’’کل مسلمانوں کا مقصد ِحیات اسلام تھا، آج مسلمانوں کا مقصد ِحیات کچھ اور ہے‘‘
Awaz E Bihar••0 ویوز•6 منٹ پڑھیں
قیصر محمود عراقی
آج کا مسلمان ایمان پہ مرنا چاہتا ہے لیکن اس پر عمل کرتا دکھائی نہیں دیتا یعنی خود کو بھی فریب دینے سے باز نہیں آتا۔ یہ خودفریبی میں مبتلا انسان آخر چاہتا کیا ہے؟ جو اپنا نہ بن سکاوہ کسی اور کا کیا بنے گا؟ اپنی زندگی کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے معین کردہ اور واضع کردہ احکامات سے جوڑنا ہی اصل زندگی ہے۔ اللہ کے وضع کردہ احکامات پر عمل درآمد دین سے دوری اختیار کرنے والوں کیلئے مشکل لگتی ہے مگر جو لوگ ان احکامات کو بجا لاتے ہیںان کے لئے کوئی گرا ںنہیںبلکہ ان احکامات کو بجا لاکر انہیں دلی سکون کے ساتھ لطف بھی آتا ہے۔ اللہ کے قرب میں زندگی بسر کرنے والے اپنی اس دنیاوی زندگی میں بھی پوری طرح مطمئن رہتے ہیں اور آخرت کی منزل بھی یقینا ان کے لئے بہت آسان ثابت ہوجاتی ہے۔ تو آئومسلمانو!اللہ کے راستے اور سنت رسولؐ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیںجس میں ہم سب مسلمانوں کی فلاح ہے اور یہی عمل ہی بندہ کو رب کے قریب کردیتا ہے۔ دیر نہ کریں، زندگی کی سانس کب اور کس وقت رک جائے اس سے قبل کچھ تیاری اس جہانِ ابدی زندگی کیلئے بھی کریں ، کچھ ذخیرہ ٔ نیک اعمال اس جہاں کیلئے بھی کریں جہاں کی زندگی ہی اصل زندگی ہے جو بہت طولانی ہے، جہاں پر تمام فیصلے میرٹ پر سر انجام دیئے جاتے ہیں، کوئی رشوت اور نہ ہی کسی کی سفارش وہاں کام آنے والی ہے بلکہ شفاف انصاف آپ کے اپنے عملوں کا آئینہ دار ہے، اس لئے زیادہ تگ ودوں کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانو!اگر ضرورت ہے تو بس اللہ کے حقوق جو بندے پر ہیں ان کی بجا آوری ، بندوں کی حقوق ، سیرت نبی پاکؐ پر اپنی زندگی کا انتخاب اور جو سہولت اللہ کی طرف سے آپ کی زندگی میں میسر ہوئے ہیں اس پر صبر وشکر کریں، چاہے جیسے بھی حالات ہوں، اس میں کوئی گلہ اور شکوہ کا عنصر نہ ہو ، بس شکر ہی شکر ہو اور رب کی عطا پر اپنے آپ کو راضی رکھنا رب کو راضی کرنے کا بہترین عمل ہے۔ آپ زیادہ سے زیادہ اپنے اڑوس پڑوس میں دکھی اور مصیبت میں گھرے اللہ کے بندوں کے ساتھ معاملات پر نظر رکھیں، اللہ تعالیٰ آپ کے بگڑے معاملات خود ہی سدھار دیگا۔ بس آپ اپنی زندگی سے شیطانی وسوسے کا خاتمہ کرتے جائیںاور اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کو سمیٹتے جائیں۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم سچ ہے کہ بعض اوقات انسانی زندگی میں مشکل سے مشکل دن بھی آتے ہیںلیکن آپ کو چاہئے کہ آپ اس وقت بجائے چیخنے چلانے کے رب کی رضا پر ثابت قدم رہیںاور شکر جیسے عمل کو ہاتھ سے نہ جانے دیںکیونکہ جو مصیبت آپ کو ملتی ہے وہ عارضی ہوتی ہے جو چند لمحوں میں ٹل جانے والی ہوتی ہے۔ اس مصیبت پر آپ کا صبر وشکر آپ کو اللہ کے قریب اور اس کے شکر گذار بندوںمیں شمار کرتا ہے اور آپ کو دوسرے لوگوں سے ممتاز کرتا ہے۔ یاد رکھیں!ہر اندھیری رات کے بعد ایک نئی صبح کا آغاز صاحب بصیرت لوگوں کیلئے ایک واضح مثال ہے، اسی طرح مشکل حالات کے بعد آسان زندگی بھی ممکن ہے اور زندگی کا مزہ بھی مشکلوں کے بعد آرام وراحت زندگی سے لطف لینے میں ہے۔ جب آپ کی زندگی میں مشکلیںنہ ہو تو آپ یقینا راحت وسکون کو بہتر طریقے سے نہیں سمجھ پائینگے، اس کو بہتر طریقے سے انجوائے نہیں کرسکیں گے۔ قارئین محترم! اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو کسی نہ کسی وجہ سے تخلیق فرمایا ہے، ہر انسان کو زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد دیا ہے کہ وہ اس دنیا میں کس مقصد کی وجہ سے آیا ہے۔ مگر آج کا انسان یہ بھول بیٹھا ہے کہ وہ کس وجہ سے اس دنیا میں آیا ہے اور اس کے جینے کا مقصد کیا ہے؟ آج ہر کوئی اپنی اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہوچکا ہے کہ وہ مقصد حیات کی طرف جانا ہی نہیں چاہتا وہ صرف نفس کی خواہشات کو حاصل کرنے کے پیچھے دوڑتا ہے۔ آج کا انسان اپنی زندگی کا مقصد اعلیٰ مقام ، اعلیٰ گاڑی اور بہت سی مال ودولت کو سمجھتا ہے، اس نفسہ نفسی کے دور میں کسی کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ وہ اس دنیا میں کس وجہ سے آیا ہے۔ آج ہم مسلمانوں کو اپنی زندگی کا مقصد جاننا چاہئے تھا مگر نہیںہم تو دنیا کی رنگینیوںمیں مصروف ہیں۔ آج مسلمانوں کی رسوائی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے روگردانی کرتے ہوئے نفسانی خواہشات کو زندگی کا مقصد بنالیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمان کسی بھی میدان میں اترے ہیںتو کامیابیوں کا علمبردار ہونے کے بعد ہی وہاں سے نکلیں ہیں کیونکہ اس وقت ان کا مقصد حیات اسلام تھا اور آج مسلمانوں کا مقصد کچھ اور ہے۔ آج تو مسلمان کو نماز پڑھنے کا بھی وقت نہیں ملتا، آج تو انسان کو اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کرنے کیلئے بھی سو بار سوچنا ہوتا ہے کیونکہ آج مسلمانوںنے آللہ کی طرف رجوع کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آج مسجدوںمیں ہجوم جمعہ کی نماز میں یا تو عیدین کی نمازوںمیں نظرآتا ہے یا پھر رمضان المبارک کے مہینہ میں اس کے بعد مساجد خالی نظر آتی ہیں کیونکہ مسلمان یہ بھول چکا ہے کہ وہ زمین پر کیوں آیا ہے۔ آج جب میں اپنے ارد گرد نظر ڈالتا ہو تو یہی سننے کو ملتا ہے کہ اس ملک جانا ہے ، مجھے یہ کام کرنا ہے لیکن کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی نے یہ کہا ہو کہ مجھے اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے دین کے لئے کام کرنا ہے ۔ ذرا سوچیں!ہم مسلمان کتنے بد قسمت ہیں ، جب زندگی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے تب ہم سمجھتے نہیں اور جب زندگی سمجھ میں آتی ہے تب ہمارے پاس زندگی ہی باقی نہیں رہتی۔ کتنے افسوس کی بات ہے نہ یہ سب باتیں انسان کو اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب انسان کے ہاتھ پیر کام کرنا بند ہوجاتے ہیں۔ مطلب جب انسان اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو اور اس فانی دنیا سے رخصت ہونے والا ہو اس وقت انسان کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ دنیا واقعی میںایک عارضی ہے اور یہاں کی سب محفلیں، رونکیں، روشنیاں، دولت ، شہرت اور عزت سب عارضی ہے اور ایک دن یہ سارا کچھ ختم ہونا ہے۔ افسوس زندگی پھر دوبارہ یہ موقع نہیں دیتی اور انسان اس خواہش کے ساتھ ہی دفن ہوجاتا ہے۔