جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
حکومت نے مہنگائی بھتہ میں 2 فیصد کا اضافہ کیا
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

حکومت نے مہنگائی بھتہ میں 2 فیصد کا اضافہ کیا

Awaz E Bihar•18 اپریل، 2026 کو 05:58 PM•6 ویوز•3 منٹ پڑھیں

نئی دہلی : ملک کے ایک کروڑ سے زائد مرکزی ملازمین اور پنشنرز کا انتظار ہفتہ (18 اپریل) کو ختم ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ نے ہفتہ کو مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کے لیے مہنگائی بھتے (ڈی اے) میں 2 فیصد اضافہ کو منظوری دے دی ہے۔ اب مرکزی ملازمین کا مہنگائی بھتہ اور پنشن 58 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو جائے گا۔ مرکزی ملازمین کافی دنوں سے مہنگائی بھتے کا انتظار کر رہے تھے۔ جنوری سے نافذ ہونے والے اس بھتے کا انتظار مارچ کے آغاز سے ہی کیا جا رہا تھا۔ حکومت عام طور پر جنوری میں ہونے والے اضافے کا اعلان مارچ میں کر دیتی ہے، لیکن اس بار یہ اعلان نصف اپریل گزرنے کے بعد ہوا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملازمین کی تنظیمیں مجوزہ ’آٹھویں پے کمیشن‘ کے تحت تنخواہ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اپنے میمورنڈم میں، نیشنل کونسل-جوائنٹ کنسلٹیٹو مشینری (این سی-جے سی ایم) نے3.83 کے اعلیٰ فٹمنٹ فیکٹر کا مطالبہ کیا ہے، جس سے کم از کم بنیادی تنخواہ 18000 روپے سے بڑھ کر تقریباً 69000 روپے ہو سکتی ہے۔ اس نے تنخواہ کے حساب کتاب کے لیے خاندان کی تعریف میں توسیع کی بھی تجویز پیش کی ہے تاکہ اس میں زیر کفالت والدین کو بھی شامل کیا جا سکے۔ ساتھ ہی تنخواہوں کے فرق پر ایک حد مقرر کرنے اور زیادہ تنخواہ میں اضافے اور مہنگائی سے منسلک بھتے دینے کی بھی تجویز دی ہے۔
حکومت اپنے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہ کے مہنگائی بھتے میں میں 2 بار، جنوری اور جولائی کے مہینوں میں اضافہ کرتی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور ملازمین و پنشنرز کی خریدنے کی قوت اور معیار زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کرنا ہے۔ مہنگائی بھتہ سرکاری ملازمین کو دیا جانے والا ایک ’کوسٹ آف لیونگ ایڈجسٹمنٹ‘ ہے، جس کا حساب بنیادی تنخواہ کے ایک مخصوص فیصد کے طور پر لگایا جاتا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو متوازن کیا جا سکے۔
دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کابینہ نے 13000 کروڑ روپے کے فنڈ کے ساتھ ایک ’سویرن میری ٹائم فنڈ‘ کو بھی منظوری دی ہے، تاکہ ہندوستانی پرچم والے، ہندوستان آنے والے اور ہندوستان سے جانے والے جہازوں کو مستحکم اور کفایتی انشورنس سیکورٹی دی جا سکے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کابینہ نے ’پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کو 2028 تک بڑھا دیا ہے، جس کے لیے 3000 کروڑ روپے کا اضافی فنڈ مختص کیا گیا ہے۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026