ایک کروڑ خواتین کوآئندہ تین برسوں میں براہِ راست روزگار سے جوڑنے کا ہدف: وزیر اعلیٰ
••10 views•8 منٹ پڑھیں
پٹنہ:(اے بی این)وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ واقع سمواد سبھا گار میں رکشا بندھن سے قبل منعقدہ پروگرام میں خواتین کو روزگار اور صحت سے جوڑنے کے لیے تین روزہ خصوصی مہم کا آغاز کیا۔وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اگلے تین برسوں میں بہار کی ایک کروڑ خواتین کو براہِ راست روزگار سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ 25، 26 اور 27 اگست تک چلنے والی اس خصوصی مہم کے تحت محکمہ صحت، ڈیری، ماہی پروری و مویشی وسائل محکمہ اور درج فہرست ذات و قبائل بہبود محکمہ کے ذریعے مختلف اسکیموں کا فائدہ خواتین تک پہنچایا جائے گا۔اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کی خوشحالی کا راستہ خواتین کے بااختیار ہونے سے ہو کر گزرتا ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ایک کروڑ خواتین کو براہِ راست روزگار سے جوڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ جیویکا سے وابستہ تقریباً 1.81 کروڑ خواتین اور 13 لاکھ سے زیادہ خود امدادی گروپوں (SHGs) کے ذریعے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا کام مسلسل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ’انیمیا سے پاک بہار‘ مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت بہار میں بچوں، خواتین اور خاص طور پر حاملہ خواتین میں انیمیا کی جانچ کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق ان کا علاج اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔بڑی تعداد میں خواتین انیمیا سے متاثر ہیں اور حاملہ خواتین میں انیمیا ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ’انیمیا سے پاک بہار خصوصی مہم‘ کا آغاز کیا۔ یہ مہم 25 اگست سے 30 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ اس کے ذریعے ریاست میں انیمیا کی روک تھام، جانچ، علاج اور اس سلسلے میں عوامی بیداری کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے گا۔ مہم کے تحت تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ 82 ہزار 500 مستحقین تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے ٹی بی کے خاتمے کی مہم کے تحت بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی اسکریننگ کی گئی ہے۔ اب صحت کی خدمات کو ضلع کی سطح تک مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اضلاع میں 36 طرح کے آپریشنز کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے لوگوں کو چھوٹی یا بڑی ہر طبی سہولت کے لیے پٹنہ آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔وزیر اعلیٰ نے مویشی پروری اور ڈیری کے شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 12 لاکھ کسان دودھ کی پیداوار سے وابستہ ہیں۔ اس تعداد کو بڑھا کر 50 لاکھ سے زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ خواتین کو سدھا سخی، جیونیکا سدھا سیل سینٹر اور دودھ جمع کرنے کے مراکز سے جوڑ کر انہیں روزگار فراہم کیا جائے گا۔ قومی سطح پر ڈیری کے شعبے میں خواتین کی تقریباً 70 فیصد شمولیت ہے۔ بہار میں اسے بڑھا کر 80 فیصد تک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خواتین روزگار اسکیم کے تحت سدھا سیل سینٹر کھولنے والی خواتین کو دوسری اور تیسری قسط ملا کر تقریباً 60 ہزار روپے کی امداد دی جا رہی ہے۔ تمام پنچایتوں میں ایک سدھا سیل سینٹر کھولنے کے لیے دیدی کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔ مستقبل میں اس منصوبے کو گاؤں کی سطح تک وسعت دینے کا بھی منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مویشیوں کے علاج اور ادویات کی سہولت گاؤں کے قریب پہنچانے کے لیے ریاست کے تمام 534 بلاکس میں حیوانی ادویات کے فروخت مراکز کھولنے کی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ درج فہرست ذات (SC) اور درج فہرست قبائل (ST) سے تعلق رکھنے والی جو خواتین بین ذات شادی کریں گی، انہیں بہار حکومت کی جانب سے اب 1.25 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بھی اس سلسلے میں 1.25 لاکھ روپے کی امداد دی جا رہی ہے، یعنی انہیں مجموعی طور پر 2.50 لاکھ روپے کی مالی مدد ملے گی۔ اس سلسلے میں آج سے اس فیصلے کو نافذ کرنے کی سمت میں اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اہم مسابقتی امتحانات کے ابتدائی مرحلے میں کامیاب ہونے والی تمام طبقات کی طالبات کو 30 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک کی حوصلہ افزائی رقم فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بہار میں خواتین کو پنچایت اور شہری بلدیاتی انتخابات میں 50 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ آج ریاست میں تقریباً 59 سے 60 فیصد خواتین عوامی نمائندوں کے طور پر منتخب ہو کر آ رہی ہیں۔ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں بہار کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2020 میں 10 لاکھ سرکاری ملازمتیں اور 10 لاکھ روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس کے مقابلے میں تقریباً 12 لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے اور تقریباً 51 لاکھ افراد کو روزگار سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔اب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کی رہنمائی میں حکومت نے ایک کروڑ افراد کو براہِ راست سرکاری ملازمت اور روزگار سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بہار کی خواتین کو روزگار سے جوڑنا اس ہدف کا ایک اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کو خوشحال بہار کی سب سے بڑی طاقت بنا کر نئے بہار کی تعمیر کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے طلبہ تعاون کیمپ شروع کیا ہے۔ آن لائن نظام پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے، جبکہ اب کیمپ کے ذریعے بھی طلبہ کے مسائل حل کیے جائیں گے۔اس میں ہاسٹل، طلبہ رہائش، اسکول، کالج سمیت تعلیم سے متعلق مختلف مسائل کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سہیوگ پورٹل‘ کے ذریعے اب تک تقریباً 6.46 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 96 فیصد درخواستوں کا کامیابی کے ساتھ نمٹارا کیا جا چکا ہے۔حکومت کا ہدف ہے کہ عوام کے مسائل کو مقررہ وقت کے اندر حل کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم اور سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کے خوشحال بہار کے خواب کو پورا کرنے کے لیے خواتین کی شمولیت سب سے زیادہ اہم ہے۔ نہوں نے تمام بہنوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور روزگار، صحت اور سماجی ترقی کی اس مہم میں فعال کردار ادا کریں۔ وزیر اعلیٰ نے ’سدھا سکھی تربیتی کیمپ‘ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر جیویکا-سدھا سیل سینٹرز کے الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کیے گئے۔ خواتین کے ذریعے چلائے جانے والے مویشی ادویات کے فروخت مراکز کے لیے منتخب خواتین کو انتخابی خطوط بھی فراہم کیے گئے۔ ’سدھا‘ سے متعلق پروگرام کے تحت تشکیل دی گئی دودھ پیدا کرنے والی کوآپریٹو سوسائٹیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے۔ اس کے علاوہ میتھلا ہستکلا کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا اور نومنتخب صدر و اراکین کو سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے۔ ’سدھا سکھی‘ کے ذریعے خواتین کو روزگار اور خود روزگار سے جوڑ کر ان کے معاشی استحکام کو فروغ دیا جائے گا۔ پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ نے میتھلا ہستکلا کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کا اعلان کیا اور نومنتخب صدر و اراکین کو سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔ پدم شری دلاری دیوی کو صدر، پدم شری شانتی دیوی کو نائب صدر اور پدم شری شیوم پاسوان کو نائب صدر مقرر کیا گیا۔ محترمہ رانی جھا کو رکن بنایا گیا۔ رکشا بندھن کے موقع پر جیویکا دیدی، سدھا سکھی اور دودھ پیدا کرنے والی خواتین نے وزیر اعلیٰ کو راکھی باندھ کر مبارک باد دی۔ وزیر اعلیٰ نے تمام بہنوں کو رکشا بندھن کی مبارک باد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ نے ڈیری، ماہی پروری اور مویشی وسائل محکمہ کے تحت لگائے گئے سدھا اسٹالوں کا معائنہ کیا اور وہاں موجود مصنوعات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے کمار چودھری، نائب وزیر اعلیٰ جناب بجیندر پرساد یادو، وزیر صحت جناب نشانت، وزیر سماجی فلاح محترمہ شویتا گپتا، ڈیری، ماہی پروری و مویشی وسائل کے وزیر جناب نند کشور رام، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری مسٹر دیپک کمار، چیف سکریٹری مسٹر پرتیہ امرت، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری مسٹر لوکیش کمار سنگھ، محکمہ صحت کے سکریٹری مسٹر کمار روی، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری مسٹر سنجے کمار سنگھ، ڈیری، ماہی پروری و مویشی وسائل محکمہ کے سکریٹری جناب شرشت کپل اشوک، درج فہرست ذات و قبائل بہبود محکمہ کے سکریٹری مسٹر سندیپ کمار آر. پڈل کٹی، سائنس، ٹیکنالوجی و تکنیکی تعلیم محکمہ کے سکریٹری اور جیویکا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مسٹر ہمانشو شرما سمیت دیگر افسران، جیویکا دیدی، سدھا سکھی دیدی اور دیگر مستحقین موجود تھے۔