امریکہ یوکرین اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں
Awaz E Bihar••10 ویوز•7 منٹ پڑھیں
امریکہ، امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی کیف میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ اہم مذاکرات کے بعد امریکہ، یوکرین اور روس کے درمیان براہِ راست سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ یہ مذاکرات وٹکاف اور کشنر کی ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کے ایک روز بعد ہوئے۔ کشنر نے کہا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ سہ فریقی فارمیٹ کی واپسی مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، "ایک چیز جس کے بارے میں اسٹیو (وٹکاف) اور میں نے محسوس کیا کہ وہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے، وہ سہ فریقی فارمیٹ کی طرف واپسی ہے، جسے ہم تقریباً چھ ماہ قبل اختیار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔" انہوں نے کہا کہ اس فارمیٹ کے ذریعے تینوں فریق براہِ راست ایک دوسرے سے بات کر سکیں گے، بجائے اس کے کہ واشنگٹن کو ماسکو اور کیف سے الگ الگ بات کرکے ایک دوسرے تک پیغام پہنچانا پڑے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ "اس معاملے میں بہت جلد پیش رفت ہوگی۔" زیلنسکی نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ یوکرین اپنے یورپی شراکت داروں کو شامل کرتے ہوئے وسیع تر مذاکرات پر بھی غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ سہ فریقی ملاقاتیں ہوں، یا سہ فریقی ملاقاتوں میں ہمارے یورپی شراکت دار بھی شامل ہوں۔ اب دیکھتے ہیں کہ روس کس چیز پر رضامند ہوتا ہے۔" زیلنسکی نے بتایا کہ تین ادوار پر مشتمل "بہت اہم مذاکرات" ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کیف میں ہونے والی بات چیت تین ادوار میں ہوئی، جبکہ آخری نشست میں یورپی نمائندے بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا، "آج ہمارے تین ادوار میں مذاکرات ہوئے۔ یہ تمام مذاکرات انتہائی اہم اور نتیجہ خیز رہے۔" وٹکاف اور کشنر کے کیف کا سفر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت پر بھی اظہار تشکر کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا، "ہماری اچھی بات چیت ہوئی۔" زیلنسکی نے آنے والے موسم سرما کے دوران یوکرین کو درپیش چیلنجز، بالخصوص فضائی دفاع اور توانائی کی ضروریات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، "اگر جنگ موسم سرما تک جاری رہتی ہے تو ہمیں موسم سرما کے پیکیج سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔" انہوں نے کہا کہ یوکرین فضائی دفاع کے لیے مدد، توانائی کے شعبے میں معاونت اور امریکہ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خاطر خواہ مقدار حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ زیلنسکی نے کہا، "ہم فضائی دفاع اور توانائی کے شعبے کے لیے حمایت کے ساتھ ساتھ امریکی ایل این جی کی خاطر خواہ مقدار اور اسے استعمال کرنے کی صلاحیت پر انحصار کر رہے ہیں۔" زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات صرف فوجی سلامتی تک محدود نہیں رہے بلکہ ان میں یوکرین کی طویل مدتی اقتصادی بحالی اور تعمیر نو بھی شامل رہی۔ انہوں نے کہا، "ہم صرف سکیورٹی ضمانتوں ہی نہیں بلکہ یوکرین کے لیے اقتصادی ضمانتوں پر بھی بات کر رہے ہیں، تاکہ ملک بحال اور دوبارہ تعمیر ہو سکے۔" انہوں نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی یوکرین کی مسلح افواج مضبوط رہنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا، "ہماری فوج مضبوط ہونی چاہیے اور ہمارے لیے یہ ایک اہم سکیورٹی ضمانت ہے۔" زیلنسکی نے کہا کہ کسی بھی ضمانت کو اتنا قابلِ اعتبار ہونا چاہیے کہ مستقبل میں روسی جارحیت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا، "ضمانتیں مضبوط اور واضح ہونی چاہئیں۔ ہمیں مستقبل کے کسی بھی چیلنج سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔" یوکرینی صدر نے کہا کہ تینوں فریقوں نے یوکرین کے مستقبل اور اس کے اقتصادی خوشحالی کے منصوبے پر بھی بات کی، جبکہ یورپی حکام بھی مذاکرات میں شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا، "یوکرین، یورپ اور امریکہ مستقبل قریب میں ملاقات کریں گے۔" سفارتی کوششوں میں نئی پیش رفت کے باوجود ایک اہم ترین مسئلہ، یعنی علاقائی تنازع، بدستور مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ علاقائی مسئلے کو مذاکرات کی ورکنگ سطح پر آسانی سے حل نہیں کیا جا سکتا اور بالآخر اس کے لیے تینوں ممالک کے رہنماؤں کی سطح پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ زیلنسکی نے کہا، "علاقائی مسئلہ بدستور اہم ہے۔ میرے خیال میں اس طرح کے پیچیدہ مسائل صرف رہنماؤں کی سطح پر ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔" مذاکرات کے سابقہ ادوار میں بھی علاقائی مسئلے اور سکیورٹی ضمانتوں پر اختلافات کے باعث پیش رفت مشکل رہی ہے، جس سے بنیادی سیاسی مسائل اب تک حل طلب ہیں۔ دریں اثنا، کیف روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے واشنگٹن سے مزید اقدامات کا خواہاں ہے۔ یوکرینی فریق نے کہا کہ وہ سینیٹر لنڈسے گراہم کی کوششوں پر انحصار کر رہا ہے، جنہیں کیف یوکرین کا مضبوط حامی قرار دیتا ہے، تاکہ نئے پابندیوں کے پیکیج کے لیے امریکی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یوکرینی فریق نے کہا، "یوکرینی فریق لنڈسے گراہم، جو یوکرین کے عظیم دوست ہیں، کی کوششوں پر انحصار کر رہا ہے تاکہ امریکہ کی جانب سے اس کی مثبت منظوری حاصل کی جا سکے۔" کیف نے کہا کہ اسے "ان پابندیوں سے بہت توقعات ہیں" اور اسے امریکی سینیٹ میں اس پیکیج پر ووٹنگ کی امید ہے۔ یوکرینی فریق کے مطابق اتوار کے مذاکرات کے دوران امریکی وفد نے اس معاملے کو نہیں اٹھایا، تاہم حکام نے کہا کہ سینیٹ پابندیوں کے پیکیج کا فعال اور مثبت جائزہ لے رہی ہے۔ یوکرینی حکام نے سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کے ان بیانات کا بھی حوالہ دیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اس پیکیج کی منظوری کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ یوکرینی فریق نے کہا، "ہم ووٹنگ کے منتظر ہیں۔" امریکی خصوصی ایلچی وٹکاف نے پوتن کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کو "نتیجہ خیز گفتگو" قرار دیا اور کہا کہ ماسکو اور کیف دونوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "پوتن کے ساتھ ہماری اچھی اور ٹھوس بات چیت ہوئی۔" انہوں نے مزید کہا، "اگر آپ کے دونوں فریقوں کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں اور آپ کا رابطہ بھی کمزور ہے تو پرامن حل تک پہنچنے کے امکانات بہت، بہت کم رہ جاتے ہیں۔" کیف میں مذاکرات کے بعد وٹکاف نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مجھے یقین ہے کہ یہاں ایک اچھا حل نکلے گا۔" کیف میں ہونے والی ملاقات سے قبل ہفتے کو کریملن میں وٹکاف، کشنر اور پوتن کے درمیان تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس کے بعد امریکی وفد نے روسی صدر کے ساتھ عشائیہ بھی کیا۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو "مفید" قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد نے اس دورے کے لیے "سنجیدگی سے تیاری" کی تھی۔ اوشاکوف کے مطابق امریکی نمائندوں نے جلد از جلد لڑائی ختم کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا اور تصفیے کے ممکنہ راستوں سے متعلق "کئی تجاویز اور غور طلب نکات" پیش کیے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن اور ماسکو نے سفارتی عمل کے اگلے مرحلے کے لیے ٹھوس منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا، "دونوں فریقوں نے اگلے اقدامات کے لیے ٹھوس منصوبوں پر بات کی، جن کا اعلان آنے والے ہفتوں میں کیا جائے گا۔" اس طرح تازہ سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنا دکھائی دیتا ہے، جبکہ یوکرین اس کے ساتھ ساتھ مضبوط سکیورٹی ضمانتوں، فوجی امداد، توانائی کی معاونت اور ماسکو پر مغربی دباؤ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ تاہم کیف کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا سفارت کاری ایسے معاہدے کا باعث بن سکتی ہے جو جنگ کا خاتمہ تو کرے لیکن یوکرین کو مستقبل میں کسی اور روسی حملے کے خطرے سے دوچار نہ چھوڑے۔