امریکی جنگی بیڑہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طویل تعیناتی کے بعد گھر واپسی کے لیے پر تولنے لگا
Awaz E Bihar••3 ویوز•3 منٹ پڑھیں
دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ 300 دن سے زائد کی ریکارڈ ساز تعیناتی کے بعد اپنے وطن واپس روانہ ہو رہا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ تقریباً 10 ماہ طویل تعیناتی کے بعد مشرق وسطیٰ سے ایران جنگ کے دوران واپس گھر جا رہا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری فائر پاور میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس بحری بیڑے کی تعیناتی میں ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لینا اور وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری جیسے مشنز شامل تھے۔ بیڑے نے طویل مشن اور بحیرہ عرب میں آپریشنز میں حصہ لیا، ایران پر سمندری پابندی اور تیل کی ترسیل روکنے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کی طویل تعیناتی کے دوران تکنیکی مسائل اور مرمت کی ضرورت بھی سامنے آئی، جہاز جیرالڈ آر فورڈ مشن کے بعد اب ورجینیا میں وسیع مرمت کے لیے واپس جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ جہاز آئندہ چند دنوں میں مشرقِ وسطیٰ سے روانہ ہو کر مئی کے وسط میں امریکی ریاست ورجینیا میں اپنے ہوم پورٹ واپس پہنچے گا۔ گزشتہ ہفتے یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش نامی بحری بیڑے کی آمد کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی تعداد 3 ہو گئی تھی، 2003 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا تھا، اسی دوران یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی جنوری سے اس خطے میں موجود ہے۔ اس ماہ جیرالڈ آر فورڈ نے ویتنام جنگ کے بعد سب سے طویل تعیناتی کا امریکی ریکارڈ توڑا، جو تقریباً 10 ماہ پر مشتمل تھی، جب وہ جون میں ورجینیا سے روانہ ہوا تھا۔ جہاز کا 295 واں دن سمندر میں گزرنے سے اس نے گزشتہ 50 سال کا ریکارڈ توڑا، جو اس سے پہلے 2020 میں 'لِنکن کے پاس تھا، جب کووِڈ-19 کے دوران وہ 294 دن تعینات رہا تھا۔ امریکی بحریہ کے اعداد و شمار کے مطابق طویل تعیناتی نے عملے کی ذہنی و جسمانی صحت، جہاز پر دباؤ، اور اس کے آلات کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر جب جہاز میں آگ لگنے کے باعث طویل مرمت بھی کرنی پڑی تھی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کو بتایا کہ یہ فیصلہ آپریشنل ضرورت کے تحت کیا گیا، کیوں کہ مختلف مواقع پر فوری طور پر اضافی فوجی وسائل درکار تھے۔ جہاز نے اپنی تعیناتی کا آغاز بحیرہ روم سے کیا، بعد میں اسے اکتوبر میں کیریبین بھیجا گیا، جہاں اسے وینزویلا کے خلاف آپریشن میں استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران جنگی کارروائیوں میں شامل ہوا اور مارچ کے آغاز میں نہر سویز کے ذریعے بحیرہ احمر میں داخل ہوا۔ تاہم جہاز میں لگنے والی آگ کے باعث اسے دوبارہ بحیرہ روم واپس جانا پڑا تھا تاکہ مرمت کی جا سکے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ 295 دن کی تعیناتی سرد جنگ کے بعد سب سے طویل تعیناتیوں میں سے ایک ہے، تاہم یہ ریکارڈ اب بھی 1972-73 میں طیارہ بردار جہاز ’’مڈ وے‘‘کے 332 دن کے ریکارڈ سے کم ہے۔