جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
تسنیم کوثر اور ان کا افسانوی مجموعہ " بونسائی"
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

تسنیم کوثر اور ان کا افسانوی مجموعہ " بونسائی"

Awaz E Bihar•7 مارچ، 2026 کو 02:23 PM•24 ویوز•5 منٹ پڑھیں


ڈاکٹر ریحان غنی

آج عالمی یوم خواتین ہے۔ اس لئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس مناسبت سے بہار کے پورنیہ ضلع کے ایک گاؤں حیدر نگر میں پیدا ہونے والی اس اولوالعزم خاتون کا ذکر کیا جائے جن کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ اس خاتون کو ادبی، افسانوی اور نشریاتی دنیا تسنیم کوثر کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ ان سے میری پہلی ملاقات 1991 کے اواخر یا 1992 کے اوائل میں آکاشوانی پٹنہ میں ہوئی تھی۔ میں پہلے سے وہاں نیوز ریڈر کی حیثیت سے پینل میں شامل تھا اور تسنیم کوثر میرے بعد پینل میں شامل ہوئیں۔ وہیں انہوں نے میری ملاقات اپنے شوہر ڈاکٹر انوار الحق تبسم سے کرائی جو اورینٹل کالج پٹنہ سیٹی کے شعبہ تاریخ میں پروفیسر تھے۔ بعد میں وہ اسی کالج سے سبکدوش بھی ہوئے۔ تسنیم کوثر بعد میں دور درشن پٹنہ میں بھی نیوز اینکر ہو گئیں جہاں میں پہلے سے ہی خبروں کے شعبہ سے وابستہ تھا۔ ایک زمانے میں ارون کمار ورما انفارمیشن سروس کے افسر اور آکاشوانی پٹنہ میں نیوز ایڈیٹر ہوا کرتے تھے۔ ان کی ذہانت کا ہر کوئی قائل تھا۔ اپریل 1989 میں انہوں نے ہی آکاشوانی پٹنہ سے اردو نیوز شروع کی تھی اور سوا تین بجے پہلی نیوز بلیٹن، پروگرام اکزکیوٹیو اور مشہور شاعر شان الرحمٰن نے پڑھی تھی اور ہندی خبروں کا اردو میں ترجمہ ڈاکٹر طارق فاطمی نے کیا تھا۔ جب تک نیوز ریڈر کا باضابطہ پینل نہیں بنا شان الرحمٰن نیوز پڑھتے رہے۔ کافی دنوں کے بعد نیوز ریڈر کا پینل بنا جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر طارق فاطمی، تسنیم کوثر اور کئی دوسرے نوجوان بھی شامل ہوئے۔ جن میں ایک محمد منور عالم بھی تھے جن کا ابھی چند ماہ ہوئے دہلی میں انتقال ہو گیا۔ تسنیم کوثر نے بہت جلد آکاشوانی اور دور درشن پٹنہ میں بہترین نیوز ریڈر کی حیثیت سے اپنی شناخت بنا لی۔ ایک عرصے تک ان دونوں نشریاتی اداروں میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کی ذہانت، صلاحیت، متانت اور شرافت کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ اس طرح وقت کے ساتھ ہی تسنیم کوثر اور ان کے شوہر پروفیسر انوار الحق تبسم سے میرے تعلقات گہرے اور مضبوط ہوتے چلے گئے جو اللہ کے فضل سے آج بھی برقرار ہیں۔ اس وقت ان دونوں کا مستقل قیام پورنیہ کے گاؤں حیدر نگر میں ہی ہے ۔ تسنیم کوثر نے اپنے گاؤں میں ہی بچوں کا ایک اسکول کھول رکھا ہے اور نئی نسل کی آبیاری کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ خواتین کی ادبی تنظیم "بنات" سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ تسنیم کوثر با صلاحیت اور پرعزم خاتون کا نام ہے۔ وہ باد مخالف میں چراغ کو روشن رکھنے اور مردوں کی بالا دستی والے اس سماج میں اپنے وجود کو پوری طاقت کے ساتھ برقرار رکھنے کا ہنر جانتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ تمام تر صلاحیتوں کے باوجود وہ مردوں کی بال دستی والے اس سماج کی زیادتیوں کا زیادہ دنوں تک مقابلہ نہیں کر سکیں اور اپنے قلم اور اپنی صلاحیت سے وہ کام نہیں لے سکیں جو انہیں لینا چاہئیے تھا۔ انہوں نے افسانہ نگاری میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔ کئی اچھی کہانیاں لکھیں جو معیاری اخبارات و رسائل میں شائع بھی ہوئیں۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ "بونسائی" 1995 میں منظر عام پر آیا جس کی کافی پزیرائی ہوئی۔ امید تھی کہ وہ اپنا یہ سفر جاری رکھیں گی لیکن حالات نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ " بونسائی" کے بعد نہ صرف یہ کہ ان کا کوئی افسانوی مجموعہ نہیں آیا بلکہ انہوں نے افسانہ لکھنا بھی چھوڑ دیا۔ مجھے یقین ہے کہ جس با ذوق شخص نے بھی تسنیم کوثر کے افسانے پڑھے ہیں ان کے ذہن میں یہ سوال آج بھی گونج رہا ہوگا کہ انہوں نے افسانے لکھنا کیوں چھوڑ دیا۔ جب پٹنہ میں تسنیم کوثر کے افسانوی مجموعے کی رونمائی ہوئی تھی تو اس تقریب کے شرکاء نے اس ابھرتی ہوئی خاتون افسانہ نگار کی بڑی پذیرائی کی تھی۔ جس کسی نے بھی" بونسائی" کا مطالعہ کیا ہے وہ تسنیم کوثر کی صلاحیتوں کا معترف ہے۔ آیئے اس موقع پر تسنیم کوثر کے تعلق سے کچھ دانشوروں کی رائے جانتے ہیں۔ پروفیسر وہاب اشرفی ( نقاد، دانشور، ادیب) کہتے ہیں کہ
" تسنیم کوثر زبان کے معاملے میں خاصی حساس ہیں۔ ان کی تخلیقی زبان شگفتہ اور پر کشش ہے جس سے ان کے افسانے اور بھی لطیف ہو گئے ہیں۔ "
شفیع مشہدی ( ادیب، شاعر ، افسانہ نگار) نے لکھا ہے کہ۔
" تسنیم کوثر افسانہ نگار ہیں اور بہت اچھی افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانوں میں عصری حسیت ، سماجی شعور اور درد مندی کے احساسات نمایاں ہیں۔ "
ڈاکٹر عبد الصمد ( ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ناول نگار) کا خیال ہے کہ
" تسنیم کوثر کے افسانوں میں سماجی شعور بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ 1990 کے آس پاس ابھرنے والے افسانہ نگاروں کی بالکل نئی نسل سے تعلق رکھتی ہیں اور سفر کے پہلے پڑاؤ پر اس قدر با وقار ٹھہراؤ ان کے روشن مستقبل کی دلیل ہے۔"
پروفیسر شمشاد حسین ( ماہر نفسیات، شاعر) نے لکھا ہے کہ
" میں نے ان کی (تسنیم کوثر) بیشتر کہانیاں پڑھی ہیں۔ جن میں زندگی کی مایوسیوں، محرومیوں اور تلخیوں نیز انسانی ذہن کی کشمکش کی جس فنکارانہ انداز میں عکاسی ملتی ہے اس سے متاثر ہوئے بغیر میں نہیں رہ سکا ہوں"

ڈاکٹر رضوان احمد ( صحافی، افسانہ نگار) کہتے ہیں کہ۔
" تسنیم کوثر کو کہانی کہنے کا آرٹ آتا ہے۔ وہ قصہ گو ہیں اور قصہ گوئی کے لوازمات سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کی کہانیوں میں نیا پن ہے ، انفرادیت ہے اورعصری حسیت بھی۔ "
ان دانشوروں کی ان قیمتی خیالات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تسنیم کوثر کیسی افسانہ نگار ہیں۔ اگر وہ اپنا سفر جاری رکھتیں تو آج وہ بہار کی ایک مشہور اور مستند افسانہ نگار ہوتیں اور ادبی منظر نامے پر ان کا نام بہت نمایاں نظر آتا لیکن افسوس ـــــــــ!

شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026