عالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
Awaz E Bihar••85 ویوز•10 منٹ پڑھیں
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے ملک میں ڈیجیٹل اورفزیکل بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ خود انحصاری کے بل بوتے پر عالمی عدم استحکام کے باوجود ہندستان دنیا میں سب سے تیز رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔محترمہ مرمو نے یومِ آزادی کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا، "دنیا کے متعدد علاقوں میں جنگ اور عدم استحکام کا تمام ممالک پر اثر پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں بھی ہمارے ملک کی معیشت، سب سے تیز رفتار سے بڑھتی ہوئی اہم معیشت کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ معاشی اندازوں کے مطابق، ہندستان کی شرحِ نمو دنیا کی اوسط شرحِ نمو کے مقابلے میں دوگنے سے زیادہ رہے گی۔" انہوں نے کہا کہ 'آتم نربھر بھارت‘ مہم سے ملک کی معاشی پیش رفت اور قومی سلامتی کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ثقافتی خود اعتمادی پر مبنی ترقی متحرک اور دیرپا ہوتی ہے۔صدرِ جمہوریہ نے معاشی تعاون بڑھانے نیز باہمی تعلقات کو مزید استوار کرنے کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں ہوئے آزاد تجارتی معاہدوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ملک میں تیزی سے ترقی پاتے ڈیجیٹل اور فزیکل بنیادی ڈھانچے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گاؤں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں نیز ریہڑی پٹری پر بھی ڈیجیٹل ادائیگیاں ہو رہی ہیں۔ دنیا میں آدھے سے زیادہ ریئل ٹائم ڈیجیٹل لین دین ہندستان میں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمارے اہل وطن اور حکومت نے مل کر ڈیجیٹل انقلاب کی مثال عالمی برادری کے سامنے پیش کی ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کی سہولیات کو شفاف طریقے سے عوام الناس تک پہنچایا ہے۔"محترمہ مرمو نے کہا کہ ملک میں شاہراہوں، آبی گزرگاہوں، ریل راستوں اور فضائی راستوں کی شکل میں جدید بنیادی ڈھانچے کی بے مثال توسیع ہوئی ہے۔ اس سے نئے اور جدید اداروں کے لیے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، نئے روزگار تخلیق ہو رہے ہیں نیز سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندستان کے نوجوان با صلاحیت، پرعزم اور ہنر مند ہیں۔ زمینی سطح پر نوجوانوں کے ذریعے مختلف مسائل کے نکالے گئے نئے اور عملی حل معاشرے اور ملک کے تئیں ان عہد بستگی کو ظاہر کرتے ہیں اور ملک کے سنہرے مستقبل کے تئیں اعتماد کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف 28 سال کی اوسط عمر والی نوجوان ٹیم نے حال ہی میں راکٹ کی کامیاب پرواز کر کے خلائی تحقیق کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔ متعدد نوجوان خود روزگار کا راستہ اپنا کر دوسروں کو روزگار دینے کے کلچر کو آگے بڑھا رہے ہیں اور نوجوان صنعت کاروں کی شرکت سے ملک میں مضبوط اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم تیار ہوا ہے۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ دنیا کے بڑے ادارے ہندستان کے نوجوانوں کی صلاحیت اور لگن سے متاثر ہیں اور انہیں قیادت کے عہدوں پر مقرر کر رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں نے عالمی برادری میں ہندستان کی نوجوان طاقت کی ساکھ بڑھائی ہے اور ہندستان کی نوجوان نسل کی یہ صلاحیت ملک کے سنہرے مستقبل کے تئیں ان کے اعتماد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ ہندستان کے معمار ہیں اور ان کے حال اور مستقبل کے تحفظ کے لیے تمام لوگوں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ پبلک امتحانات طلبہ کے لیے مواقع کے دروازے کھولتے ہیں، اس لیے حکومت امتحان کے نظام میں اصلاحات کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے، تاکہ نا جائز ذرائع پر مکمل طور پر بندش لگے اور امتحانی نظام مزید شفاف، محفوظ اور قابلِ اعتماد بن سکے۔محترمہ مرمو نے کہا کہ حکومت کی کوششوں اور نئی معاشی سرگرمیوں سے نوجوانوں کے لیے متعدد نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو ملک کے مستقبل کی بنیاد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاندان اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ نوجوان جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ کھیل کود کو نوجوانوں کی ترقی اور قوم کی تعمیر کے ذریعہ کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ 'کھیلو انڈیا' پروگرام کے تحت مقامی سے لے کر قومی سطح تک ملک کے تمام علاقوں کے لیے کھیل کا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت بے مثال سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اس کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں ہندستانی کھلاڑی کامیابیوں کی نئی بلندیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ دہائیوں سے نکسلی انتہاپسندی ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج بنا ہوا تھا اور نکسلی انتہاپسندی کے خاتمے کے بعد اب نکسل متاثرہ علاقوں میں تبدیلی کی ہوا صاف طور پر دکھائی دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں اب طرح طرح کے عوامی پروگرام ہو رہے ہیں، جن میں لوگوں کا ہجوم امڑتا ہے۔ اس سلسلے میں بستر اولمپکس کا انعقاد ہوا، جس میں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، بستر پنڈوم کا انعقاد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں فنکار پہنچے اور ان پروگراموں میں شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پروگراموں میں جو جوش و خروش دکھائی دے رہا ہے، وہ ان علاقوں میں آئی مثبت تبدیلی اور نئے جوش و جذبے کی علامت ہے۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ہندستان سچائی اور انصاف کے حق میں نیز انسانیت دشمن طاقتوں پر فتح حاصل کرنے کی اپنی روایت پر فخر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 جولائی کو ملک نے کارگل وجے دیوس منایا اور سات مئی کو آپریشن سندور کے آغاز کا ایک سال مکمل ہونے پر ہندستانی افواج کی بے مثال شجاعت کو یاد کیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن سندور ہندستانی افواج کی بے مثال صلاحیت کا ثبوت ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو سخت پیغام دیا گیا ہے کہ وہ کہیں بھی جا کر چھپ جائیں، انہیں ان کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔محترمہ مرمو نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملک کے ساتھ ماضی میں کیے گئے سندھ طاس معاہدے کی معطلی ملک اور بالخصوص کسانوں کے مفاد میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کا آئین ملک کے لوگوں کا بنایا ہوا ہے اور یہ شہریوں کی شراکت پر مبنی ہے۔ مادرجمہوریت ہندستان کی سرزمین کے باشندوں میں عوام کی شرکت کا جذبہ ہمیشہ سے رہا ہے اور اہل وطن اسے نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مہمات کو عوام کی شرکت کے ذریعے آگے بڑھایا جانا ہندستانی جمہوریت کی ایک حوصلہ افزا کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ وقار اوریکساں مواقع نیز فرد کا احترام آئین کے اہم آدرش ہیں۔ آج معمولی پس منظر سے آنے والے شہری متعدد شعبوں میں قابلِ ذکر اور غیر معمولی تعاون دے رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں صلاحیت اور مواقع کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔ صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ آئین میں انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کی ذمہ داریوں کی واضح وضاحت کی گئی ہے۔ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ مقننہ میں عوام کی امنگوں کی ترجمانی کریں، جبکہ انتظامیہ کی ذمہ داری عوام کے مفاد اور قومی مفاد سے جڑی پالیسیوں کو موثر طریقے سے نافذ کرنا ہے۔انہوں نے عدالتی نظام سے وابستہ ہر فرد کی ذمہ داری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی محرومی کی وجہ سے کوئی بھی شخص انصاف سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ ہر شہری، بالخصوص محروم طبقوں کے لوگوں کو مساوات کی بنیاد پر احترام کے ساتھ اور وقت پر انصاف ملنا چاہیے۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ جمہوریت کی کامیابی صرف اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار سے نہیں، بلکہ شہریوں کی فعال شرکت سے بھی یقینی ہوتی ہے۔ انہوں نے اہل وطن سے آئین کی قدروں کو مضبوط کرنے اور قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ اپنے پیغام میں کہا کہ پچھلی ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصے میں ہندستان نے تیز رفتار سے ہمہ گیر ترقی کی ہے۔ ملک نے میراث اور ترقی کے ہم آہنگی کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ ترقی میں حائل دہائیوں پرانی متعدد رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اہل وطن مہاتما جیوتی با پھولے کی 200 ویں یوم پیدائش کی تقریب منا رہے ہیں۔ مہاتما پھولے اور کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھولے نے سماجی انصاف، تعلیم، خواتین کی بااختیاری اور مساوات کے شعبے میں تاریخی تعاون دیا۔ ان کے آدرشوں کے مطابق گزشتہ کچھ سالوں میں محروم طبقوں کو آگے بڑھانے کے ہدف کو قومی ترجیح دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم کے شعبے میں کامیابی کے نئے معیار قائم ہوئے ہیں۔ ملک میں 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غریبی سے باہر نکالنے میں کامیابی ملی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی مالیاتی شمولیت کی اسکیموں میں شامل 'پردھان منتری جن دھن یوجنا' کے تحت تقریباً 59 کروڑ کھاتہ دار بینکنگ نظام سے جڑ چکے ہیں، جن میں 32 کروڑ سے زیادہ خاتون کھاتہ دار ہیں۔صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ تقریباً 80 کروڑ لوگوں کے لیے مفت راشن کے نظام کے ذریعے ان کی غذائی سلامتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ وہیں 'آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا' کے تحت تقریباً 60 کروڑ لوگوں کو ہر سال پانچ لاکھ روپے تک کی مفت طبی سہولت فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 'پردھان منتری کسان سمان ندھی’ اور 'کسان کریڈٹ کارڈ‘ جیسی اسکیموں سے زراعت، ڈیری، مرغی پالن، ماہی پروری اور شہد کی مکھیاں پالنے جیسی سرگرمیوں سے وابستہ کسان بھائی بہنوں کو سہارا ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ثقافتی خود اعتمادی پر مبنی ترقی متحرک اور دیرپا ہوتی ہے۔ آج ملک میں یہ شعور مضبوط ہو رہا ہے کہ ثقافتی فخر کا احساس ملک کی خودمختاری کو روحانی طاقت فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آبا و اجداد نے علم و سائنس، فن و ثقافت، روحانیت اور اعلیٰ اخلاق کی انمول میراث ہمارے سپرد کی ہے۔ ہندستان اسی میراث اور ترقی کی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اہل وطن کی ترقی اور فلاح و بہبود ہی وکست بھارت کی تعمیر کا حقیقی ہدف ہے۔ انہوں نے اہل وطن سے حب الوطنی اور ملک کی بھلائی کے لیے کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے تیلگو زبان کے شاعر گرج اڈا اپاراؤ کے اشعار - "دیسم نو پریمینچومننا، منچی انّدی پینچومننا۔ دیسم نٹے، مٹی کادوئے، دیسم نٹے، منشلوئے۔۔" کا ذکر کیا جن کا مفہوم ہے -- "ملک سے محبت کرو؛ بھلائی کو بڑھاؤ؛ ملک کا مطلب صرف مٹی ہی نہیں ہے۔ ملک کا مطلب تمام عوام ہیں ۔" محترمہ مرمو نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ سماج کی شرکت اور حکومت کی کوششوں سے گاؤں گاؤں میں، شہر شہر میں، ہندوستان کے گھر گھر میں رہنے والے تمام لوگ صحت مند، خوش حال اور آسودہ حال بنیں گے۔ آئیے، حب الوطنی کے اسی ہمہ گیر احساس کے ساتھ ہم سب آزاد ہندوستان کو وکست بھارت بنانے کی قومی جدوجہد میں خود کو وقف کر دیں۔"