امریکہ کی کسی ڈیڈ لائن پر کوئی توجہ نہیں دیتے: ایران
Awaz E Bihar••3 ویوز•2 منٹ پڑھیں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا اپنے اہم بیان میں کہنا ہے کہ ایران امریکی تجاویز پرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کیا جائے گا ۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسماعیل بقائی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ دشمن کی جمعرات کی رات کی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی، ایرانی افواج اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ مکمل طور پرتیار ہیں اور صورتحال پر قریبی نظررکھے ہوئے ہیں۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کریں گے، ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور کسی ڈیڈ لائن پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ دوسری جانب روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کی اماراتی ہم منصب سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں روس کی جانب سے امریکہ ایران مذاکرات کی حمایت پر زور دیا گیا۔ روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے مذاکرات کی حمایت کی ضرورت ہے۔ رپورٹس کے مطابق روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ نہیں چاہتے کہ کشیدگی کے دوبارہ آغاز سے خطے کا استحکام خطرے میں ڈالا جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی دوستوں کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم کو روکنا پڑا، انھوں نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کہنے پر اسے روکا۔ انھوں نے کہا اگر ایران ڈیلیور نہیں کرتا تو پراجیکٹ دوبارہ شروع کریں گے لیکن یہ پراجیکٹ فریڈم پلس ہوگا، اور اس کےعلاوہ دیگر چیزوں پر بھی غور کر سکتے ہیں، جس میں مزید سخت اقدامات کیےجائیں گے۔ انھوں نے کہا آگے دیکھتے ہیں کہ ایران سے متعلق کیا ہوتا ہے، اس کی فوج تو ختم ہو چکی ہے، دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ معاملات بہت اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران انھوں نے کہا ایران کے اندر میناب اسکول حملے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جب یہ تحقیقات مکمل ہوں گی تو رپورٹ جاری کر دی جائے گی۔ دریں اثنا، امریکی صدرٹرمپ کی سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں آج رات ایران سے جواب موصول ہو سکتا ہے، امریکی پیشکش پر آج ایران سے جواب مل سکتا ہے۔