کلیم حیدری حضور صل اللہ علیہ وآله وسلم کے انتقال کے بعد جو پہلا لشکر حضرت ابو بکر رضی الله عنہ نے روانہ کیا وہ ان مسلمانون کے خلاف تھا جنہوں نے اپنے زکوۃ کی رقم دارالحکومت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا. گویا اسلام کے دیگر ارکان کی طرح زکوۃ میں بھی اجتماعیت کا تصور موجود ہے. نماز باجماعت میں لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی طرح زکوٰۃ کو بھی ایک جگہ بیت المال میں جمع کرنے کا حکم ہے. یہ مال یا رقم علاقے کے ضرورت مندوں پر اس طرح خرچ کی جاتی تھی کہ رفتہ رفتہ وہ زکوۃ دینے کے لائق بن جائیں. اسلام کے ابتدائی دور میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بہت سی جگہوں پر زکوٰۃ دینے والے تو سب تھے کوئی لینے والا نہیں رہا. خلافت یا اسلامی حکومت کے خاتمے کے بعد اس مرکزی نظام کا بھی خاتمہ ہو گیا. آج بھی بیت المال قائم کیے جاتے ہیں لیکن ان کی حیثیت مرکزی نہیں رہ گئی. ہر شخص خود مختار ہو گیا کہ جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے. لیکن اجتمائی یا انفرادی دونوں صورتوں میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ اس کا حقدار کون ہے۔ اسلام میں زکوٰۃ کے مصارف سات ہیں: فقیر، مسکین، عامل ، رقاب، غارم، فی سبیل اللہ اور ابن السبیل۔ 1۔۔ فقیر ایسا مسلمان شخص ہے جس کے پاس کچھ مال ہے، مگر وہ نہ صاحب نصاب ہو نہ سادات میں سے ہو. یعنی ایسا غیر سید مسلمان جو غریب اور ضروت مند ہو اس کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ 2۔ مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو، یہاں تک کہ وہ کھانے اور بدن چھپانے کے لیے بھی لوگوں سے سوال کرنے کا محتاج ہو۔ 3۔ عامل وہ ہے جسے اسلامی حکومت نے زکاۃ وصول کرنے کے لیے مقرر کیا ہو، مدرسے کا سفیر نہیں۔ 4۔ رِقاب سے مراد ہے غلامی سے گردن رہا کرانا، لیکن اب نہ غلام ہیں اور نہ اس مدّ میں اس رقم کے صرف کرنے کی نوبت آتی ہے۔ 5۔ غارم سے مراد مقروض ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ اسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے۔ 6۔ فی سبیل اللہ کے معنی ہیں راہِ خدا میں خرچ کرنا، اس کی چند صورتیں ہیں مثلاً کوئی شخص جہاد میں جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس رقم نہیں تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں، لیکن یہ بھی اب عمل میں نہیں ہے 7 ۔ابن السبیل سے مراد مسافر ہے، مسافر کے پاس اگر مال ختم ہو جائے تو اس کو بھی زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے یہ ذہن نشیں رہنا چاہیے کہ جو سید ہو یا خاندان نبوت سے ہونے کا دعوی کرے اسے زکوۃ یا صدقہ قبول کرنا جائز نہیں ورنہ لوگ ان کے علاوہ کسی کو نہیں دیتے یہ بھی واضح رہے کہ اپنے والدین، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ اور اولاد، اور اس کی نسل یعنی پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ کو اور اسی طرح میاں بیوی کا ایک دوسرے کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ یہ اگر جائز ہوتا تو ساری رقم گھر میں ہی بانٹ لی جاتی. اس کے علاوہ دیگر رشتہ دار مثلًا بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ وغیرہ اور ان کی اولاد کو دینا جائز ہے (بشرطیکہ وہ مستحقِ ہوں)، بلکہ یہ دوہرے ثواب کا باعث ہے؛ اس لیے کہ اس میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ صلہ رحمی اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک بھی ہے. لیکن سب سے کم یا برائے نام رقم ہی ان کو ملتی ہے. دوسرے ضلعے اور دوسرے صوبے کے وہ مسکین مستحق ہ جاتے ہیں جنہیں ہم جانتے بھی نہیں.اس بات پر سبھی کا اتفاق ہے کہ زکوٰۃ نہ تو مسجد میں ،نہ مدرسےیا اسکول ،نہ اسپتال و شفا خانہ و سراے میں یا کسی بھی رفاہی کام میں نہیں لگائی جا سکتی اسے فقراء ومساکین کو دے کر انہیں اس کا مالک بنانا ضروری ہے. تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں. ان رفاہی کاموں کے لیے زکوۃ کے ڈھائی فیصد دینے کے بعد بھی ہمارے پاس الله کا دیا بہت کچھ ہوتا ہے. آخر ہم سے بیشتر لوگ اپنی بیس پچیس فیصد آمدنی انکم ٹیکس میں دیتے ہی ہیں. آج زکوٰۃ کی رقم سب سے زیادہ مدرسوں میں جاتی ہے. اگر یہ کہا جائے کہ یہاں بھی غریب، یتیم مسکین بچے ہوتے ہیں ان کے کھانے پینے کا نظم اسی رقم سے ہوتا ہے تو جواز بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن زمینی سچائی کچھ اور ہے. فرضی اور جیبی مدرسوں کی بات تو جانے دیجیے، اچھے خاصے مدرسوں کے سفیر بھی پچاس فیصد کمیشن پر وصولی کرتے ہیں اور یہ کلکٹر صاحبان اپنا کمیشن کاٹ کر ہی رقم جمع کراتے ہیں. آئے دن اخبارات میں اس طرح کی اطلاعات بھی شائع ہوتی ہیں کہ فلاں صاحب مدرسے کے سفیر نہیں ہیں. ان کے پاس جو رسید ہے وہ جعلی ہے ، مدرسے کی طرف سے جاری نہیں کی گئی ہے. انہیں کوئی رقم نہ دیں. اس کے علاوہ اسی رقم کو مدرسے کے سارے مصارف میں خرچ کرنا کہاں تک مناسب ہے. چھوٹے چھوٹے مدارس کے مالکوں کے بڑے بڑے گھر بھی ایک الگ کہانی کہتے ہیں. دوسری طرف اس مالی اور معاشی نظام کی ایسی تیسی ہو رہی ہے جو سماج کے مالی اور معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والا تھا۔ معاشرے کے باشعور اور ذمہ دار لوگ اس پر توجہ دیں، مباحثوں کا انعقاد کریں ، عالموں سے گفتگو کریں، اخبارات کو اپنے ساتھ جوڑیں، ایک ماحول بنائیں تاکہ جیب کٹنے اور سامان کی چوری ہو جانے والے شریف آدمی کو ہمارے شہر میں ہی ذلت کے ساتھ دو دو روپیہ چندہ نہ مانگنا پڑے. ہمارے آس پاس قرض کے بوجھ سے کوئی خودکشی نہ کرے. ہمارے محلے میں کوئی لاولد بیوہ بھوک سے بے حال نہ ہو ، کیونکہ اب نہ ان کے پاس بچوں کو قاعدہ بغدادی پڑھانے بھیجا جاتا ہے نہ ان سے کوئی کپڑے سلواتا ہے. مثالیں موجود ہیں کہ لوگ کھڑے ہوئے اور ایک متبادل نظام سامنے آگیا۔ ضروری ہے کہ ہم کم از کم ایک بات تو ذہن نشیں کر لیں کہ زکوٰۃ کا مصرف نہ بھیک ہے نہ چندہ