آبنائے ہرمز دھمکیوں سے ہرگز نہیں کھلے گی: ایران کا دوٹوک اعلان
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
ایرانی فوج نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے ہرگز نہیں کھلے گی۔ ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے واضح کیا ہے کہ امریکا کو عالمی قوانین اور قوموں کے وقار کا احترام کرنا ہوگا۔ایرانی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت اور معاہدے کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ایران نے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر 60 دنوں کے لیے ٹول فری آمدورفت کی اجازت دی تھی، لیکن امریکا نے دھوکہ دہی کے ذریعے وہاں غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کی جو قابلِ قبول نہیں۔ بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکہ ایران کے حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی مسلح افواج آخری سانس تک اپنے قومی حقوق کا بھرپور اور مؤثر دفاع کرے گی۔ گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی جائے گی اور واشنگٹن 20 فی صد فیس کے عوض آبنائے ہرمز کا ’’نگہبان‘‘ بن جائے گا۔ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، یہ ناکہ بندی صبح 10 بجے (امریکی مشرقی وقت) سے نافذ ہونی تھی اور اس کا اطلاق صرف ان بحری جہازوں پر تھا جو ایران جا رہے تھے یا وہاں سے آ رہے تھے۔ امریکی سینٹکام نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی کا عمل منگل سے باقاعدہ شروع کر دیا جائے گا اور پاکستانی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات ایک بجے شروع ہوگی اور کمانڈ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد کرے گی، ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے والے بحری جہازوں کے لیے نقل و حرکت کو برقرار رکھا جائے گا۔ امریکی فوج کے مطابق اس سے قبل 13 اپریل سے 18 جون تک ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی، اس دوران 140 سے زائد بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرائے گئے، اور احکامات کی خلاف ورزی پر 9 بحری جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، جب کہ گزشتہ ناکہ بندی میں انسانی امداد کے 50 سے زائد تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔ یاد رہے کہ 22 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جب کہ امریکی محکمۂ دفاع کے اندازے کے مطابق یکم مئی تک ایران کو تیل کی آمدنی میں مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا تھا۔ عمانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ عمان آبنائے ہرمز میں آزاد جہازرانی کیلئے فریقین سے تعاون کرنے کو تیار ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق فریقین سمندری قوانین سے متعلق یواین چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پرحوثی باغیوں کےراکٹ حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور سعودی عرب کی سیکیورٹی کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ آبنائے پر کنٹرول کی جنگ کے لیے اب ایران اور عمان بھی آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ ایک اہم ایرانی عہدیدار نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ عمان تعاون کرے یا نہ کرے، آبنائے ہرمز کی صورت حال اب پہلے جیسی نہیں ہوگی۔ اس سے قبل سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے لیے نئی تجویز دی گئی ہے، کہ اس کو 2 الگ بحری راہداریوں میں بانٹ دیا جائے۔ عمان کی جانب کی جنوبی راہداری سے آزادانہ آمد و رفت جاری رکھی جائے، جب کہ ایران کی جانب کی شمالی راہداری استعمال کرنے والے جہازوں کو ایران سے پیشگی اجازت درکار ہوگی، اور مجوزہ معاہدے میں جہازوں پر کسی قسم کا ٹول عائد نہیں ہوگا۔ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اسٹریٹجک گزرگاہ اور اہم ترین دفاعی اثاثوں میں شامل ہے، ایران اس کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔ امریکی سینٹکام کا ایک بیان میں کہنا ہے آبنائے ہرمز عالمی قوانین کی پاسداری کرنے والے جہازوں کے لیے کھلی ہے، ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھتا، آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔