ایران کے سپریم لیڈر نے مسلم ممالک سے اصل دشمن کو پہچاننے کی اپیل
Awaz E Bihar••16 ویوز•4 منٹ پڑھیں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے مسلم ممالک سے اپنے اصل دشمن کی پہچان کرنے اور اس سے نمٹنے کی اپیل کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ مسٹر خامنہ ای نے پیغمبر اسلام کے یومِ ولادت اور 'اسلامی اتحاد کے ہفتے‘ کے موقع پر اتوار کو اپنے پیغام میں کہا کہ اسلامی دنیا کو مضبوط کرنے اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم اتحاد ضروری ہے۔ مسٹر خامنہ ای نے کہا، "اسلامی ممالک کے حکمرانوں، بالخصوص مغربی ایشیا کے خطے اور خلیج فارس کے ممالک کے حکمرانوں سے میری بار بار اور پرزور نصیحت ہے کہ وہ جانیں کہ ان کا اصل دشمن کون ہے۔ ان کی سازشوں کو سمجھیں اور ان کا مقابلہ کریں۔" انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو مسلم اتحاد اور دوستی کا 'کٹر دشمن’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دشمنی صرف ایران تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے خلاف ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا‘ کے پیغام کے مطابق مسٹر خامنہ ای نے کہا، "امریکہ کے مجرم حکمران اور غیر قانونی صیہونی حکومت اس اتحاد اور دوستی کے کٹر دشمن ہیں۔" پیغام میں کہا گیا، "اسلامی برادری (امت) کے مسائل کا حل بھلائی اور نیکی کی راہ پر اتحاد، دوستی اور تعاون برقرار رکھنے میں ہے۔ امریکہ کے مجرم حکمران اور غیر قانونی صیہونی حکومت اس اتحاد اور دوستی کے کٹر دشمن ہیں۔ وہ صرف اسلامک ریپبلک، ایرانی قوم اور اسلامی مزاحمت کے وسیع محاذ کے دشمن نہیں ہیں بلکہ وہ پوری اسلامی امت کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں، جس میں مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے ممالک بھی شامل ہیں۔ اس معاملے میں ان ممالک کے حکمران بھی نہیں بچتے، جن میں سے کئی ان کے اتحادی مانے جاتے ہیں اور 'گلوبل ایروگینس‘ کے لیڈروں کے ذریعہ کچھ اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے خلاف کی گئی بے عزتی اور توہین آمیز تبصرے ابھی بھی آپ کی اور ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔"مسٹر خامنہ ای نے کہا کہ مسلم ممالک کو سکیورٹی، سائنس، اقتصادی ترقی اور دیگر شعبوں میں تعاون مضبوط کرنا چاہیے۔ انہوں نے دلیل دی کہ زیادہ یکجہتی سے ایک ایسی چیز بنانے میں مدد ملے گی جسے انہوں نے 'نئی اسلامی تہذیب‘ کا نام دیا۔ انہوں نے کہا، "اسلامی امت کے مسائل کا حل بھلائی اور نیکی کی راہ پر چلتے ہوئے اتحاد، دوستی اور تعاون برقرار رکھنے میں ہے۔" انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان مذہبی، سیاسی، ثقافتی، اقتصادی اور جغرافیائی اختلافات کا فائدہ اٹھا کر پھوٹ ڈالنے کے لیے بیرونی طاقتوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ مسٹر خامنہ ای نے کہا، "وہ ہر طرح کے نسلی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی فرق کو مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا بہانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔مسٹر خامنہ ای نے مسلم حکومتوں سے علاقائی پیش رفت پر زیادہ باریکی سے نظر رکھنے کو کہا۔ انہوں نے فلسطین کے حالات اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب باہمی پھوٹ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، "لیکن دوسرا سبق یہ ہے کہ عدم اعتماد کے خلاف ایک دوسرے کا دفاع کیا جائے اور تیسرے سبق میں مسلمانوں کی زندگی کے مختلف مادی اور روحانی شعبوں- جیسے مال و دولت، سکیورٹی، سائنس اور ترقی میں تعاون اور ہم آہنگی کی کئی شکلیں شامل ہیں۔ اس کا آخری نتیجہ ایک نئی اسلامی تہذیب کا قیام ہوگا۔" انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اسلامی تہذیب بنانے کے لیے اتحاد 'سب سے اہم بنیاد ہے اور ایرانیوں نیز تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پھوٹ کو اپنے معاشرے کو کمزور نہ کرنے دیں۔