یورپی یونین نے ونیزوئیلا کی نگراں صدر کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا
Awaz E Bihar••0 ویوز•6 منٹ پڑھیں
یورپی کمیشن کی ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ یورپی یونین وینزوئیلا کی نگراں صدر ڈیلسی روڈریگز کو تسلیم نہیں کرے گی البتہ وہ ملکی حکام کے ساتھ رابطہ جاری رکھے گی۔ دوپہر کی پریس بریفنگ میں انیتا ہپر نے یورپی یونین کے دیرینہ موقف کو دہرایا کہ وینزوئیلا کے حکام "اپنا مینڈیٹ ایک ایسے انتخابی عمل سے حاصل کرتے ہیں جس نے عوام کی جمہوری تبدیلی کی خواہش کا احترام نہیں کیا ہے ۔ ہپر نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین وینزوئیلا میں جمہوری منتقلی کے لیے جامع مکالمے کی حمایت کرتی ہے، جس میں جمہوریت کے لیے پرعزم تمام فریقین بشمول جمہوری طور پر منتخب اپوزیشن رہنما" بھی شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نکولس مادورو یا ڈیلسی روڈریگز کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتی، جبکہ وینزوئیلا کے حکام کے ساتھ محدود روابط جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس کے مفادات اور اصولوں کا تحفظ کیا جاسکے یہ بیانات وینزوئیلا میں روڈریگز کی تقرری کے بعد سیاسی انتشار اور صدر مادورو کو اغوا کرنے والے امریکی فوجی آپریشن کے دوران سامنے آئے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز، اس وقت امریکہ میں قید ہیں، جہاں منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مبینہ تعاون سے متعلق وفاقی الزامات کا سامنا ہے۔ ہپر نے آرکٹک میں سلامتی کے خدشات کو بھی اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ "علاقائی سالمیت اور خودمختاری بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ اصول ہیں جو نہ صرف یورپی یونین کی نظر میں بلکہ پوری دنیا کے ممالک کی نظر میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی ثابت کرنا چاہتے ہیں،" امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے اندر خود مختار علاقہ ہے، پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور فوجی طاقت کے ذریعے ایسا کرنے کو مسترد نہیں کیا۔ وینزوئیلا میں امریکی فوجی کارروائی کے ایک دن بعد، جس میں مادورو کو اغوا کیا گیا، ٹرمپ نے اتوار کو امریکی سلامتی کے مفادات کے لیے گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی اپیل دوبارہ کی۔ کئی یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین نے پیر کے روز ڈنمارک اور گرین لینڈ کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا، اس تجویز کو مسترد کیا کہ جزیرے کا مستقبل بیرونی طاقتوں کے ذریعے طے ہو سکتا ہے اور خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔ جب چھ رکن ممالک کے رہنماؤں اور برطانیہ کے وزیر اعظم کی جانب سے گرین لینڈ پر حالیہ مشترکہ بیان میں یورپی یونین کے اداروں کی غیر موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین عام طور پر ان بیانات کے اجرا کے فورا بعد تبصرہ نہیں کرتی، لیکن اس نے دوبارہ تصدیق کی کہ اس کا کلیدی اصولوں پر موقف "واضح ہے۔" ہپر نے آرکٹک خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور بلاک کے ساتھ تعاون کو خطے میں استحکام اور حمایت برقرار رکھنے کے لیے "ضروری" قرار دیا۔ وینزویلا 3 سے 5 کروڑ بیرل تیل امریکہ کو منتقل کرے گا: ٹرمپ واشنگٹن، 7 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ وینزویلا کی عبوری حکومت گزشتہ ہفتے کی کارروائی کے بعد، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا گیا، پابندیوں کے تحت آنے والا 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تیل امریکہ کو منتقل کرے گی۔یہ تیل بازار کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس کی آمدنی امریکی حکومت کے کنٹرول میں رہے گی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وینزویلا کی عبوری اتھارٹیز اعلیٰ معیار کا پابندیوں کے تحت آنے والا 3 سے 5 کروڑ بیرل تیل امریکہ کو منتقل کریں گی۔"ٹرمپ کے مطابق اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے وینزویلا اور امریکہ دونوں کے شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے لکھا کہ "یہ تیل اپنی مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس رقم کو میں، بطور صدرِ امریکی، کنٹرول کروں گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسے وینزویلا اور امریکہ کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکے۔"ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں توانائی کے وزیر کرس رائٹ کو ہدایت دی کہ اس منصوبے پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے۔ تیل کو ذخیرہ کرنے والے جہازوں کے ذریعہ براہِ راست امریکی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔یہ اعلان اس کارروائی کے چند دن بعد سامنے آیا ہے ۔ جس میں امریکی فوج نے ہفتہ (3 جنوری) کو "بڑے پیمانے پر کارروائی" کی اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتہ کی شام نیویارک لایا گیا اور وہ اس وقت بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں ہیں۔ امریکی ضلع عدالت (سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک) میں دائر نئی فردِ جرم، جسے اٹارنی جنرل پام بونڈی نے شیئر کیا، میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مادورو نے "ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے گروہوں" کو چلایا اور ملک میں منشیات کی اسمگلنگ میں سہولت فراہم کی۔ کارروائی کے بعد ایک پریس کانفرنس میں مسٹر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا کے بگڑتے تیل کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔ انہوں نے مادورو حکومت کے تحت برسوں کی بدانتظامی کے نتیجے میں ملک کے پٹرولیم کے شعبے کو 'مکمل طور پر ناکام' قرار دیا ۔
امریکہ کی وینزوئیلا کے قریب روسی تیل بردار جہاز پر قبضے کی کوشش کراکس، 7 جنوری (یو این آئی) امریکہ نے وینزوئیلا کے ساحل کے قریب روسی تیل بردار جہاز بیلا 1 ( پر قبضے کی کوشش کی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وینزوئیلا سے یورپ جانے والے روسی پرچم والے ایک آئل ٹینکر کو روکنے کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق روس نے اپنے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر جہاز روانہ کردیے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے وینزوئیلا پر زور دیا ہے کہ چین، روس، ایران اور کیوبا کے خفیہ ایجنٹس کو ملک سے نکالا جائے۔ یاد رہے کہ وینزوئیلا کے صدر مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے عبوری حکام 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکہ کے حوالے کریں گے۔