عوامی مفاد و ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کریں: چیف سکریٹری
••12 views•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 25 اگست: (اے بی این ) چیف سکریٹری پرتیہ امرت نے منگل کو مختلف محکموں کی اہم اسکیموں اور ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں ریاست کے تمام اضلاع کے مجسٹریٹس اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس دوران زراعت، صحت، اعلیٰ تعلیم، توانائی اور دیگر محکموں سے متعلق منصوبوں کی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔چیف سکریٹری نے ضلع مجسٹریٹس کو واضح ہدایت دی کہ ترقیاتی کاموں اور زمین کی منتقلی سے متعلق معاملات میں کسی بھی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عوامی مفاد اور ترقی سے وابستہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے اور ہفتہ وار و ماہانہ بنیاد پر منصوبوں کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کو کہا۔ کسان رجسٹری کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاست میں مجموعی طور پر 86.36 لاکھ کسانوں کے اندراج کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اب تک 53.54 لاکھ کسانوں کی رجسٹری مکمل ہوچکی ہے، جو ہدف کا تقریباً 62 فیصد ہے۔ویشالی اور شیخ پورہ اضلاع نے کسان رجسٹری میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ سارن اور جموئی میں پیش رفت کی رفتار سست پائی گئی۔ چیف سکریٹری نے ان اضلاع کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر خصوصی مہم چلا کر رجسٹریشن کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت دی۔ ریاستی سطح پر تصدیق کے لیے زیر التوا درخواستوں کو بھی جلد نمٹانے کو کہا گیا۔ توانائی محکمہ کی پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاست میں اب تک 1,22,656 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں اور سولر پینل لگانے کا عمل جاری ہے۔پٹنہ ضلع سولر تنصیب اور 7,294 لاکھ روپے کی سبسڈی کے معاملے میں سب سے آگے ہے۔ مجموعی طور پر 35,741 قرض کی درخواستوں میں سے 58.8 فیصد قرض منظور کیے جاچکے ہیں۔چیف سکریٹری نے بینکوں کے ساتھ بہتر تال میل قائم کرکے قرض مسترد ہونے کی شرح کم کرنے اور گھروں کی چھتوں پر سولر پلانٹ لگانے کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ آنگن واڑی مراکز کی عمارتوں کی تعمیر کا جائزہ لیتے ہوئے پرتیہ امرت نے زمین کی عدم دستیابی اور زمین سے متعلق تنازعات کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے منریگا (وی بی-جی رام جی) اور پندرہویں مالیاتی کمیشن کے وسائل کے مؤثر اشتراک کے ذریعے آنگن واڑی مراکز کی تعمیر مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ صحت محکمہ کے ٹی بی مکت بھارت ابھیان کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریاست میں اب تک 2.59 کروڑ افراد کی ٹی بی اسکریننگ کی جاچکی ہے۔ یہ 52 دن کے مقررہ ہدف کا 213 فیصد ہے۔سارن ضلع نے 400 فیصد اور سہرسہ نے 386 فیصد اسکریننگ کے ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چیف سکریٹری نے ضلع سطح پر ’ٹی بی مکت بھارت کمیٹی‘ کو فعال رکھنے اور نکشے پورٹل پر تمام نتائج کی بروقت انٹری یقینی بنانے کی ہدایت دی۔انہوں نے فرنٹ لائن اسکریننگ میں اضافہ، 100 فیصد اپ فرنٹ نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ (NAT) کرانے اور نکشے پوشن یوجنا کے تحت مستحقین کو ادائیگی میں تیزی لانے کی بھی ہدایت دی۔ اب تک 93,275 مستحقین کو اس اسکیم کے تحت ادائیگی کی جاچکی ہے۔ تعاون محکمہ کی اسکیموں کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سکریٹری نے بلاک سطح کے بنیادی ڈھانچے، کولڈ اسٹوریج اور سبزی آؤٹ لیٹس کے لیے زیر التوا تین زمینوں کی منتقلی اور پیاز ذخیرہ کرنے کے لیے زیر التوا نو زمینوں کی منتقلی کا عمل فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت ضلع مجسٹریٹس کو دی۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سات نشچئے-3 کے تحت 211 نئے ڈگری کالجوں کے مستقل کیمپس کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔اب تک 68 کالجوں کے لیے زمین کی تفصیلات موصول ہوچکی ہیں، جبکہ 143 کالجوں کے لیے زمین کی تفصیلات ابھی زیر التوا ہیں۔چیف سکریٹری نے مشرقی چمپارن، سیوان اور پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دی کہ دیہی علاقوں میں کم از کم پانچ ایکڑ، شہری علاقوں میں 2.5 ایکڑ اور پٹنہ شہری علاقے میں دو ایکڑ زمین کی منتقلی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے بلاک ہیڈکوارٹر کے قریب دستیاب سرکاری یا غیرمزروا عام زمین کی جلد نشاندہی کرکے اسے نئے ڈگری کالجوں کے لیے مختص کرنے کی ہدایت بھی دی۔چیف سکریٹری نے تمام ضلع مجسٹریٹس سے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، زمین کی منتقلی میں سستی اور بین محکمہ جاتی تال میل کی کمی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مفاد سے وابستہ اسکیموں کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے انہیں مقررہ وقت میں زمین پر اتارا جائے۔