتایا کہ انہوں نے چیٹ بوٹس کا استعمال کم کر دیا ہے، جبکہ نصف سے زائد افراد کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کے ساتھ بڑے خطرات بھی وابستہ ہیں۔رپورٹ تیار کرنے والے محققین نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔کنگز کالج لندن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے استعمال میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ڈیٹا کی رازداری، سیکیورٹی اور قانونی تقاضوں سے متعلق خدشات ہیں، جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ بہت سے افراد پہلے سے رائج طریقۂ کار پر ہی کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
دو ہزار سے زائد برطانوی شہریوں پر کیے گئے اس سروے میں 52 فیصد شرکا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں، جو گزشتہ سروے کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے، جبکہ اے آئی کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے افراد خود کو چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی نظام استعمال کرنے پر مجبور محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے مکمل طور پر بچنا مشکل یا ناممکن ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملازمت حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے لوگوں پر مصنوعی ذہانت سیکھنے اور استعمال کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم جو افراد جان بوجھ کر اس کا استعمال نہیں کرتے، ضروری نہیں کہ وہ مہارت سے محروم ہوں۔کنگز کالج لندن سے وابستہ محقق جیک اسٹیلگو نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی کمپنیاں عموماً یہ سمجھتی ہیں کہ وقت کے ساتھ لوگ کسی ٹیکنالوجی کو زیادہ پسند کرنے لگتے ہیں، مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں یہ تصور درست ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے سب سے بڑے حامی افراد بھی وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں زیادہ فکرمند ہو گئے ہیں اور اسی طبقے میں اس کے استعمال سے ہچکچاہٹ بھی زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔کنگز کالج لندن کی محقق کیٹ ڈیولن نے کہا کہ لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے واضح اختیارات اور مؤثر کنٹرولز فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کب اور کس حد تک اے آئی استعمال کرنی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس سے دستبردار بھی ہو سکیں۔
دو ہزار سے زائد برطانوی شہریوں پر کیے گئے اس سروے میں 52 فیصد شرکا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں، جو گزشتہ سروے کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے، جبکہ اے آئی کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے افراد خود کو چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی نظام استعمال کرنے پر مجبور محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے مکمل طور پر بچنا مشکل یا ناممکن ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملازمت حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے لوگوں پر مصنوعی ذہانت سیکھنے اور استعمال کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم جو افراد جان بوجھ کر اس کا استعمال نہیں کرتے، ضروری نہیں کہ وہ مہارت سے محروم ہوں۔کنگز کالج لندن سے وابستہ محقق جیک اسٹیلگو نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی کمپنیاں عموماً یہ سمجھتی ہیں کہ وقت کے ساتھ لوگ کسی ٹیکنالوجی کو زیادہ پسند کرنے لگتے ہیں، مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں یہ تصور درست ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے سب سے بڑے حامی افراد بھی وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں زیادہ فکرمند ہو گئے ہیں اور اسی طبقے میں اس کے استعمال سے ہچکچاہٹ بھی زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔کنگز کالج لندن کی محقق کیٹ ڈیولن نے کہا کہ لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے واضح اختیارات اور مؤثر کنٹرولز فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کب اور کس حد تک اے آئی استعمال کرنی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس سے دستبردار بھی ہو سکیں۔
More from عالمی خبریں

عالمی خبریں
غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

عالمی خبریں
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

عالمی خبریں
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

عالمی خبریں
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

عالمی خبریں
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

عالمی خبریں
