حوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
Awaz E Bihar••11 ویوز•5 منٹ پڑھیں
یمن کے حوثیوں نے پیر کے روز کہا کہ انہوں نے جنوبی شہر خمیس مشیط میں واقع سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ گروپ نے کنگ خالد ایئربیس کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان کے دعوے کے مطابق حملے میں طیاروں کے ہینگرز، رڈار، رن ویز، اسلحہ و گولہ بارود کے گودام اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایئربیس کوبڑا نقصان پہنچا ہے۔ حوثیوں نے کہا کہ یہ کارروائی یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی ایف-15 اور ٹائفون لڑاکا طیاروں نے گزشتہ پانچ دن کے دوران خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے یمن کے کئی صوبوں میں 300 سے زائد حملے کیے ہیں۔ حوثیوں، جنہیں باضابطہ طور پر انصار اللہ کہا جاتا ہے، نے کہا کہ وہ سعودی فوجی اہداف کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ریاض اپنی فضائی کارروائیاں بند نہیں کرتا اور یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں سے محاصرہ ختم نہیں کرتا۔ سریع نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب مزید وسیع اور شدید کارروائیوں سے دیا جائے گا اور کہا کہ گروپ سعودی عرب کی سرزمین کے اندر دور تک موجود اہداف کو نشانہ بناتا رہے گا۔ سریع نے کہاہم سعودی فوجی مراکز کو اس وقت تک نشانہ بناتے رہیں گے جب تک جارحیت ختم نہیں ہوجاتی اور یمن سے محاصرہ اٹھا نہیں لیا جاتا۔ دریں اثنا، سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے خمیس مشیط گورنریٹ میں الرٹ جاری کیا، تاہم بعد میں کہا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ اس نے رہائشیوں سے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھنے اور بھیڑ لگانے اور حملے کی ویڈیو بنانے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ یہ حملہ سعودی عرب اور ایران نواز حوثیوں کے درمیان سرحد پار جاری کشیدگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، خطے میں حوثیوں کی شمولیت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے وسیع ہونے سے خطے میں عدم استحکام اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بحیرہ احمر میں سمندری تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کا یمن میں جاری بحران سے ''قطعی طور پر کوئی تعلق'' نہیں ہے۔ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ مسلح افواج نے حوثیوں سے کئی ٹھکانے دوبارہ حاصل کر لیے ہیں اور لڑائی میں شدت کے درمیان جنوب مغربی صوبے طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق حکومتی فورسز کو فضائی حملوں کی مدد حاصل ہے، جن میں یمن کے مغربی ساحل کے ساتھ حوثیوں کے ٹھکانوں اور ان کے اجتماع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ الجزیرہ نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ''فضائیہ موخا اور ذباب اور اس کے اطراف حوثیوں پر مسلسل بمباری کر رہی ہے۔ حوثیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے پیر کے روز کہا کہ انہوں نے سعودی عرب میں اہداف پر درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق حملوں میں خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئربیس کی فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار تنصیبات، رن ویز اور گولہ بارود کے گودام شامل ہیں۔ حوثیوں نے کہا کہ یہ حملے سعودی فوجی مہم کے جواب میں کیے گئے، جس کے دوران پانچ دن میں یمن بھر میں 300 سے زائد فضائی حملے کیے گئے۔سعودی عرب کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ابہا اور خمیس مشیط کے اطراف کے علاقوں کے لیے الرٹ جاری کیے، تاہم کچھ ہی دیر بعد انہیں ختم کردیا گیا۔ یمن میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری خانہ جنگی میں جولائی سے شدت آئی ہے، جس سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی اس جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جس نے 2022 میں بڑے پیمانے پر جاری تشدد کو روک دیا تھا۔ کشیدگی میں یہ اضافہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے حوثی فورسز کی جانب سے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کے کچھ حصوں پر قبضہ کیے جانے کے بعد جھڑپوں میں مزید شدت آگئی، جس سے باب المندب آبنائے کے اطراف ان کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے۔ باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ کئی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے باب المندب کے شمال میں واقع گریٹر حنیش اور لیزر حنیش جزیروں کے کئی اہم حصوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ باب المندب ایک اہم تجارتی راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور وسیع تر بحر ہند سے ملاتا ہے اور عالمی بحری تجارت کے ایک نمایاں حصے کی نقل و حمل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اس کشیدگی سے خطے میں بحری جہازوں کی آمدورفت اور توانائی کی سپلائی میں خلل کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان وسیع تر تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں آمدورفت شدید طور پر محدود ہے۔