ظفر اقبال گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی برصغیر میں ایک خاص خوشبو فضا میں پھیلنے لگتی ہے۔ یہ خوشبو صرف ایک پھل کی نہیں بلکہ ایک پورے موسم، ایک تہذیب اور ایک جذباتی وابستگی کی علامت ہوتی ہے۔ یہ خوشبو آم کی ہوتی ہے۔ آم کو بجا طور پر"پھلوں کا بادشاہ"کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ذائقے میں لاجواب نہیں بلکہ ہماری ثقافت، معیشت اور روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن آج یہ بادشاہ ایک خاموش خطرے سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، جو دنیا بھر میں قدرتی نظاموں کو متاثر کر رہی ہے، اب آم کی کاشت اور پیداوار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ یہ مسئلہ محض زرعی نہیں بلکہ معاشی، ماحولیاتی اور ثقافتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آم صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک جذباتی تجربہ ہے۔ بچپن کی گرمیوں کی چھٹیاں، گھر میں آموں کی پیٹیاں، ٹھنڈے آم کھانے کی خوشی، آم کے شیک اور آچار یہ سب ہماری یادوں کا حصہ ہیں۔ دیہی علاقوں میں آم کے باغات نہ صرف خوبصورتی کا منظر پیش کرتے ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ کسان، مزدور، ٹرانسپورٹر، تاجرسب کی معیشت کسی نہ کسی طرح آم سے جڑی ہوئی ہے۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا آم پیدا کرنے والا ملک ہے، جہاں لاکھوں ہیکٹر زمین پر آم کی کاشت کی جاتی ہے اور کروڑوں ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی آم اہم زرعی فصل ہے۔ آم کا درخت بظاہر مضبوط نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اپنے ماحول کے حوالے سے نہایت حساس ہوتا ہے۔ اس کی نشوونما اور پھل دینے کا عمل کئی موسمی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ آم کے درخت کو گرم موسم پسند ہے، لیکن ہر مرحلے کے لیے مخصوص درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔ پھول نکلنے کے وقت 24 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ بہترین سمجھا جاتا ہے۔ بہت زیادہ گرمی یا اچانک سردی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے آم کے درخت کو ایک معتدل سردی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس میں پھول آنے کا عمل شروع ہو سکے۔ اگر سردی مناسب نہ ہو تو پھول کم نکلتے ہیں، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ پھول آنے اور پھل بننے کے دوران خشک موسم ضروری ہوتا ہے۔ زیادہ نمی یا بارش اس مرحلے میں بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ آم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بارش کا وقت اور مقدار نہایت اہم ہے۔ بے وقت بارش فصل کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے مراد زمین کے درجہ حرارت، بارش کے نظام اور موسم کے عمومی پیٹرن میں طویل مدتی تبدیلیاں ہیں۔ یہ تبدیلیاں انسانی سرگرمیوں، خاص طور پر فوسل فیول کے استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی آلودگی کے باعث تیز ہو رہی ہیں۔آم کی فصل ان تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کا حیاتیاتی چکر موسمی حالات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ .غیر متوقع بارش، پھول نکلنے کے دوران بارش آم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اس دوران پھول جھڑ جاتے ہیں، جرگن (pollination) متاثر ہوتا ہے، پھل بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ یہ صورتحال کسانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ ایک بار پھول ختم ہو جائیں تو پورے سیزن کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔اگرچہ بارش نہ بھی ہو، تیز ہوائیں پھل کو درخت سے گرا سکتی ہیں۔کچے پھل گر جاتے ہیں، پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔ زیادہ نمی آم کے باغات میں بیماریوں کو بڑھاتی ہے، جیسے:فنگس، اینتھراکنوز (Anthracnose)، پاؤڈری میلڈیو۔یہ بیماریاں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ پھل کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ گرمی یا غیر معمولی درجہ حرارت آم کے درخت کے قدرتی چکر کو بگاڑ دیتا ہے۔ پھول جلدی یا دیر سے آتے ہیں، پھل صحیح طرح نہیں بنتا، ذائقہ اور معیار متاثر ہوتا ہے پہلے جہاں بارش کا ایک متوازن نظام ہوتا تھا، اب وہ بے ترتیب ہو چکا ہے۔کبھی شدید بارش، کبھی طویل خشک سالی،یہ غیر یقینی صورتحال کسانوں کے لیے منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کسانوں پر پڑتا ہے۔ جب فصل خراب ہوتی ہے تو کسان کو براہ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔قرض بڑھ جاتے ہیں، آمدنی کم ہو جاتی ہے۔مسلسل نقصان اور غیر یقینی حالات کسانوں کے ذہنی سکون کو متاثر کرتے ہیں۔ آم کی پیداوار کم ہونے سے اس سے جڑے دیگر شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں، جیسے: مزدور، ٹرانسپورٹ، مارکیٹ،آم کے باغات صرف زرعی زمین نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہوتے ہیں۔ یہ پرندوں اور کیڑوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں، زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب یہ باغات متاثر ہوتے ہیں تو پورا ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ آم ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ مہمان نوازی میں آم پیش کرنا،آم کی مختلف اقسام پر فخر، ادبی اور شعری حوالوں میں آم،اگر آم کی پیداوار کم ہو جاتی ہے تو یہ ثقافتی روایات بھی متاثر ہوں گی۔ اس آفت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جدید زرعی تکنیک، ڈرپ اریگیشن، موسمی پیشگوئی کا استعمال، بیماریوں کے خلاف بہترا سپرے وغیرہ استعمال کریں۔ سائنسدان ایسی اقسام تیار کر رہے ہیں جو زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں۔ پانی کا بہتر استعمال: پانی کے ذخائر اور مؤثر آبپاشی کے نظام اپنانا ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو مالی مدد ے، تحقیق میں سرمایہ کاری کرے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصوبے بنائے۔ عوامی شعور: لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے: ماحول دوست طرز زندگی اپنانا، درخت لگانا، وسائل کا محتاط استعمال اگر موسمیاتی تبدیلی پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں آم کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، معیار کم ہو سکتا ہے، کچھ اقسام ناپید بھی ہو سکتی ہیں۔لیکن اگر بروقت اقدامات کیے جائیں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔ آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ہماری زندگی، معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس"بادشاہ"کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور یہ خطرہ صرف کسانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس مسئلے کو سمجھیں اور اجتماعی طور پر اس کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم نے آج اقدامات نہ کیے تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں آم کو صرف کہانیوں اور کتابوں میں ہی دیکھیں۔ آم کی خوشبو، اس کا ذائقہ اور اس سے جڑی یادیں ہماری شناخت کا حصہ ہیں اور اس شناخت کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔