آبنائے ہرمز کا کھلنا عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جہاز رانی کی آزادی بھی بحال ہوگی: ڈوول
Awaz E Bihar••15 ویوز•4 منٹ پڑھیں
قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کو عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے منگل کو کہا کہ اس سے توانائی کی سلامتی مضبوط ہوگی اور تمام ممالک کے لیے جہاز رانی کی آزادی بحال ہوگی۔مسٹر ڈوول نے آج یہاں برکس کے 16ویں اجلاس میں رکن ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’آبنائے ہرمز کا کھلنا انتہائی خوش آئند قدم ہے کیونکہ اس سے توانائی کی سلامتی کو تقویت ملے گی۔ اس اہم بحری راستے پر جہاز رانی کی آزادی کا فائدہ اس خطے اور اس سے باہر کے ممالک کو بھی حاصل ہوگا۔‘‘برکس کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی تھی۔ مسٹر ڈوول نے کہا کہ بین الاقوامی نظام اس وقت جغرافیائی سیاسی تنازعات، معاشی دباؤ اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے درمیان بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت موجودہ عالمی حکمرانی کے ڈھانچوں پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہاکہ ہم ایک نہایت ہنگامہ خیز دور میں مل رہے ہیں۔ دنیا فوجی تنازعات اور پیچیدہ سلامتی کے مسائل سے دوچار ہے۔ اسے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، معاشی دباؤ اور انقلابی ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ عالمی خطرات کا بڑھتا ہوا دائرہ اور ان کا باہمی تعلق روایتی سفارتی اور ادارہ جاتی نظام کی حدود کو نمایاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نہ صرف خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان تنازعات کو حل کرنے یا کم کرنے کے لیے موجود آلات اور ادارہ جاتی نظام بھی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کثیرجہتی نظام کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ دو روزہ اس اجلاس میں توسیع شدہ برکس گروپ کے رکن ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر اور اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ اس گروپ میں اب ایشیا، مغربی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے 11 رکن ممالک شامل ہیں۔حکام کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں انسدادِ دہشت گردی کے تعاون اور اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کی سلامتی سے متعلق برکس کے حالیہ ورکنگ گروپوں کے نتائج کا جائزہ بھی شامل ہے، جو ہائبرڈ اور ٹیکنالوجی پر مبنی خطرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ اجلاس میں روس کے سرگئی شوئیگو اور چین کے وانگ یی سمیت کئی اعلیٰ سطحی نمائندے شریک ہیں۔ اس کے علاوہ برازیل، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، ایران، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور سعودی عرب کے نمائندے بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔یہ اجلاس بھارت کی 2026 کی برکس صدارت کے تحت منعقد ہو رہا ہے۔ بھارت نے گروپ کے سلامتی اور ترقیاتی ایجنڈے کے لیے مضبوطی، اختراع، تعاون اور پائیداری کو بنیادی اصولوں کے طور پر اہمیت دی ہے۔ اجلاس کے پہلے دن پیر کو مسٹر ڈوول نے برکس ممالک کے اپنے ہم منصبوں کی میزبانی کی۔ اس اجلاس کا مقصد عالمی سلامتی اور ابھرتے ہوئے غیر روایتی سلامتی چیلنجز کا جائزہ لینا ہے۔ مسٹر ڈوول نے کئی غیر ملکی وفود کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ وانگ یی کے ساتھ ان کی ملاقات کے بارے میں بھارتی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور تعلقات کے بتدریج معمول پر آنے کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور چین کے درمیان مستحکم اور تعمیری تعلقات باہمی اعتماد اور بہتر فہم و ادراک کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی وفد نے چینی نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ ایران نے چین کی سیاسی حمایت کو سراہا اور اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ جواباً چین نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔ ایران کے سفارت خانے کے مطابق دونوں فریق آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔